حرفِ ناپید: سید میثاق علی جعفری کی یاد میں
تحریر: علینہ خان
کچھ خبریں اتنی اچانک اور دل دہلا دینے والی ہوتی ہیں کہ انسان کا ذہن لمحہ بھر کے لیے معطل ہو جاتا ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں شل ہو کر رہ جاتی ہیں۔ سید میثاق علی جعفری صاحب کی ناگہانی رحلت کی خبر بھی ایک ایسا ہی اندوہناک صدمہ ہے جس نے دل و دماغ کو گہرے رنج و غم کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
سید میثاق علی جعفری صاحب کا تعلق واہ کینٹ راولپنڈی سے تھا۔ وہ معروف شاعر سید سبط علی صبا کے فرزند تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کو گھر سے ہی لکھنے پڑھنے کا علمی و ادبی ماحول میسر آیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم واہ کینٹ ہی سے حاصل کی اور 1984 میں افواجِ پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ 2020 میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ایک سرکاری ادارے میں خدمت انجام دی اور بعد ازاں اپنی خانگی زندگی اور ادبی مشغولیات میں مصروف رہے۔
میثاق صاحب کو شاعری کا شغف تھا اور وہ مرزا غالب، میر تقی میر، علامہ اقبال، جوش ملیح آبادی، جون ایلیا، احمد فراز، علی مطہر اشعر، مظہر حسین سید، عثمان اختر اور عباس تابش کے کلام کو ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔ نثر میں ان کا مطالعہ نہایت وسیع تھا؛ سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، عظیم بیگ چغتائی، مشتاق احمد یوسفی، اور عالمگیر ادب سے میکسم گورکی، لیو ٹالسٹائی اور فیودور دوستوئیفسکی جیسے عظیم نام ان کے پسندیدہ مصنفین میں شامل تھے۔ شاعری پڑھنے کی حد تک ان کی پسند رہی، جبکہ نثر میں کہانیاں، خاکے اور کتابوں پر تبصرے تحریر کرنا ان کا خاص مشغلہ تھا۔
ان کی ذات میں ملٹری ڈسپلن کی استقامت اور ادب کی لطافت کا ایک نایاب اور خوبصورت امتزاج موجود تھا۔ وہ ایک انتہائی باوقار، وضع دار اور سچے انسان تھے جن کی گفتگو کا بے ساختہ پن اور خلوص پہلی ہی نظر میں دل جیت لیتا تھا۔
ان سے میری گفتگو کا آغاز اس وقت ہوا جب ان کا ایک کالم ہماری ڈائجسٹ میں شائع ہوا۔ اپنی تحریر کی اشاعت پر ان کے خلوص اور مسرت سے بھرپور تبصرے نے ایک دائمی احترام کا تعلق قائم کر دیا۔ وہ نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کا جذبہ رکھتے تھے اور ادب کے سچے پارکھ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی مشفق انسان بھی تھے جو ہر قدم پر ایک سرپرست کی طرح خیرخواہی کرتے دکھائی دیتے تھے۔
ان کی حب الوطنی اور فوجی روایت کا پاس اس بات سے واضح تھا کہ جب ان سے انٹرویو کی درخواست کی گئی تو انہوں نے خوش دلی سے حامی بھرتے ہوئے صرف یہ شرط رکھی کہ وہ اپنے پیشے اور ریاست کے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کی یہی اصول پسندی اور حرفِ حق پر قائم رہنے کی عادت انہیں ایک منفرد اور محترم مقام دیتی تھی۔
ابھی حال ہی میں ان سے بات ہوئی تو وہ ایک نئی کہانی پر کام کر رہے تھے اور اس کے لیے بہت پرجوش تھے، لیکن افسوس کہ اجل نے ان کا قلم خاموش کر دیا اور وہ کہانی شاید ان کی میز پر ادھوری ہی رہ گئی۔ یہ تلخ سچائی دنیا کی بے ثباتی کا وہ خاموش ثبوت ہے جو انسان کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
سید میثاق علی جعفری صاحب کا یوں ناگہاں رخصت ہو جانا ادبی دنیا اور ان سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک ایسا خلا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔ اللہ تعالی میثاق صاحب کے درجات بلند فرمائے، ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور ان کے پس ماندگان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کا صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین۔

