0

ایک ہی زمین و ردیف پر آٹھ عظیم شعراء کی لازوال غزلیں | صغیر جعفری

 زمین و ردیفِ واحد: کاشتکار ایک سے زائد

ایک ہی زمین و ردیف میں آٹھ عظیم شعراء کی تخلیقی انفرادیت کا حسین امتزاج۔

صغیر جعفری

شائقینِ اردو ادب و زبان، خاص کر اردو شاعری پسند فرمانے والے احباب کی خدمت میں توشہ خاص پیش ہے۔ ایک ہی زمین و ردیف پر مختلف شعراء نے اپنے خیالات و افکار کس خوبصورتی سے پیش کیے ہیں، ملاحظہ فرمائیں۔

ان قادرالکلام شعراء کی غزلیں احباب کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف!

— صغیر جعفری

۱. وسیم بریلوی

شام تک صُبْح کی نظروں سے اُتر جاتے ہیں

اِتنے سمجھوتوں پہ جِیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

ہم تو بے نام اِرادوں کے مُسافر ٹھہرے

کچھ پتا ہو تو بتائیں کہ کِدھر جاتے ہیں

گھر کی گِرتی ہُوئی دِیوار ہے ہم سے اچھّی

راستہ چلتے ہُوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں

اِک جُدائی کا وہ لمحہ، کہ جو مرتا ہی نہیں

لوگ کہتے تھے سبھی وقت گُزر جاتے ہیں

پھر وہی تلخئ حالات مُقدّر ٹھہری

نشے کیسے بھی ہوں کُچھ دِن میں اُتر جاتے ہیں

۲. شکیل بدایونی

جب کبھی ہم ترے کوچے سے گزر جاتے ہیں

لوحِ ادراک پہ کچھ اور ابھر جاتے ہیں

حسن سے لیجئے تنظیمِ دو عالم کا سبق

صبح ہوتی ہے تو گیسو بھی سنور جاتے ہیں

ہم نے پایا ہے محبت کا خمارِ ابدی

کیسے ہوتے ہیں وہ نشے کہ اتر جاتے ہیں

اتنے خائف ہیں مے و مہ سے جنابِ واعظ

نامِ کوثر بھی جو سنتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں

مے کدہ بند، مقفل ہیں درِ دَیر و حرم

دیکھنا ہے کہ شکیلؔ آج کدھر جاتے ہیں

۳. جاوید اختر

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں

چھت کی کڑیوں سے اُترتے ہیں مرے خواب مگر

میری دیواروں سے ٹکراکے بکھر جاتے ہیں

اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی

سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں

راسته روکے کھڑی ہے یہی الجھن کب سے

کوئی پوچھے تو کہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں

نرم آواز، بھلی باتیں، مہذب لہجے

پہلی بارش میں ہی یہ رنگ اُتر جاتے ہیں

۴. شکیل جمالی

لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں

عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں

موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا مگر آج

اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں

زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے

لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں

پاؤں میں اب کوئی زنجیر نہیں ڈالتے ہم

دل جدھر ٹھیک سمجھتا ہے ادھر جاتے ہیں

کیا جنوں خیز مسافت تھی ترے کوچے کی

اور اب یوں ہے کہ خاموش گزر جاتے ہیں

یہ محبت کی علامت تو نہیں ہے کوئی

تیرا چہرہ نظر آتا ہے جدھر جاتے ہیں

۵. نادر لکھنوی

سر کٹا کر صفت شمع جو مر جاتے ہیں

نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں

لاکھوں کا خون بہائیں گے وہ جب ہوں گے جواں

جو لڑکپن میں لہو دیکھ کے ڈر جاتے ہیں

جنبش تیغ نگہ کی نہیں حاجت اصلاً

کام میرا وہ اشاروں ہی میں کر جاتے ہیں

ان کو عشاق ہی کے دل کی نہیں ہے تخصیص

کوئی شیشہ ہو پری بن کے اتر جاتے ہیں

برق کی طرح سے بیتاب جو ہیں اے نادرؔ

تار گھر کس کی وہ لینے کو خبر جاتے ہیں

۶. احمد نثارؔ

ہم بھی گمنام کسی نام پہ مرجاتے ہیں

اور مر کر بھی تِرا نام ہی کر جاتے ہیں

جانے کس نام سے رشتوں کو نبھانا ہے ہمیں

اور کس نام سے ایام گذر جاتے ہیں

وقت کی شام کسی نے نہیں دیکھی لیکن

شام کا وقت تِرے نام ہی کر جاتے ہیں

جس طرف جاکے کوئی لوٹ کے آیا ہی نہیں

جانے کیوں لوگ اسی راہ گذر جاتے ہیں

اپنی منزل کا پتہ پوچھتے پھرتے پھرتے

جانے کس راہ پہ جانا تھا کدھر جاتے ہیں

زیست کو زیست کی صورت نہیں دیکھی ہم نے

چاہتِ زیست لیے جیتے ہیں مر جاتے ہیں

میرے اندر بھی کئی موج ابھرتے ہیں نثارؔ

جانے کیوں کر میرے اندر ہی اتر جاتے ہیں

۷. محسنؔ نقوی

حبسِ دنیا سے گزر جاتے ہیں

ایسا کرتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

کیسے ہوتے ہیں بچھڑنے والے؟

ہم یہ سوچیں بھی تو ڈر جاتے ہیں

دل جو ٹوٹے تو سرِ محفل بھی

بال بے وجہ بکھر جاتے ہیں

اب نہ دیکھو میری بنجر آنکھیں

چڑھتے دریا تو اتر جاتے ہیں

دھوپ کا روپ رچانے والے

شام کو اور نکھر جاتے ہیں

اب نہ مڑ مڑ کر پکارو ان کو

لوگ رستے میں ٹھہر جاتے ہیں

خالی دامن سے شکایت کیسی؟

اشک آنکھوں میں تو بھر جاتے ہیں

تم کہاں جاؤ گے سوچو محسنؔ؟

لوگ تھک ہار کے گھر جاتے ہیں…!

۸. عباس تابش

دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس

جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا

ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کر چُپ چاپ

ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں

اُن کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے

جو ہمیں زہر پِلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابشؔ

جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں

انتہائی عرق ریزی سے یہ تحفہ و توشہ خاص ترتیب دیا گیا ہے۔ اگر صغیر جعفری کی یہ کاوش پسند آئے تو اپنی رائے سے ضرور نوازئیے گا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں