معصوم اذان کی بازیابی: خوشی کا لمحہ اور ایک فکری سوال
علینہ خان (ٹوکیو)
کراچی کے علاقے نیا ناظم آباد سے دو روز قبل پیش آنے والا ہولناک واقعہ، جس نے پورے شہر اور ہر باحس انسان کو لرزا کر رکھ دیا تھا، آخرکار ایک خوش آئند موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ تھانہ منگھوپیر کی حدود سے ایک سنگدل موٹر سائیکل سوار شخص نے ڈھائی سالہ معصوم اذان علی خان کو اس وقت اغوا کر لیا جب وہ چند لمحوں کے لیے نگاہوں سے اوجھل ہوا۔ اس واقعے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی تو ہر دل پریشان اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔
واقعے کی سنگینی اور حساسیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری اور باہم مربوط حکمتِ عملی اپنائی۔ ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کی زیرِ نگرانی خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے جدید تکنیکی ذرائع، جیوفینسنگ اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تفصیلی فوٹیجز کی مدد سے ملزم کا سُراغ لگایا۔ پولیس نے بروقت اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ٹھٹہ کے قریب چھاپہ مار کر معصوم اذان کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔ پولیس حکام کے مطابق تمام قانونی و طبی تقاضے پورے کرنے کے بعد بچے کو اس کے والدین کے سپرد کر دیا گیا ہے، جبکہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
بچے کی بحفاظت واپسی یقیناً ایک ایسا لمحہ ہے جس نے نا صرف ایک تڑپتے ہوئے خاندان کو نئی زندگی دی ہے، بلکہ معاشرے کے ہر ذی شعور فرد کو سکون کا سانس فراہم کیا ہے۔ اس کامیاب اور تندہی سے کی گئی کارروائی پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بلاشبہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ تاہم، اس پر مسرت موقع کے ساتھ ہی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک انتہائی تلخ، مگر ناگزیر بحث نے جنم لیا ہے جو ہمارے اجتماعی ضمیر اور معاشرتی رویوں کو جھنجوڑنے کے لیے کافی ہے۔ اس پورے سانحے کے دوران وائرل ہونے والی مختلف ویڈیوز اور مناظر میں متعدد صارفین اور سوشل میڈیا مبصرین نے بچے کی والدہ کے مبینہ طرزِ عمل پر گہری تشویش اور تنقید کا اظہار کیا ہے۔ اس انتہائی نازک، کربناک اور خوفناک وقت میں بھی جب بچے کی زندگی داؤ پر لگی تھی، اسکرین اور موبائل فون سے مسلسل جڑے رہنے کا منظر ایک ایسا دھچکا تھا جس نے ہر دیکھنے والے کو ششدر کر دیا۔ یہ منظر محض ایک فرد کے رویے کا عکاس نہیں، بلکہ ہمارے موجودہ دور کی ایک خوفناک اور تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
آج کا دور تکنیکی پیش رفت کا دور تو ہے، مگر اس نے انسان کو جذباتی طور پر مفلوج اور غافل بنا دیا ہے۔ ماضی میں مائیں بچوں کی ذرا سی آہٹ پر بھی بے چین ہو جاتی تھیں اور ان کی ہر حرکت پر نگاہ رکھنا ان کا فطری تقاضا ہوتا تھا۔ لیکن آج اسکرین کی جادوئی دنیا نے اس فطری حس کو سن کر دیا ہے۔
-
توجہ کا بکھراؤ: سوشل میڈیا کے نوٹیفیکیشنز، لائیکس اور لائیو ویڈیوز کی دھن نے اپنوں کی موجودگی اور ان کی حفاظت جیسے اہم ترین فرائض کو ثانوی حیثیت دے دی ہے۔
-
حساسیت کا خاتمہ: دکھ، درد یا خوف کے نازک ترین لمحے میں بھی ترجیح یہ بن چکی ہے کہ اسے کیمرے کی آنکھ میں کیسے محفوظ کیا جائے یا آن لائن دنیا کو کیا دکھایا جائے۔ جذبات کا یہ مصنوعی اظہار ہماری حقیقی صلاحیتِ فکر کو دبا رہا ہے۔
-
غفلت کی بھاری قیمت: بچہ چند سیکنڈز کے لیے نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے اور کوئی درندہ اس کا فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ معصوم اذان کی بازیابی تو اللہ تعالی کے فضل اور پولیس کی محنت سے ایک معجزہ بن کر سامنے آ گئی، لیکن ہر بار معجزے نہیں ہوتے۔ ہزاروں واقعات ایسے ہیں جہاں ذرا سی غفلت نا قابلِ تلافی نقصان پر ختم ہوتی ہے۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، ایک تنبیہ ہے!
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم ڈیجیٹل دنیا کے اتنے پابند ہو چکے ہیں کہ زندگی کی سب سے قیمتی امانتیں—ہمارے بچے—ہماری اسکرین پر جمی نگاہوں کی نذر ہو جائیں؟ مائیں معاشرے کا بنیادی ستون اور تربیت و تحفظ کا پہلا مرکز ہوتی ہیں۔ اگر یہی مرکز توجہ کی کمی اور ورچوئل دنیا کی مصنوعی چکا چوند کا شکار ہو جائے تو پورے معاشرے کا تحفظ اور جذباتی نظام تلپٹ ہو جاتا ہے۔
اذان کی مسکراہٹ اور اس کی اپنے گھر واپسی ہمارے لیے شکر گزاری کا مقام تو ہے ہی، مگر یہ ہر ماں، ہر باپ اور ہر سرپرست کے لیے ایک زوردار تازیانہ اور لمحہ فکریہ بھی ہے۔ موبائل اور ڈیجیٹل دنیا کی غلامی سے خود کو آزاد کیجیے، اس سے پہلے کہ یہ غفلت کسی ایسے اندھیرے میں دھکیل دے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ ہو۔
