سموگ کی آمد قریب سائنسی حل کیا ہے؟
از قلم: طارق بلال لیل
ستمبر آتے ہی لاہور کا آسمان دھندلا ہونے لگتا ہے۔ سانس لینا مشکل، آنکھوں میں جلن، ہسپتالوں میں مریضوں کی لائنیں۔ یہ سموگ نہیں، یہ ہماری غفلت کا دھواں ہے جو اب ہم خود پی رہے ہیں۔
سائنس کہتی ہے سموگ 3 چیزوں سے بنتی ہے: گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کا زہر اور کھیتوں میں پرالی جلانا۔ اور افسوس کہ تینوں ہم خود کر رہے ہیں۔
WHO کے مطابق لاہور دنیا کے 10 آلودہ ترین شہروں میں ہے۔ AQI یعنی Air Quality Index 300 سے اوپر چلا جائے تو یہ “خطرناک“ زمرے میں آتا ہے۔ نتیجہ؟ بچوں کا دمہ، بڑوں کا دل کا دورہ، نوجوانوں میں پھیپھڑوں کا کینسر۔ ڈاکٹر کہتے ہیں: “سموگ کا مریض 10 سگریٹ روز پی رہا ہے۔“
سائنس کے پاس 4 بڑے حل ہیں۔
پہلا حل ٹریفک کا ہے: الیکٹرک بس، میٹرو اور سائیکل کلچر۔ 1 الیکٹرک بس = 40 گاڑیوں کا دھواں کم۔ لیکن ہم نے 10 سال میں کتنی الیکٹرک بسیں لائیں؟ انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔
دوسرا حل فیکٹریوں کا ہے: سائنس کہتی ہے فیکٹری کی چمنی پر “فلٹر“ لگانا لازمی ہے۔ جو فیکٹری فلٹر نہ لگائے، اس کا کنکشن کاٹ دو۔ لیکن یہاں رشوت چلتی ہے، فلٹر نہیں۔
تیسرا حل درختوں کا ہے: 1 درخت 1 سال میں 22 کلو CO2 جذب کرتا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں لاہور کو کم از کم 30% گرین کور چاہیے۔ ہمارے پاس؟ 3% بھی نہیں۔ ہم پارک بیچ کر پلازے بنا رہے ہیں۔
چوتھا حل کسان کا ہے: پنجاب میں اکتوبر میں پرالی جلتی ہے۔ سائنس نے “ہیپی سیڈر“ مشین بنا دی جو پرالی کو کھاد بنا دیتی ہے۔ لیکن حکومت سبسڈی نہیں دیتی، کسان مجبور ہے آگ لگانے پر۔
قرآن کہتا ہے: “زمین میں فساد نہ کرو جبکہ اسے سنوارا گیا ہے۔“
نبی ﷺ نے فرمایا: “اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تمہارے ہاتھ میں پودا ہو تو اسے لگا دو۔“
تو سموگ کا علاج بھی عبادت ہے۔ درخت لگانا صدقہ ہے۔ پانی ضائع نہ کرنا عبادت ہے۔
اب کرنا کیا ہے؟
حکومت کے لیے: 6 ماہ پہلے پلان بنے۔ سموگ سیزن میں اسکول بند کرنے سے پہلے فیکٹریاں بند کریں۔
عوام کے لیے: ہفتے میں 1 دن گاڑی گھر چھوڑ دیں۔ گھر میں 2 پودے لگائیں۔ کچرا نہ جلائیں۔
علماء کے لیے: جمعہ میں “ماحول کی صفائی نصف ایمان ہے“ پر خطبہ دیں۔
سموگ کا حل “ماسک“ نہیں، “ماسک“ لگانا ہے—یعنی چہرے پر نہیں، نظام پر۔
اگر آج ہم نے سائنس کی نہ سنی تو کل ہماری نسلیں آکسیجن سلنڈر کے ساتھ پیدا ہوں گی۔ لاہور “پیرس“ نہیں بن سکتا لیکن “صاف لاہور“ ضرور بن سکتا ہے۔ شرط صرف ایک ہے: نیت کا خلوص۔
دعا ہے اللہ ہمیں زمین کا خلیفہ بنائے، زمین کا دشمن نہیں۔ آمین۔
