تخیل کے اس منطقے میں، جہاں زمان و مکاں کی طنابیں ٹوٹ جاتی ہیں، میں نے تمہاری محبت کا اعتکاف کیا ہے۔ میرے وجود کے نہاں خانوں میں اب تمہاری یاد کی قندیلیں اس درجہ فروزاں ہیں کہ کائنات کا ہر دوسرا اجالا تیرہ و تار محسوس ہوتا ہے۔
میں ہوا کی شوخیوں میں تمہارے لہجے کی کھنک اور مہتاب کی چاندنی میں تمہارے چہرے کی جھلک تلاش کرتی ہوں۔
میری روح اب مٹی کے اس قفس کی اسیر نہیں رہی، بلکہ تمہارے عشق کے اس طلسم کدے میں مقیم ہے جہاں ہوش و خرد کے پیمانے اپنی وقعت کھو دیتے ہیں۔ میں نے اپنی ہستی کو تمہاری ذات کے اس اتھاہ سمندر میں غرق کر دیا ہے جس کا کوئی ساحل نہیں۔ یہ وہ مقامِ فتا ہے جہاں ’میں‘ اور ’تم‘ کا فرق مٹ کر ایک وحدتِ کیف میں بدل چکا ہے۔
دنیا والے مصلحتوں کے درس دیتے ہیں، وہ مجھے زمینی رشتوں اور سماجی دیواروں کا خوف دلاتے ہیں۔ مگر انہیں کیسے سمجھاؤں کہ جب محبت اپنی معراج پر پہنچ کر ماورائی ہو جائے، تو تعزیراتِ وقت بے معنی ہو جاتے ہیں۔ میں نے تمہارے نام کا وہ وِرد کیا ہے جس کے بعد اب کوئی دوسرا لفظ میری سماعتوں پر گراں گزرتا ہے۔
لوگ اسے دیوانگی کہیں یا خود فراموشی، مگر میرے لیے یہی معراجِ بندگی ہے۔ مصلحتوں کے اس شہر میں اب میری وارفتگی کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی، کیونکہ اہلِ خرد کے نزدیک مہر و وفا کے یہ تمام سلسلے، یہ والہانہ پن اور یہ عشقِ جنوں اب ممنوع ہو گیا ہے۔
علینہ خان

