پاک فوج عزم و ایثار کی روشن داستان
تحریر: سید ساجد علی شاہ
وطن صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ اُن ماؤں کی دعاؤں، اُن بہنوں کی امیدوں، اُن بچوں کی مسکراہٹوں اور اُن شہداء کے لہو سے عبارت ہوتا ہے جنہوں نے اپنے آج کو قوم کے کل پر قربان کر دیا۔ جب کسی سرحد پر گولی چلتی ہے تو اس کی آواز صرف پہاڑوں سے نہیں ٹکراتی بلکہ ہزاروں گھروں کے دلوں میں بھی گونجتی ہے۔ کسی مورچے میں کھڑا سپاہی صرف دشمن کا سامنا نہیں کر رہا ہوتا بلکہ وہ اپنے پیچھے بسنے والے کروڑوں انسانوں کے سکون، آزادی اور مستقبل کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔
ہم اکثر آزادی کے سائے میں زندگی گزارتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سکون کے پیچھے کتنی بے خواب راتیں، کتنی کڑی آزمائشیں اور کتنی خاموش قربانیاں پوشیدہ ہیں۔ سرحدوں پر کھڑے جوانوں کی زندگی آسان نہیں ہوتی؛ کبھی برف سے ڈھکے پہاڑ، کبھی تپتے ہوئے صحرا، کبھی گھنے جنگلات اور کبھی سیلابی پانی ان کا امتحان لیتے ہیں۔ ان کے لیے موسم کی شدت، دن اور رات کا فرق، عید اور عام دن کی تقسیم تقریباً ختم ہو جاتی ہے کیونکہ ان کے لیے سب سے مقدم فرض کی ادائیگی ہوتی ہے۔
جب کسی شہید کے گھر سبز ہلالی پرچم میں لپٹا تابوت پہنچتا ہے تو اس منظر کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ایک ماں اپنے لختِ جگر کو آخری بار دیکھتی ہے مگر آنسوؤں کے ساتھ اس کی زبان پر شکر کے الفاظ بھی ہوتے ہیں کہ اس کے بیٹے نے وطن کی عزت پر اپنی جان قربان کر دی۔ ایک باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کو رخصت کرتا ہے لیکن اس کے چہرے پر صبر کی وہ روشنی ہوتی ہے جو صرف عظیم قربانی دینے والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ ایک بیوی عمر بھر کی رفاقت کی یادیں سینے سے لگا کر زندگی کا سفر جاری رکھتی ہے اور ننھے بچے اپنے والد کی تصویر کو سینے سے لگا کر بڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہ دکھ ہیں جو اخبارات کی سرخیوں سے کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔
قومی سلامتی صرف ہتھیاروں سے قائم نہیں رہتی بلکہ اس کے پیچھے ایمان، نظم، قربانی اور مسلسل جدوجہد کا کردار ہوتا ہے۔ ایک فوج کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں سے پہلے اس کے سپاہیوں کے حوصلے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب قوم اپنے محافظوں پر اعتماد کرتی ہے تو دفاع کی دیوار مزید مضبوط ہو جاتی ہے اور جب محافظ اپنے عوام کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں تو دشمن کی ہر سازش کمزور پڑ جاتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس سرزمین نے ایسے بیٹے پیدا کیے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کے لیے امن کی شمع روشن رکھی۔ بے شمار سپاہی ایسے بھی ہیں جن کے نام شاید تاریخ کی کتابوں میں نمایاں نہ ہوں مگر ان کی قربانیاں اس وطن کی مٹی میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو چکی ہیں۔ یہی گمنام ہیرو دراصل قوموں کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد نے پاکستان کے ہزاروں خاندانوں کو غم عطا کیا۔ کتنے ہی جوان ایسے تھے جو صبح گھر سے نکلے مگر واپس نہ لوٹے۔ کتنے ہی افسروں نے اپنے ساتھیوں کے کندھوں پر آخری سانس لی مگر وطن کے دفاع کا عزم کمزور نہ ہونے دیا۔ ان قربانیوں نے قوم کو یہ سبق دیا کہ امن کی قیمت ہمیشہ قربانی سے ادا کی جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک مضبوط ملک صرف فوج سے نہیں بنتا اور نہ ہی صرف عوام سے؛ اصل طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ریاستی ادارے اپنے اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے ملک کی سلامتی، قانون کی بالادستی، معاشی استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے مشترکہ کوشش کریں۔ اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حصہ ہے لیکن قومی مفاد ہر اختلاف سے بالاتر ہونا چاہیے۔ جب قوم تقسیم کا شکار ہوتی ہے تو دشمن کو حملہ کرنے کے لیے ہتھیاروں سے زیادہ ہمارے باہمی اختلافات مدد دیتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شہید صرف ایک خاندان کا فرد نہیں رہتا، وہ پوری قوم کی امانت بن جاتا ہے۔ اس کے بچوں کی تعلیم، اس کے والدین کی عزت، اس کی بیوہ کی دلجوئی اور اس کے خوابوں کی تکمیل صرف ریاست ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم شہداء کی قربانیوں کا حقیقی احترام کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں دیانت، قانون کی پاسداری، اتحاد اور محنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، نئی جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ معیشت، اطلاعات، ٹیکنالوجی اور بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں قومی استحکام صرف سرحدوں کے تحفظ کا نام نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق، معاشی خود کفالت، سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مضبوط، باوقار اور پُرامن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
آئیے، ہم ان تمام شہداء، غازیوں اور اُن کے اہلِ خانہ کو سلام پیش کریں جنہوں نے اپنی خوشیوں کو قوم کی سلامتی پر قربان کیا۔ وطن کا قرض صرف نعرے لگا کر ادا نہیں ہوتا بلکہ اپنے کردار، اپنے عمل اور اپنی دیانت سے ادا کیا جاتا ہے۔ جب ہر شہری اپنی ذمہ داری کو عبادت سمجھ کر نبھائے گا تو پاکستان کا مستقبل یقیناً زیادہ محفوظ، زیادہ مضبوط اور زیادہ روشن ہوگا۔
یہی وہ عزم، یہی وہ وفا اور یہی وہ ایثار ہے جس نے پاکستان کو ہر آزمائش میں سنبھالا ہے، اور یہی وہ جذبہ ہے جو آنے والے کل کی امید بھی ہے۔
