0

غلطی ہائے مضامین مت پوچھ۔ – ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 غلطی ہائے مضامین مت پوچھ۔

تحریر: صغیر جعفری

گو کہ میں بذاتِ خود شاعر و نقاد نہیں ہوں، مگر عرصہ دراز سے استادِ محترم بیدل حیدری کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کے بعد، الحمدللہ اتنا شعری شعور آگیا ہے کہ علمِ عروض کی روشنی میں جو بحور و اوزان پختہ شاعری کے لیے لازم و ملزوم ہیں، اس کا استعمال شاعر نے کس خوبی و خوبصورتی سے کیا ہے یا محض تک بندی کی گئی ہے۔ اور پھر ہر شاعر کا اندازِ بیان الگ الگ ہوتا ہے؛ اگر اس شاعر کے کلام کو کسی اور شاعر کے نام کے ساتھ منسوب کر دیا جائے تو فوراً نشان دہی ہو جاتی ہے۔

اردو زبان و ادب اور خاص طور پر شاعری میں کچھ غلطیاں اتنی پختہ ہو گئی ہیں کہ اب وہ غلط العوام ہو گئی ہیں اور ان کی اصلاح کرنے والا خود تذبذب و آزمائش میں پڑ جاتا ہے کہ اسے تنقید و تنقیص کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

مثلاً؛ میر تقی میر کا یہ شعر جب بھی پڑھا، لکھا یا بولا جاتا ہے تو اس کا متن یہی ہوتا ہے:

میر کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

حالانکہ میر تقی میر کے کسی بھی مستند کلیات کا مطالعہ کر لیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ میر نے شعر کے دوسرے مصرع میں “لونڈے“ کا لفظ ہرگز استعمال نہیں کیا۔ میر کا کہا ہوا صحیح مصرع یہ ہے:

ع: اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

آپ نے اخبارات و رسائل میں سینکڑوں دفعہ درج ذیل شعر علامہ اقبال کے حوالے سے پڑھا ہو گا:

تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لئے

تحقیقی حوالے کے ساتھ ثابت ہے کہ یہ شعر علامہ اقبال کا ہرگز نہیں ہے، بلکہ شکرگڑھ (سیالکوٹ) کے ایک ایڈووکیٹ سید صادق حسین کا ہے۔ ان کی ایک مختصر کتاب ”برگِ سبز“ 1976ء میں شائع ہوئی تھی جس میں یہ شعر موجود ہے۔ غالباً لفظِ “عقاب“ کی وجہ سے یہ شعر علامہ اقبال سے منسوب کر دیا جاتا ہے اور سید صادق حسین کو ان کے اکلوتے مشہورِ زمانہ شعر سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔

اردو کا ایک ضرب المثل شعر مقررین اکثر اپنی تقاریر اور کالم نویس اپنے کالموں میں استعمال کرتے ہیں:

وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

یہ شعر آغا شاعر قزلباش کے ایک شاگرد مہاراج بہادر برق کا ہے اور غلط طور پر میر تقی میر سے منسوب ہے۔ آپ میر کے چھ دیوان پڑھ لیں، کہیں بھی آپ کو یہ شعر نظر نہیں آئے گا۔ دہلی میں 1884ء میں پیدا ہونے والے مہاراج بہادر برق کے مذکورہ بالا شعر کا پہلا مصرع ذہن نشین فرما لیں:

ع: وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا

بہادر شاہ ظفر کا درج ذیل شعر کس نے نہیں سُنا ہو گا:

کتنا ہے بدنصیب ظفر، دفن کے لئے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

عوام الناس نے اسی غزل کے حوالے سے ایک اور شعر بھی بہادر شاہ ظفر سے منسوب کر رکھا ہے:

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں

یہ شعر بہادر شاہ ظفر کا بالکل نہیں بلکہ سیماب اکبر آبادی کا ہے۔ ان کی 1947ء میں شائع ہونے والی کتاب ”کلیم عجم“ میرے پاس موجود ہے۔ سیماب نے زیرِ بحث شعر کا پہلا مصرع اس طرح کہا تھا:

ع: عمر دراز، مانگ کے لائی تھی چار دن

بڑے پڑھے لکھے اور اعلیٰ ادبی ذوق رکھنے والے حضرات بھی درج ذیل شعر کو کبھی علامہ اقبال اور کبھی حالی سے منسوب کر دیتے ہیں:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

یہ شعر قرآنِ حکیم کی اس آیت کا ترجمہ ہے: لَا يُغَيِّرُ اللَّهُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ۔ اور یہ منظوم تخلیقی ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا ہے۔ یہ شعر 1937ء میں شائع ہونے والی مولانا ظفر علی خان کی کتاب ”بہارستان“ میں شامل ہے۔

ایک اور شعر جو کبھی میر تقی میر اور کبھی امیر مینائی سے منسوب کر دیا جاتا ہے، وہ یہ ہے:

شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

یہ شعر نہ تو میر تقی میر کا ہے اور نہ ہی امیر مینائی کا ہے، بلکہ یہ شعر محمد یار خاں امیر کا ہے اور شعر کا درست متن بھی یوں ہے:

شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

مصحفی کا یہ شعر ضرب المثل کی طرح مشہور ہے:

مَیں عجب یہ رسم دیکھی، مجھے روزِ عیدِ قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب اُلٹا

یہی شعر پہلے مصرعے کی تبدیلی کے ساتھ اِنشا سے بھی منسوب ہے:

یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروزِ عیدِ قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الُٹا

قاضی عبدالودود نے تحقیق کے بعد ثابت کیا ہے کہ یہ شعر مصحفی ہی کا ہے۔

کالم کا دامن چونکہ مختصر ہوتا ہے، اس لیے مَیں تفصیلات میں جائے بغیر چند اشعار کا درست متن اور اُن کے حقیقی خالق شاعروں کے نام درج کر رہا ہوں:

  • اس دین کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

    اُتنا ہی یہ اُبھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے

    (صفی لکھنوی)

  • اس کو ناقدریِ عالم کا صلہ کہتے ہیں

    مر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا

    (برج نرائن چکبست)

  • افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی

    خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے

    (آزاد انصاری)

  • باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے

    جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہَوا دینے لگے

    (ثاقب لکھنوی)

  • نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

    کسی کام میں جو نہ آ سکے مَیں وہ ایک مشتِ غبار ہوں

یہ شعر جاں نثار اختر کے والد مضطر خیر آبادی کا ہے، جو ہمیشہ بہادر شاہ ظفر کو سونپ دیا جاتا ہے۔ 1887ء میں کلیاتِ ظفر پہلی دفعہ شائع ہوا تھا، پھر 1918ء میں پانچواں ایڈیشن چھپا تھا، ان میں یہ شعر شامل نہیں ہے۔ جاں نثار اختر نے اپنے ایک مضمون میں باقاعدہ طور پر یہ وضاحت کی کہ ان کے والد کی غزل غلط طور پر بہادر شاہ ظفر سے منسوب کر دی گئی ہے۔

ابھی مزید کئی غلطیوں کی نشاندہی اور اصلاح باقی ہے، مگر مضمون کے طویل ہو جانے کے خدشے سے اسی پر اکتفا کر رہا ہوں۔

یار زندہ صحبت باقی۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں