0

قرآن میں”النبی” کیوں فرمایا، “الرسول” کیوں نہیں؟ | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 جميع الحسنات

قرآنِ کریم میں "النبی" اور "الرسول" کے فرق، درودِ پاک کی حکمت اور محبتِ رسول ﷺ پر مبنی اسلامی مضمون کا کور امیج۔ تحریر: صغیر جعفری، ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل۔

 صغیر جعفري

سب سے پہلے تو یہ جان لیجئے کہ نبی اور رسول میں کیا فرق ہوتا ہے؟

نبی اللہ کی طرف سے مقرر کردہ مبارک انسان ہے جو اللہ تعالٰی کے احکامات اللہ تعالٰی کے بندوں تک پہنچانے کی ذمہ داری پوری کرتا ہے۔ نبی پر اللہ تعالٰی نئی شریعت اور کتاب نہیں بھیجتے بلکہ نبی اللہ تعالٰی کی پہلے انبیاء کی شریعت اور کتاب سے اللہ تعالٰی کے احکامات لوگوں تک پہنچاتے ہیں، جبکہ رسول کو اللہ تعالٰی نئی شریعت اور نئی کتاب عطا فرماتے ہیں۔ ہر نبی رسول نہیں ہوتا جبکہ ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے۔

اللہ تعالٰی نے یہ کیوں فرمایا: (يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ) “وہ نبی پر درود بھیجتے ہیں“ اور یہ کیوں نہیں فرمایا: “عَلَى الرَّسُولِ” “رسول پر“؟ جبکہ ہر رسول، نبی بھی ہوتا ہے!

کیا آپ نے کبھی نبی کریم ﷺ پر درود شریف بھیجتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ قرآنِ مجید کے الفاظ کے انتخاب میں کس قدر نفاست، عمدگی، باریک بینی اور حکمت مضمر ہے؟

ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ بیک وقت رسول بھی ہیں اور نبی بھی؛ لیکن جب اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں آپ ﷺ کی عظمت و تکریم اور شان عظیم کا اعلان کرنا چاہا، تو ارشاد فرمایا:

(إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)

“بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب کی خبریں دینے والے (نبی صلعم) پر، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔“

تو پھر اللہ تعالیٰ نے لفظ “النبی“ کا انتخاب کیوں کیا اور “الرسول“ کیوں نہیں فرمایا؟

اس کے پیچھے چھپے چند انتہائی خوبصورت اسرار یہ ہیں:

  1. اول: صرف ذمہ داری کی وجہ سے نہیں، بلکہ ہر وقت آپ صلعم کی ذات کی تکریم۔
    لفظ
    “الرسول“ کا تعلق کسی مہم، ذمہ داری اور فریضے سے ہوتا ہے، یعنی پیغام پہنچانا اور لوگوں کا سامنا کرنا؛ جبکہ لفظ “النبی“ لفظ “نبوہ“ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی “بلند اور ارفع مرتبہ“ کے ہیں۔

اگر اللہ تعالیٰ فرماتا “يصلون على الرسول” (وہ رسول پر درود بھیجتے ہیں)، تو شاید کچھ لوگ یہ گمان کرتے کہ یہ تکریم صرف پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرنے کی وجہ سے ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے “على النبي“ فرمایا تاکہ یہ واضح ہو کہ یہ درود اور تکریم آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی اور اللہ کے ہاں آپ صلعم کے بلند مرتبے کے لیے ہے۔ اور یہ ہر حال میں ہے؛ خواہ آپ لوگوں کو پیغام پہنچا رہے ہوں، اپنے گھر میں تشریف فرما ہوں، یا اپنے نجی کاموں و عبادات میں مصروف ہوں۔

  1. دوم: محبت اور نرمی کی زبان۔
    جی ہاں، قرآنِ کریم کا ایک خوبصورت راز ذہن میں رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ جب بھی اپنے نبی کو کسی مشکل مہم یا مخالفین کے سامنے کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے، تو آپ صلعم کو رسالت کے وصف سے پکارتا ہے، جیسے فرمایا:

(يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ)

“اے رسول! پہنچا دیجئے جو کچھ آپ صلعم کی طرف آپ صلعم کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“

لیکن جب اللہ تعالیٰ آپ ﷺ سے نرمی، محبت، تکریم اور آپ صلعم کے ذاتی معاملات کے بارے میں گفتگو فرماتا ہے، تو آپ صلعم کو نبوت کے وصف سے پکارتا ہے، جیسے فرمایا:

(يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ)

“اے نبی! آپ کیوں حرام کرتے ہیں اس چیز کو جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے۔“

اور چونکہ درود والی آیت بے پناہ محبت اور انتہائی تعریف کی آیت مبارکہ ہے، اس لیے لفظ “النبی“ ہی سب سے زیادہ مناسب اور دل کے قریب ترین تھا۔

  1. سوم: سورة کے سیاق و سباق کی ہم آہنگی۔
    یہ آیت
    “سورہ الاحزاب“ میں آئی ہے، اور یہ وہ سورۃ ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی نجی زندگی اور مومنین کے ساتھ ایک شفیق باپ کی طرح ان کے گہرے تعلق کا بہت زیادہ ذکر ہے، جیسا کہ اسی سورۃ میں اللہ نے فرمایا:

(النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ)

“یہ نبی مومنوں کے ساتھ ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور ان پر مہربان ہیں۔“

چونکہ اس سورۃ میں لفظ “النبی“ بار بار دہرایا گیا ہے، اس لیے درود والی آیت بھی اپنے آس پاس اور ارد گرد کے الفاظ کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہو کر آئی۔

  1. چہارم: پکارنے میں آپ ﷺ کا خاص اعزاز اور امتیاز۔
    قرآنِ کریم میں ایک ایسا حیرت انگیز معجزاتی پہلو ہے جو ہمارے نبی ﷺ کے مقام و مرتبہ کو واضح اور بلند کرتا ہے۔ اللہ عزوجل نے پچھلے تمام انبیاء کو ان کے اصل ناموں سے پکارا؛ چنانچہ فرمایا:
    (يَا آدَمُ) “اے آدم“، (يَا نُوحُ) “اے نوح“، (يَا إِبْرَاهِيمُ) “اے ابراہیم“، (يَا مُوسَىٰ) “اے موسیٰ“، (يَا عِيسَى) “اے عیسیٰ“۔

لیکن ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں کبھی بھی نام لے کر براہِ راست صيغۂ ندا کے ساتھ نہیں پکارا، بلکہ جب بھی پکارا، آپ کے اوصاف حمیدہ کے ذریعے آپ کی تعظیم اور توصیف و تعریف فرمائی۔

اس سے بھی زیادہ خوبصورت بات یہ ہے کہ واحد کے لیے براہِ راست پکارنے کا یہ صیغہ “يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ” (اے نبی!) پورے قرآن میں کسی بھی دوسرے نبی کے لیے ہرگز استعمال نہیں ہوا؛ یہ صرف اور صرف ہمارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے لیے خصوصی اعزاز و اکرام ہے۔ چنانچہ درود کی آیت میں اس لفظ کا انتخاب اسی الٰہی امتیاز اور محبت کا تسلسل ہے۔

یہ بات اپنے ذہن میں رکھیں کہ جب ہم اپنے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، تو ہم صرف یہ یاد نہیں کرتے کہ آپ پیغام پہنچانے والے ہیں؛ بلکہ ہم اس عظیم ہستی کو یاد کرتے ہیں جسے اللہ نے بلند مقام و مرتبہ عطا فرمایا اور جس کی ذاتِ شریفہ کی تعریف کے لیے خود اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں۔

چنانچہ آپ ﷺ پر میرا اور ہم سب کا درود اور سلام ہو، ہمیشہ اور ابدالآباد تک ہو!

اللهم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آل محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں