موبائل نے گھر چھین لیا
تحریر: سید ساجد علی شاہ
وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا؛ انسان کی ضروریات، ذرائع اور طرزِ زندگی بدلتے رہتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان کو بے شمار سہولتیں عطا کی ہیں۔ انہی ایجادات میں موبائل فون ایک ایسا انقلاب ہے جس نے پوری دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔ آج دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص سے چند لمحوں میں رابطہ ممکن ہے۔ تعلیم، تجارت، صحت، بینکاری، سرکاری امور اور معلومات کے حصول میں موبائل ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے، لیکن ہر نعمت کا غلط استعمال اسے زحمت بنا دیتا ہے؛ اور یہی المیہ آج ہمارے گھروں میں جنم لے چکا ہے۔ بظاہر موبائل نے فاصلے ختم کیے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نے دلوں کے فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ اسی لیے آج یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ “موبائل نے گھر چھین لیا۔“
کبھی ایسا وقت تھا کہ شام ہوتے ہی پورا خاندان ایک دسترخوان پر جمع ہوتا تھا۔ بزرگوں کی باتیں، بچوں کی شرارتیں، والدین کی شفقت اور بہن بھائیوں کی ہنسی سے گھر گونج اٹھتے تھے۔ رات کے کھانے کے بعد گھنٹوں گفتگو ہوتی، مسائل پر مشورے ہوتے اور رشتوں میں محبت مزید گہری ہوتی۔ آج وہی دسترخوان موجود ہے، مگر ہر ہاتھ میں موبائل ہے، ہر نگاہ اسکرین پر جمی ہوئی ہے اور ہر زبان خاموش ہے۔ گھر وہ جگہ ہوتا ہے جہاں انسان سکون تلاش کرتا ہے، لیکن آج گھروں میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد ایک دوسرے سے بے خبر ہیں۔ والد اپنے موبائل میں مصروف، والدہ سوشل میڈیا میں گم، نوجوان ویڈیوز اور گیمز میں کھوئے ہوئے اور بچے بھی کارٹون یا شارٹ ویڈیوز دیکھنے میں مگن ہیں۔ جسم ایک جگہ موجود ہیں مگر دل ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بچوں کی تربیت کو پہنچ رہا ہے۔ بچہ اپنی پہلی درسگاہ گھر کو سمجھتا ہے اور اس کا پہلا استاد ماں باپ ہوتے ہیں۔ جب والدین بچوں کو وقت دینے کے بجائے موبائل کو ترجیح دیتے ہیں، تو بچے بھی یہی طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان میں برداشت، ادب، صبر، خاندانی اقدار اور سماجی تعلقات کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ آج کئی بچے والدین سے زیادہ موبائل کو اپنا دوست سمجھتے ہیں، جو لمحۂ فکریہ ہے۔
موبائل نے میاں بیوی کے تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ پہلے فرصت کے لمحات ایک دوسرے کے ساتھ گزرتے تھے، اب وہ وقت سوشل میڈیا، ویڈیوز اور چیٹنگ کی نذر ہو جاتا ہے۔ جب گفتگو کم ہوتی ہے، تو غلط فہمیاں بڑھتی ہیں، اعتماد متاثر ہوتا ہے اور محبت کی جگہ خاموشی لے لیتی ہے۔ مضبوط خاندان کی بنیاد صرف ایک چھت نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے لیے نکالا گیا وقت ہوتا ہے۔ ہمارے بزرگ اس معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اور پوتے پوتیاں ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کی باتیں سنیں اور ان کے تجربات سے سیکھیں، مگر اکثر وہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ یہ تنہائی صرف ان کی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔
ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ موبائل نے بچوں اور نوجوانوں کو جسمانی سرگرمیوں سے بھی دور کر دیا ہے۔ کھیل کے میدان ویران ہوتے جا رہے ہیں، کتابوں سے محبت کم ہو رہی ہے اور آنکھوں کے امراض، ذہنی دباؤ، بے خوابی اور مختلف نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی مصنوعی زندگی دیکھ کر احساسِ کمتری، بے چینی اور مایوسی بھی بڑھ رہی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ موبائل ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے؛ اصل مسئلہ اس کا بے جا اور بے مقصد استعمال ہے۔ اگر یہی موبائل تعلیم، تحقیق، دینی معلومات، کاروبار اور مثبت رابطے کے لیے استعمال ہو تو یہ ایک بہترین نعمت ہے، لیکن جب یہ انسان کے وقت، توجہ اور رشتوں پر قبضہ جما لے تو نقصان یقینی ہے۔
اسلام بھی ہمیں اعتدال، صلہ رحمی اور اہلِ خانہ کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حسنِ معاشرت، والدین کے احترام، اولاد کی تربیت اور رشتہ داروں سے تعلق جوڑنے کی تلقین فرمائی۔ اگر موبائل ان ذمہ داریوں میں رکاوٹ بن جائے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
اس مسئلے کا حل مشکل نہیں، صرف مضبوط ارادے کی ضرورت ہے۔ گھر میں روزانہ ایک یا دو گھنٹے “نو موبائل ٹائم“ مقرر کیا جائے۔ کھانے کے دوران موبائل استعمال نہ کیا جائے۔ والدین بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی باتیں سنیں، ان کے ساتھ کھیلیں اور انہیں کتابوں، مطالعے اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ ہفتے میں کم از کم ایک دن خاندان کے ساتھ تفریح، ملاقات یا اجتماعی نشست کے لیے مخصوص کیا جائے۔ والدین کو خود بھی عملی نمونہ بننا ہوگا؛ کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے گھر میں دیکھتے ہیں۔ اگر والدین ہر وقت موبائل میں مصروف رہیں گے، تو بچوں سے مختلف رویے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو اپنی خدمت کے لیے استعمال کریں، نہ کہ خود اس کے غلام بن جائیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر بچے بڑے ہو گئے، والدین دنیا سے رخصت ہو گئے یا رشتوں میں دوریاں آ گئیں، تو پھر کوئی موبائل، کوئی ایپ اور کوئی سوشل میڈیا ان لمحوں کو واپس نہیں لا سکے گا۔ آئیے آج ہی یہ عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں کو دوبارہ محبت، احترام، مکالمے اور اپنائیت سے آباد کریں گے۔ ہم موبائل کو اپنی ضرورت تک محدود رکھیں گے اور اپنے پیاروں کو ان کا حق دیں گے؛ کیونکہ آخرکار گھر وائی فائی کے سگنل سے نہیں، بلکہ محبت، خلوص، دعاؤں اور ایک دوسرے کے لیے نکالے گئے وقت سے آباد ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی خود کو نہ بدلا، تو آنے والی نسلیں شاید جدید ترین موبائل تو رکھتی ہوں گی، مگر ایک پُرسکون اور خوشحال گھر سے محروم ہوں گی۔ اور پھر تاریخ یہی لکھے گی کہ “موبائل نے واقعی گھر چھین لیا۔“

