0

ناول: اللہ میں تیری رضا میں راضی ہوں از عائشہ تحریم

 اللہ میں تیری رضا میں راضی ہوں(حصہ اول)


عائشہ تحریم ، کمالیہ

کیا ہو اگر آپ سے آپ کے کسی گناہ یا ناشکری کی وجہ سے کوئی صلاحیت چھین لی جائے، ایسی صلاحیت جو خاص ہو، ایسی صلاحیت جو آپ کو دوسروں سے منفرد بناتی ہو۔ اور آپ کو احساس تک نہ ہو اور جب احساس ہو تو شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔ 

یہ کہانی بھی کچھ ایسی ہے، مکافات عمل کی کہانی۔ انسان بڑے بڑے گناہ کر دیتا ہے اور ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچتا کہ ان گناہوں کا انجام اسے کس مقام پر کھڑا کر سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں نہ انسان خدا کے سامنے گناہ کرنے سے نہیں ڈرتا، مگر گناہ کا لوگوں کے اوپر فاش ہو جانے سے ڈرتا ہے۔ انسان گناہ کرنے سے ۔نہیں ڈرتا مگر موت سے ڈرتا ہے۔

آج چھ مہینے ہونے کو تھے، اور کیتھرین نے کچھ نہیں لکھا تھا۔ پبلشر جب بھی فون کر کے پوچھتا وہ کوئے نہ کوئی بہانا بنا دیتی۔ وہ کہتے ہیں نہ انسان کے پاس اس کے ہر عمل کی وضاحت ہوتی ہے پھر چاہے وہ صحیح ہو یا غلط ۔ کبھی کہتی کہ وہ مصروف ہے تو کبھی کچھ۔ اسے خود بھی احساس نہیں ہوا تھا کہ چھ ماہ گزر گئے تھے۔ 

کیتھرین کبھی بھی اپنے لکھنے کی عادت سے زیادہ دیر دور نہیں رہ پاتی تھی، کبھی رائٹر بلاک کا شکار بھی ہوتی تو زیادہ سے زیادہ بیس دن، مگر ان دنوں بھی وہ لکھنے کی کوشش نہیں چھوڑتی تھی۔ مگر اس دفعہ چھ ماہ گزر گئے تھے اور اس نے قلم کاغذ کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ آگے بھی نہ لگاتی مگر اب پبلشر کی طرف سے دباؤ بڑھنے لگا تھا۔ وہ پچھلے پانچ سالوں سے لکھتی آرہی تھی، اور اس کا شمار ان چند لکھاریوں میں ہوتا تھا جنہوں نے بہت کم عرصے میں شہرت پائی تھی۔ وہ اب تک پانچ کتابیں لکھ چکی تھی، اور اس کی ہر ایک کتاب نے شہرت پائی تھی۔ 

چھ ماہ پہلے اس نے اپنے ایک انٹرویو میں اگلے چھ ماہ میں ایک اور کتاب پبلش کروانے کا وعدہ کیا تھا اور اب تک اس نے ایک لفظ نہیں لکھا تھا۔ چھ ماہ ختم ہونے کو تھے، یہ اس کی ساکت کا سوال تھا۔ 

اس نے ٹھان لی تھی کہ اب وہ لکھے گی۔ وہ قلم کاغذ لیے اپنے سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی تھی۔ 

مگر پچھلے دو گھنٹے میں وہ ایک لفظ بھی نہیں لکھ پائی تھی۔ اس کا دماغ جو ہر وقت کوئی نہ کوئی سوچ تخلیق کرتا رہتا تھا، آج خالی تھا بالکل سفید ورقے کی طرح۔ وہ مسلسل اسے کام میں لانے کی کوشش کر رہی تھی مگر مجال کوئی ایک لفظ کوئی ایک خیال بھی دماغ میں آئے۔ اسے اس کے دماغ کی تھیں واضح محسوس ہونے لگیں تھیں۔ شاید اس کا وہم، یا شاید وہ درد کر رہیں تھیں۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ پچھلے چھ ماہ میں آج اسے پہلی بار نہ لکھنے پر غصہ اور درد اور تکلیف کا امتزاج محسوس ہو رہا تھا۔ مگر وہ بےبس تھی۔ 

(اس کا کمرہ چھوٹا تھا مگر خوبصورت تھا۔ ایک دیوار کے تقریباً وسط میں دروازہ اور اس کے ساتھ ایک بک شیلف اور سامنے والی دیوار پر ایک کھڑکی اور اس کے سامنے اس کا سٹڈی ٹیبل اس طرح پڑا تھا کہ کھڑکی سے باہر صاف دکھائی دیتا تھا۔ اور دائیں جانب بند اور بائیں دیوار کے ساتھ شیشہ اور اس کے کپڑوں والا سٹینڈ۔ اس کا کمرہ مختلف اشیاء سے سجا ہوا تھا جن میں پینٹنگز، لائٹس وغیرہ شامل تھیں۔ )

بیس اپریل میں صرف دس دن باقی تھے۔ بیس اپریل وہ دن تھا جس دن کتاب سرعام پر لانے کا کیتھرین نے شو میں سب کے سامنے پورے گھمنڈ سے وعدہ کیا تھا۔ 

یہ ممکن تھا کہ وہ معذرت کر لیتی اور کہتی کہ کتاب مکمل نہیں ہوئی ابھی تک مگر اس طرح وہ سنجیدہ لوگوں کی فہرست سے خارج ہو سکتی تھی۔ 

اور دوسرا یہ اس کی انا کے بھی خلاف تھا۔ اسی انا کی وجہ سے اس نے آج تک کوئی دوست نہ بنائی تھی۔ اگر دوست ہوتی تو اسے اس کی بات ماننا پڑتی مگر وہ چاہتی تھی کہ سب بس اس کا حکم مانیں۔

آج اس کے پاس بات کرنے یا اپنا دل ہلکا کرنے کے لیے کوئی نہیں تھا۔ اسے مختلف پلیٹ فارم سے کالز آرہیں تھیں، اس سے اس کی کتاب کے متعلق سوال پوچھے جا رہے تھے۔

تین دن گزر گئے، وہ مسلسل کوشش کر رہی تھی مگر ناکام۔

آخر اس کی ہمت جواب دینے لگی۔ 

اس نے پتہ نہیں کیا سوچ کر فون آن کیا اور چیٹ جی پی ٹی کھولا۔  اور پھر  بیس اپریل وہ کتاب مکمل کیے ہوئے تھی۔ ہاں اس نے تھوڑا بہت چیٹ جی پی ٹی کے الفاظ میں رد و بدل کیا تھا۔ مگر شاید وہ خود بھی مطمئن نہیں تھی۔ خیر بیس اپریل کو اس کا پہلا انٹرویو ہوا، اس سے کتاب کے متعلق سوال پوچھے جانے لگے، جو کہ اس نے اندازے سے پہلے ہی رٹ لیے تھے۔ مگر اس کے اندر کا خوف اسے کھا رہا تھا لہذا اس نے کہیں اور انٹرویو نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ 

جہالت، بے حسی اور غلط فیصلوں کی نذر ہوتی ایک بے قصور زندگی… کیا ساس کی ضدو جہالت اور شوہر کی غفلت رضیہ کی جان لے لے گی؟ پڑھیے علینہ خان کا تحریر کردہ دل کو چھو لینے والا افسانہ “بے مول”۔


خیر کتاب پبلشر کو بھیجی گئی، کچھ دنوں بعد وہ ریجیکٹ ہو کر واپس آگئی۔ 

پتہ نہیں کیسے مگر یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ مشہور رائٹر کیتھرین اپنی کتابوں کو لکھنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتی ہیں۔ یہ اس کی پچھلی پانچ کتابوں پر بھی سوال بن گیا۔ اس کا کیرئیر محض چند گھنٹوں میں تباہ ہو گیا تھا۔ اس کے سالوں کی محنت پانی کی طرح بہہ گئی تھی۔ 

اب وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ اس سے اس کی لکھنے کی صلاحیت چھین لی گئی تھی، اگر چلو مان لیتے ہیں واپس بھی مل جاتی تو وہ اب اس کے لیے کسی کام کی نہیں تھی۔ 

ٹھیک ہے اس کے پاس اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے کئی وضاحتیں تھیں، جیسے کہ ہر انسان کے پاس ہوتیں ہیں مگر کہیں نہ کہیں اس سب کی زمہ دار وہ بھی تھی بلکہ وہی تھی۔ بس وہ یہ ماننے کو ابھی بھی تیار نہیں تھی۔ 

لیکن آپ نے وہ تو سنا کو گا کہ جو آپ سوچتے ہیں اس کا اثر آپ کی زندگی پر ہوتا ہے۔ جی ایسا ہی ہے ہر وقت کے سوالات ، ہر وقت کا لوگوں کا شک، اسے اس بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسے بھی اپنے اوپر شک ہونے لگا تھا۔ اسے شاید خود بھی لگنے لگا تھا کہ وہ کبھی بھی خود نہیں لکھ سکتی جبکہ یہ پوری طرح غلط تھا۔ خیر اس کا دماغ دوبارہ سے بہت سے خیالات پیدا کرنے لگا تھا، جنہیں وہ جھٹکنا چاہتی تھی مگر ناکام۔ اسے اب یہ ایک عذاب سے کم نہیں لگتا تھا۔ 

کیتھرین میں لاکھ برائیاں صحیح مگر ایک اچھی عادت تھی وہ تھک جاتی تھی مگر کبھی ہار نہیں مانتی تھی۔ دو ہفتے گزرے اور اس نے دوبارہ ہمت اکھٹی کی مگر اس بار خود لکھنا شروع کرنے کی بجائے اس نے ایک اکیڈمی میں داخلے کا سوچا۔ جہاں اسے داخلہ لینے کے لیے بہت سے لوگوں نے مشورہ دیا تھا مگر اسے خود پر اتنا گھمنڈ تھا کہ اس نے داخلہ لینے سے انکار کر دیا تھا، آج وہ گھمنڈ چکنا چور ہو گیا تھا۔ 

کیا کیتھرین کا گھمنڈ خاک میں مل جائے گا؟ جاننے کے لیے دوسری قسط ابھی پڑھیں! 👇



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں