0

معجزۂ سماعت از علینہ خان

مری سماعت کے دشتِ بے برگ و بار میں
ترا لہجہ۔۔

 کسی قدیم معبد کی گھنٹی سا ہے

 جس کی گونج سے 

میری روح کے نہاں خانوں میں چراغ جل اٹھتے ہیں

 تمہاری گفتگو کا یہ شور 

زمانے بھر کے سکوت سے زیادہ معتبر ہے

 تمہارے لبوں سے جھڑتے ہوئے حرف

 جیسے کسی تپتی دوپہر میں 

گھنی بیری کی چھاؤں کا لمس ہوں

 وہ جو تم بات کرتے ہوئے

 اچانک رک کر، اک گہرا سانس لیتے ہو

وہ توقف۔۔ مری دھڑکنوں کا حاصل ہے

 تمہارے لہجے میں جو شہد جیسی مٹھاس ہے 

اور آواز کے اتار چڑھاؤ میں جو وقار ہے 

وہ کسی آبشار کے بہاؤ جیسا سحر رکھتا ہے

تمہارا وہ دھیمے سے مسکرا دینا

اور پھر کسی پرانے قصے کی گرہ کھولنا

فضا میں خمارِ سماعت گھول دیتا ہے

 مجھے اب دنیا کے ہنگاموں سے گلہ نہیں

 بشرطیکہ۔۔ پسِ منظر میں تیری آواز ہو

 ترا وہ تمکنت بھرا لہجہ،

وہ لفظوں کا سحر انگیز چناؤ 

اور میرا نام لینے کا وہ مخصوص انداز 

جس سے مری ہستی کو بقا ملتی ہے

 ہاں! مجھے اس شور سے محبت ہے

 جو تیرے وجود کی خوشبو سے معطر ہو

 جو تری سانسوں کے ارتعاش سے جنم لے 

اور میری روح کے تاروں کو چھیڑ دے

 !سنو! جانِ تمنا

مرا یہ ماننا ہے، یہی میرا یقین ہے 

کہ جب تک فضاؤں میں ترا لب و لہجہ باقی ہے 

میری زندگی، کسی مکمل کتاب کی طرح

! محبت کے سحر میں، سانس لیتی رہے گی

علینہ خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں