“ایک سلام، ہزار دعائیں ”
احمد دس سال کا ذہین، خوش اخلاق، فرمانبردار اور سچ بولنے والا بچہ تھا۔ وہ پانچ وقت نماز پڑھنے کی کوشش کرتا، بڑوں کا ادب کرتا اور چھوٹوں سے محبت سے پیش آتا تھا۔ اس کی چھ سالہ بہن روبینہ بھی نہایت معصوم، خوش اخلاق اور نیک عادات کی مالک تھی۔ وہ اپنی امی کی مدد کرتی، وقت پر سبق یاد کرتی اور قرآنِ مجید بھی شوق سے پڑھتی تھی۔ دونوں بہن بھائی ہمیشہ یہ کوشش کرتے تھے کہ ہر کام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کریں۔
گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوئیں تو دونوں بہن بھائی بہت خوش ہوئے۔ وہ کئی دنوں سے انتظار کر رہے تھے کہ کب چھٹیاں ہوں اور کب نانی جان کے گھر جانے کا موقع ملے۔
ایک صبح ناشتے کی میز پر ابو نے مسکراتے ہوئے کہا:
“میرے پیارے بچو! اس سال ہم گرمیوں کی چھٹیاں نانی جان کے گھر گزاریں گے۔”
یہ سنتے ہی احمد اور روبینہ خوشی سے اچھل پڑے اور بے اختیار بول اٹھے:
“الحمد للہ رب العالمین!”
امی نے محبت سے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور کہا:
“بچو! جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی خوشی، نعمت یا کامیابی عطا کرے تو فوراً ‘الحمد للہ’ کہنا چاہیے، کیونکہ ہر نعمت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔”
اب دونوں بہن بھائی اپنے کپڑے، کتابیں، جائے نماز اور ضروری سامان ترتیب سے بیگ میں رکھنے لگے۔ امی نے انہیں سمجھایا:
“صفائی نصف ایمان ہے، اس لیے اپنا سامان بھی سلیقے سے رکھنا چاہیے۔”
احمد نے اپنی چھوٹی بہن روبینہ کا بیگ بھی ترتیب سے تیار کر دیا۔
روبینہ نے مسکرا کر کہا:
“بھائی جان! جزاک اللہ خیراً۔”
احمد نے جواب دیا:
“اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔”
سفر کا وقت آیا تو ابو نے سب بچوں کو اپنے پاس بٹھایا اور فرمایا:
“بچو! مسلمان ہر اچھے کام کی ابتدا ‘بسم اللہ الرحمٰن الرحیم’ سے کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام میں برکت عطا فرمائے۔”
سب نے مل کر بلند آواز میں پڑھا:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پھر ابو نے کہا:
“اب گھر سے نکلنے کی دعا پڑھتے ہیں۔”
سب نے ادب سے دعا پڑھی:
“بِسْمِ اللّٰهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔”
پھر ابو نے اس کا آسان ترجمہ بھی سمجھایا:
“اللہ کے نام سے نکلتا ہوں، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اور نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی طاقت صرف اللہ ہی دیتا ہے۔”
گاڑی میں بیٹھنے کے بعد ابو نے سفر کی دعا پڑھی:
“سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ۔”
پھر انہوں نے بچوں سے کہا:
“اللہ تعالیٰ کی یاد کے ساتھ شروع ہونے والا سفر خیر و برکت والا ہوتا ہے۔”
راستے میں سبز کھیت، باغات، نہریں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور ٹھنڈی ہوائیں دیکھ کر روبینہ نے کہا:
“اللہ تعالیٰ نے کتنی خوبصورت دنیا بنائی ہے!”
احمد نے فوراً کہا:
“الحمد للہ رب العالمین!”
ابو نے فرمایا:
“قرآن ہمیں بار بار اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتا ہے، وہ ہمیشہ شکر گزار رہتا ہے۔”
چند گھنٹوں بعد وہ نانی جان کے گھر پہنچ گئے۔ دروازہ کھلا تو نانی جان خوشی سے باہر آئیں۔ احمد اور روبینہ نے ادب سے جھک کر کہا:
“السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔”
نانی جان نے خوشی سے جواب دیا:
“وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔”
انہوں نے دونوں بچوں کو گلے لگایا، دعائیں دیں اور کہا:
“میرے بچو! مکمل سلام کرنا بہت بڑی سنت ہے۔ سلام محبت بڑھاتا ہے، دلوں کی نفرت ختم کرتا ہے اور مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ پیدا کرتا ہے۔”
اسی دوران ان کے کزن نعمان، ابرار اور ارم بھی آ گئے۔ سب نے خوشی خوشی ایک دوسرے سے ملاقات کی، مل کر کھانا کھایا اور خوب کھیل کود کی۔
اگلی صبح فجر کی نماز کے بعد نانی جان نے سب بچوں کو قرآنِ مجید کی تلاوت کروائی، پھر مختصر سی نصیحت کرتے ہوئے کہا:
“جس گھر میں قرآنِ مجید کی آواز گونجتی ہے، وہاں رحمت کے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔”
نماز اور ناشتے کے بعد ابرار نے احمد سے کہا:
“آؤ، آج تمہیں اپنے گاؤں کے کھیت، باغات اور دوستوں سے ملواتا ہوں۔”
احمد نے فوراً کہا:
“پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے ہیں۔”
دونوں نے بسم اللہ پڑھی، گھر سے نکلنے کی دعا پڑھی، نانی جان سے اجازت لی اور روانہ ہو گئے۔
راستے میں ایک بوڑھے بزرگ ملے۔ دونوں بچوں نے ادب سے انہیں سلام کیا:
“السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔”
بزرگ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
“وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔”
بزرگ نے انہیں دعا دی:
“اللہ تعالیٰ تمہیں نیک، صالح اور علم والا بنائے۔”
احمد نے دل ہی دل میں کہا:
“الحمد للہ! سلام کرنے سے کتنی دعائیں ملتی ہیں۔”
کھیتوں میں پہنچ کر ابرار نے اپنے دوستوں کا تعارف کروایا۔
احمد نے بلند آواز میں کہا:
“السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔”
کچھ بچوں نے صرف “وعلیکم السلام” کہا، کچھ نے صرف “سلام” کہا اور چند بچے خاموش رہے۔
اسی دوران ابرار کا دوست احمر آیا۔ وہ ہنستے ہوئے بولا:
“ساما علیکم!”
کچھ بچوں نے بھی مذاق میں یہی الفاظ دہرائے۔
احمد نے غصہ کرنے کے بجائے نہایت نرمی اور محبت سے کہا:
“دوستو! اگر اجازت ہو تو میں ایک ضروری بات بتاؤں؟”
سب نے کہا:
“ضرور، ہمیں بھی سیکھنے کا شوق ہے۔”
احمد نے کہا:
“اسلام نے ہمیں بہترین الفاظ سکھائے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ وہی سلام کہنا چاہیے جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے سکھایا ہے: ‘السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ’، اور جواب میں کہنا چاہیے: ‘وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ’۔ یہ ایک دوسرے کے لیے سلامتی، رحمت اور برکت کی دعا ہے، اس لیے ہمیں سلام کے الفاظ کو بگاڑنے، مذاق بنانے یا غلط انداز میں بولنے سے بچنا چاہیے۔”
احمر نے شرمندگی سے کہا:
“بھائی! میں تو دوسروں کی نقل کرتا تھا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ صحیح سلام اتنا خوبصورت ہے۔”
احمد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
“غلطی ہو جائے تو فوراً اسے درست کر لینا ہی اچھے مسلمان کی نشانی ہے۔”
اب سب بچوں نے باری باری مکمل سلام کہنا شروع کر دیا۔
پورا ماحول گونج اٹھا:
“السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔”
اور جواب آیا:
“وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔”
اسی وقت ایک کسان اپنے بیٹے کے ساتھ وہاں سے گزرا۔ اس نے بچوں کی باتیں سنیں تو بہت خوش ہوا اور بولا:
“بچو! تم نے آج بہت قیمتی سبق سکھایا ہے۔ اگر ہمارے بچے سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کریں گے تو معاشرہ خود بخود خوبصورت بن جائے گا۔”
واپسی پر ابرار نے کہا:
“احمد! آج میں نے صرف سلام ہی نہیں بلکہ یہ بھی سیکھا کہ ہر کام سے پہلے بسم اللہ، ہر نعمت پر الحمد للہ اور ہر مسلمان سے مکمل سلام کرنا چاہیے۔”
احمد نے جواب دیا:
“اور ہمیشہ سچ بولنا، بڑوں کا احترام کرنا، چھوٹوں سے محبت کرنا اور دوسروں کو نرمی سے سمجھانا بھی مسلمان کی شان ہے۔”
شام کو سب بچوں نے نانی جان کو سارا واقعہ سنایا۔ نانی جان بہت خوش ہوئیں اور کہا:
“میرے بچو! تم نے آج صرف اپنے دوستوں کو سلام نہیں سکھایا بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ایک خوبصورت سنت کو زندہ کیا ہے۔ یاد رکھو، مسلمان جہاں بھی جائے، اپنے اخلاق، اپنے کردار اور اپنے الفاظ سے اسلام کی خوبصورتی ظاہر کرے۔”
ابو نے بھی بچوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
“علم وہی بہترین ہے جس پر عمل بھی کیا جائے اور دوسروں تک بھی پہنچایا جائے۔”
اس کے بعد جب بھی گاؤں کے بچے ایک دوسرے سے ملتے تو بلند آواز میں کہتے:
“السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔”
اور جواب دیتے:
“وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔”
ہر اچھے کام سے پہلے کہتے:
“بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔”
اور ہر نعمت، کامیابی اور خوشی پر کہتے:
“الحمد للہ رب العالمین۔”
دیکھتے ہی دیکھتے پورے گاؤں میں مکمل سلام کرنے کی خوبصورت عادت عام ہو گئی۔
پیارے بچو! ہمیں بھی چاہیے کہ خود بھی سلام، الحمد للہ، ماشاء اللہ، جزاک اللہ خیراً اور دیگر مسنون الفاظ اپنی روزمرہ زندگی میں اپنائیں اور اپنے بچوں کو بھی سکھائیں، تاکہ ہمارے گھروں، معاشرے اور دلوں میں محبت، رحمت اور برکت عام ہو جائے۔
ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کا جولائی 2026 کا تازہ شمارہ، جو آپ کی روح کو ترو تازہ کر دے گا۔
