0

قلم، عقیدہ، سچائی | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 عنوان: قلم، عقیدہ، سچائی

قلم، عقیدہ، سچائی کے موضوع پر ارم کاشف کے اسلامی کالم کی نمایاں تصویر، جس میں مسلمان ادیب، قلم کی امانت، سچائی اور اسلامی ادب کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل۔

از قلم: ارم کاشف

ادب انسانی جذبات، افکار اور مشاہدات کو مؤثر انداز میں بیان کرنے کا عظیم فن ہے۔ ایک ادیب محض الفاظ کا خالق نہیں بلکہ معاشرے کا حساس شعور، اپنے عہد کا نباض اور قوم کے فکری سفر کا رہنما ہوتا ہے۔ اس کی تحریر نسلوں کے خیالات، اقدار اور کردار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بات ایک مسلمان ادیب کی ہو تو یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اس کی پہلی وفاداری سچائی، جمالیات یا عقیدے میں سے کس سے ہونی چاہیے؟

بظاہر یہ تینوں عناصر الگ الگ محسوس ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں ایک مسلمان ادیب کے لیے یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ البتہ ان میں بنیادی حیثیت عقیدے کو حاصل ہے، کیونکہ عقیدہ ہی سچائی کی پہچان عطا کرتا ہے اور جمالیات کو صحیح سمت بخشتا ہے۔ اسلام میں عقیدہ محض چند نظریات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ فکر اور طرزِ حیات ہے، جو انسان کو حق و باطل، خیر و شر اور حسن و قبح میں امتیاز کرنا سکھاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

“کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہو، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جس کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو؟” (سورۂ محمد: 14)

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قلم کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

“نۤ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ” (سورۂ القلم: 1)

یہ آیت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ قلم محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے، جسے حق، عدل اور خیر کے فروغ کے لیے استعمال کرنا اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے۔ عقیدے کی یہی پختگی ادیب کے قلم کو وقتی مفادات، مصلحتوں اور باطل نظریات کی غلامی سے محفوظ رکھتی ہے۔ علامہ اقبال نے مومن کی متوازن شخصیت کو یوں بیان کیا ہے:

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

ایک مسلمان ادیب اگر اپنے عقیدے سے وفادار ہے تو وہ سچائی سے کبھی روگردانی نہیں کر سکتا، کیونکہ اسلام حقیقت کو چھپانے یا مسخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآنِ کریم کا واضح حکم ہے:

“حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ۔” (سورۂ البقرہ: 42)

رسولِ اکرم ﷺ نے حق گوئی کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

“افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔” (سنن ابی داؤد)

اس لیے مسلمان ادیب کا قلم ظلم، ناانصافی، فکری گمراہی اور اخلاقی انحطاط کے خلاف صدائے حق بلند کرتا ہے۔ وہ نہ مصلحت کے سامنے جھکتا ہے اور نہ ہی مقبولیت کی خاطر حق کا سودا کرتا ہے۔ علامہ اقبال نے ایمان، عمل اور مقصد کی قوت کو ان الفاظ میں سمو دیا ہے:

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

یہ شعر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مضبوط عقیدہ، مسلسل عمل اور انسانیت سے محبت ہی وہ قوتیں ہیں جو قلم کو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہنے دیتیں بلکہ اسے تعمیرِ انسانیت کا ذریعہ بنا دیتی ہیں۔

جمالیات بھی ادب کا ایک لازمی جزو ہے، کیونکہ حسنِ بیان ہی خیال کو دلوں تک پہنچاتا ہے۔ اسلام حسن کا دین ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔” (صحیح مسلم)

لہٰذا مسلمان ادیب اپنے فن میں ایسا حسن پیدا کرتا ہے جو اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ ہو، روح کو تازگی بخشے اور قاری کے ذوق کی تربیت کرے۔ وہ فحاشی، عریانی یا محض لفظی چمک کو جمالیات نہیں سمجھتا بلکہ حسنِ اظہار کو خیر، حکمت اور اصلاح کا ذریعہ بناتا ہے۔ علامہ اقبال نے فن اور کردار کے باہمی تعلق کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے:

دلبری بے قاہری جادوگری ہے

قاہری بے دلبری چنگیزی ہے

یعنی حسنِ بیان اگر حق سے خالی ہو تو محض فریب بن جاتا ہے، اور حق اگر مؤثر اندازِ بیان سے محروم ہو تو اس کا اثر محدود رہ جاتا ہے۔ کامل ادب وہی ہے جہاں حق بھی ہو اور حسنِ اظہار بھی۔ اقبال ہی کا ایک اور شعر مسلمان ادیب کی ذمہ داری کو مزید واضح کرتا ہے:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

یہ شعر اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ محض علم یا خوب صورت الفاظ کافی نہیں، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ قلم کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اگر ادیب کا عمل، فکر اور تحریر حق کے تابع ہوں تو اس کا ادب معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے، اور اگر وہ سچائی اور اخلاق سے ہٹ جائے تو وہی قلم گمراہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کا یہ مشہور قول مسلمان ادیب کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا:

“حق کو آدمیوں سے نہیں، بلکہ آدمیوں کو حق سے پہچانو۔” (قولِ مبارک)

یہی اصول ادیب کو شخصیات، گروہوں اور وقتی مفادات سے بلند کر کے صرف حق کا وفادار بناتا ہے۔

نتیجتاً، ایک مسلمان ادیب کی پہلی وفاداری عقیدے سے ہونی چاہیے، کیونکہ یہی اس کی فکر، کردار اور قلم کی سمت متعین کرتا ہے۔ سچائی اسی عقیدے کا لازمی تقاضا ہے، جبکہ جمالیات اس سچائی کو مؤثر، دل نشیں اور پائیدار انداز میں پیش کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ جب عقیدہ بنیاد، سچائی پیغام اور جمالیات اظہار بن جائیں تو ادب محض تفریح یا جذبات نگاری نہیں رہتا بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر کا مؤثر وسیلہ بن جاتا ہے۔

آج کا مسلمان ادیب اگر اپنے عقیدے کو بنیاد، سچائی کو شعار اور جمالیات کو اسلوب بنا لے تو اس کا قلم محض الفاظ نہیں لکھے گا بلکہ کردار تراشے گا، شعور بیدار کرے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کے مینار تعمیر کرے گا۔ ایسے قلم کا مقصد صرف لکھنا نہیں بلکہ حق کی گواہی دینا اور خیر کو عام کرنا ہوتا ہے۔ یہی وہ ادب ہے جو وقت کی گرد سے محفوظ رہتا ہے، انسان کو اس کے رب سے جوڑتا ہے اور معاشرے میں فکری و اخلاقی بیداری پیدا کرتا ہے۔ اسی سچائی کی فتح کا اعلان کرتے ہوئے قرآنِ مجید رہنمائی کرتا ہے:

“اور کہہ دیجیے: حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔” (سورۂ بنی اسرائیل: 81)

حق کا پرچم ہمیشہ بلند رہتا ہے، اور وہ قلم جو عقیدے کی روشنی، سچائی کی قوت اور جمالیات کے حسن سے آراستہ ہو، وہی تاریخ کے صفات پر اپنے نقوش اور حیاتِ جاوداں چھوڑتا ہے۔

 📖 “طلوعِ آفتاب کی سرزمین: اکیس شہر، اکیس کہانیاں” (قسط اول) 

 ✨ جاپان کی پرسکون صبحوں، تہذیب کے انوکھے رنگوں اور اکیس شہروں کے سحر میں ڈوبنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں! 👉

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں