0

اور ہمارا مرتا ہوا ضمیر – تحریر سید ساجد علی شاہ | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 اور ہمارا مرتا ہوا ضمیر

تحریر: سید ساجد علی شاہ

پنجاب کے آخری ضلع اور تین صوبوں (پنجاب، سندھ اور بلوچستان) کے سنگم پر واقع ضلع رحیم یار خان آج ایسے دردناک واقعات کا گواہ بنا، جنہوں نے ہر باشعور، دردِ دل رکھنے والے انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک ہی دن میں پیش آنے والے تین مختلف سانحات نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے؟ کیا ہمارے دلوں سے خوفِ خدا رخصت ہو چکا ہے؟ کیا ہم نے انسانی جان کی حرمت کو فراموش کر دیا ہے؟ کیا ہمارے دل اتنے سخت ہو گئے ہیں کہ کسی کی چیخ، کسی ماں کے آنسو، کسی بہن کی فریاد اور کسی معصوم بچی کی خاموش لاش بھی ہمیں اندر سے ہلا نہیں سکتی؟

صبح جب معمول کے مطابق سوشل میڈیا کھولا، تو چند لمحوں میں سامنے آنے والی خبروں نے دل کی دھڑکنیں تیز کر دیں۔ ایک خبر ختم نہ ہوتی تھی کہ دوسری اس سے زیادہ دردناک سامنے آ جاتی، اور پھر تیسری خبر نے تو جیسے روح کو زخمی کر دیا۔ دل بے اختیار لرز اٹھا، آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور زبان سے صرف یہی نکلا: “اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔“

پہلا واقعہ بستی امانت علی میں لین دین کے تنازع پر پیش آیا، جہاں چند سکوں، معمولی اختلاف یا وقتی غصے نے ایک انسان کی جان لے لی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس جان کو پیدا کرنے کی طاقت کسی انسان میں نہیں، اسے چھین لینے کا اختیار انسان اپنے آپ کو کیسے دے دیتا ہے؟ مال و دولت، زمین، جائیداد اور دنیاوی مفادات آخر کب سے انسانیت سے زیادہ قیمتی ہو گئے؟ کیا چند لمحوں کے غصے کی قیمت کسی کے بچوں کا یتیم ہونا، کسی ماں کی گود اجڑ جانا اور کسی بیوی کا سہاگ لٹ جانا ہو سکتی ہے؟ افسوس کہ آج برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے اور معمولی اختلافات بھی خونریزی پر منتج ہو رہے ہیں۔

دوسرا واقعہ تحصیل صادق آباد میں پیش آیا، جہاں ایک بھائی نے اپنے ہی بھائی کو قتل کر دیا۔ یہ خبر صرف ایک قتل کی خبر نہیں بلکہ رشتوں کی موت کا اعلان ہے۔ وہ بھائی جس کے ساتھ ایک ہی ماں کی گود میں پرورش ہوئی، جس کے ساتھ بچپن کی یادیں وابستہ تھیں، جس کے ساتھ خوشیاں اور غم بانٹے گئے؛ وہی بھائی اگر دوسرے بھائی کے خون کا پیاسا بن جائے، تو اس سے بڑھ کر معاشرتی المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ آخر وہ محبت کہاں کھو گئی جسے اسلام نے ایمان کا حصہ قرار دیا؟ وہ شفقت، وہ ایثار، وہ بھائی چارہ کہاں دفن ہو گیا جس پر ہماری تہذیب کو ناز تھا؟ جب رشتے مفادات کے ترازو میں تولے جانے لگیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرے کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں۔

لیکن ان دونوں واقعات سے بڑھ کر جو خبر سامنے آئی، اس نے تو انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔ شیدانی کے علاقے میں صرف پانچ سالہ ایک معصوم بچی کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا، اس کی عصمت دری کی گئی اور پھر بے دردی سے اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ الفاظ لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتے ہیں، دل بوجھل ہو جاتا ہے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ آخر اس ننھی کلی کا قصور کیا تھا؟ اس نے کس کا حق مارا تھا؟ اس نے کس سے دشمنی کی تھی؟ وہ تو ابھی زندگی کے معنی بھی نہ جانتی تھی؛ ابھی تو اس کے ہاتھوں میں کھلونے ہونے چاہیے تھے، اس کی زبان پر تتلیوں، پھولوں اور گڑیوں کی باتیں ہونی چاہئیں تھیں، اس کی معصوم ہنسی سے گھر آباد ہونا چاہیے تھا، مگر کسی درندہ صفت انسان نے اس کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیا۔ اس بچی کی آخری چیخیں شاید آج بھی زمین نے اپنے سینے میں محفوظ کر رکھی ہوں گی، اس کی خاموش آنکھیں شاید آج بھی انسانیت سے سوال کر رہی ہوں گی کہ آخر میرا جرم کیا تھا؟

جب میں نے یہ خبریں فیس بک پر دیکھیں، تو دل جیسے سینے میں رہ نہ سکا۔ محسوس ہوا کہ ہم ترقی کے نام پر بہت آگے نکل آئے ہیں، مگر اخلاق، انسانیت، رحم، حیا اور خوفِ خدا میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ چند لمحوں بعد یہی خبریں سوشل میڈیا کی بھیڑ میں گم ہو جائیں گی، لوگ نئی پوسٹوں میں مصروف ہو جائیں گے، مگر جن گھروں میں آج قیامت ٹوٹی ہے، وہاں یہ درد عمر بھر ختم نہیں ہوگا۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی راہ دیکھتی رہے گی، ایک بہن اپنے بھائی کو یاد کر کے آنسو بہاتی رہے گی، ایک باپ اپنی معصوم بیٹی کے کھلونوں کو سینے سے لگا کر روتا رہے گا اور ایک خاندان زندگی بھر اس صدمے سے باہر نہیں نکل سکے گا۔

یہ تمام واقعات ہمیں آئینہ دکھا رہے ہیں کہ ہم اسلامی تعلیمات سے کتنے دور ہو چکے ہیں۔ قرآن ہمیں عدل، رحم، صبر، معافی اور برداشت کا درس دیتا ہے؛ رسول اکرم ﷺ محبت، اخوت، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں، مگر ہم نے اپنی خواہشات، غصے, لالچ اور نفرت کو اپنا رہنما بنا لیا ہے۔ جب دلوں سے اللہ کا خوف نکل جاتا ہے، تو پھر انسان شیطان سے بھی زیادہ خطرناک بن جاتا ہے۔ جب نمازیں صرف رسم رہ جائیں، قرآن صرف تلاوت تک محدود ہو جائے اور سیرتِ نبوی ﷺ صرف تقریروں کا موضوع بن جائے، تو پھر ایسے ہی المناک واقعات جنم لیتے ہیں۔

ہمیں صرف مجرموں کو کوسنے سے زیادہ اپنے معاشرے کی اصلاح کی فکر کرنی ہوگی۔ والدین کو اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت پر توجہ دینی ہوگی، اساتذہ کو کردار سازی کا فریضہ ادا کرنا ہوگا، علماء کو محبت اور اصلاح کا پیغام عام کرنا ہوگا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلاامتیاز انصاف فراہم کرنا ہوگا اور ہم سب کو اپنے اپنے دائرے میں خوفِ خدا، برداشت، احترامِ انسانیت اور اسلامی اقدار کو زندہ کرنا ہوگا۔

یاد رکھیں، معاشرے صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید سہولتوں سے ترقی نہیں کرتے، بلکہ وہ اس وقت ترقی کرتے ہیں جب وہاں ایک معصوم بچی خود کو محفوظ سمجھے، ایک بھائی دوسرے بھائی کا محافظ ہو، ایک انسان دوسرے انسان کی جان، عزت اور مال کو اپنی امانت سمجھے اور ہر دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف زندہ ہو۔

آج رحیم یار خان کے یہ تین سانحات صرف ایک ضلع کا درد نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے زوال کی داستان ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی اصلاح نہ کی، اپنے گھروں کو دین کی روشنی سے منور نہ کیا، اپنی نسلوں کی تربیت نہ کی اور اپنے دلوں میں خوفِ خدا پیدا نہ کیا، تو خدانخواستہ کل ایسے واقعات صرف خبروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر دروازے پر دستک دے سکتے ہیں۔

آئیے! ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان تمام مرحومین کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، معصوم بچی کی مغفرت فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے، مجرموں کو عبرتناک انجام تک پہنچائے اور ہمارے معاشرے میں محبت، رحم، برداشت، عدل، حیا اور خوفِ خدا کو دوبارہ زندہ فرما دے؛ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو انسان اور معاشرے کو امن کا گہوارہ بناتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں