آتی ہے اردو زبان آتے آتے
تحریر: صغیر جعفری
انسان ساری عمر سیکھتا رہتا ہے؛ زیست کے ہر شعبے میں دوسروں سے راہنمائی حاصل کرنے کی سعی کرتا رہتا ہے۔ آدابِ معاشرت میں آدابِ تکلم—یعنی روزمرہ کی بول چال، اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، اوڑھنے بچھونے کے طور اطوار، آداب و شائستگی، علم و حلم، تہذیب و تمدن کا سلیقہ—اپنے والدین کی تربیت، بچپن کے ماحول میں سوسائٹی کے مختلف کرداروں، سکول، کالج و یونیورسٹی میں اساتذہ سے اکتسابِ علم، اور عملی زندگی میں اپنے ساتھیوں (کولیگز) سے سیکھتے رہنا، یہ اجتماعی عوامل ہمارے علم و شعور کے اضافے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سچی بات یہ ہے کہ خود مجھے اپنی عمر کے پینتیس سال بتانے کے بعد لفظ “تشریف“ کا صحیح معنوں میں مطلب پتا چلا۔ ہمارے آفس میں رضا زیدی صاحب سکوٹر سے آتے جاتے تھے۔ ایک دن وہ سکوٹر سے گر گئے اور زخمی ہو گئے۔ کچھ دن کے بعد آفس آئے تو ہمارے ریجینل مینیجر صاحب نے پوچھا: “رضا! اب کیا حال ہے؟“
تو رضا نے اپنی کمر کی نچلی طرف ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:
“سر! باقی تو ٹھیک ہوں، یہ ‘تشریف‘ میں تکلیف ہے۔“ مجھے اتنے عرصے کے بعد پتا چلا کہ اہل زبان تشریف کسے کہتے ہیں۔
بنیادی طور پر ہم پنجابی بولنے والے درست تلفظ کے ساتھ اردو زبان میں ادائیگی کر ہی نہیں سکتے۔ قینچی، چاقو، قاسم، بولتے ہوئے ‘ق‘ کی آواز حلق سے ادا نہیں کرتے؛ بلکہ ‘ک‘ کے ساتھ کینچی، چاکو یا کاسم بولتے ہیں۔ ہم سے صحیح اردو بولنے کی کوشش میں کچھ غلطیاں ایسی سر زد ہوئی ہیں جو پختہ ہو گئی ہیں اور اب تک نسل در نسل مسلسل چلتی آرہی ہیں۔
مثال کے طور پر؛ کسی مخلوط اجتماع میں شرکاء کو متوجہ کرنے کے لیے مخاطب کیا جاتا ہے: “خواتین و حضرات“، جو کہ صحیح نہیں۔ “حضرات“؛ یہ ایک لفظ مرد اور عورت دونوں کے تخاطب کے لیے بولنا چاہیے۔ “خواتین و حضرات“ غلط العام ہے۔ مثلاً: حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا۔ اس مثال سے آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ دونوں جنسوں (Genders) کے لیے ایک ہی لفظ “حضرت“ لکھا گیا ہے۔
جناب اور صاحب دونوں کلمئہ احترام مرد کے لئے، اور جنابہ و صاحبہ عورت کے لئے لکھا جاتا ہے۔ ایک ہی جملے میں دونوں کا ایک ساتھ لکھنا یا بولنا صحیح نہیں ہے؛ جیسے “جناب ملک شریف صاحب“۔ یہ غلط ہے۔ جناب یا صاحب میں سے کوئی ایک لفظِ احترام لکھنا چاہیے؛ “ملک شریف صاحب“ صحیح ہے، بجائے “جناب ملک شریف صاحب“ کے۔
میرے سکول کے ہم جماعت—جن کی مادری زبان اردو تھی—رئیس شاہ صاحب، کرتارو چک سنگت سنگ سے ہائی سکول 127 ای بی تھانہ احمد یار، عارف والا میں آتے تھے۔ وہ نفیس و شتہ اردو بولتے تھے؛ کبھی کبھار میرا جملہ پکڑ لیتے اور ہنسی ہنسی میں ہی اصلاح فرما دیا کرتے تھے۔ ان کے گھر گیا تو کھانا کھانے کے لئے اپنی نشست سے اپنی پلیٹ صاف کر کے، پلیٹ آگے کرتے ہوئے میں نے کہا: “اس میں چاول ڈال دیں“۔ تو ہنستے ہوئے بولے: “کھانا یا چارہ ‘ڈالا‘ تو جانوروں کو جاتا ہے؛ انسانوں کے لئے تو کھانا نکالا جاتا ہے، کھانا لگایا جاتا ہے، سجایا جاتا ہے، پڑوسا جاتا ہے۔“ اس کے بعد سے میں نے برتن میں کھانا نکالنا شروع کر دیا۔ اور مہمانوں کے لیے لگانا اور پڑوسنا شروع کر دیا۔
کسی تقریب میں ان کے کپڑوں کی تعریف کی تو کہنے لگے: “کپڑے شکریہ کہہ رہے ہیں۔“
میں بھی ہنس دیا، اپنا جملہ دہرایا: “یہ کپڑے آپ پر اچھے لگ رہے ہیں۔“
اور اس کے بعد ہمیشہ اس جملے کو اسی طرح ادا کیا: “یہ رنگ آپ پر اچھا لگ رہا ہے۔ یہ جوتے آپ کے پاؤں میں بہت جچ رہے ہیں۔“
اسی طرح ہمارے جملوں میں بالکل عام سی بات ہے یہ کہنا کہ “باورچی خانے میں کھانا پڑا ہے“، “میز پر عینک پڑی ہے“۔ لیکن انہوں نے سمجھایا کہ کوئی بھی چیز ‘پڑی‘ ہوئی نہیں ہوتی، رکھی ہوئی ہوتی ہے۔ عادت ‘پڑا ہوا‘ کہنے کی ہے تو قرآن مجید کے لئے بھی “قرآن کریم الماری میں پڑا ہوا ہے۔“ بول دیا جاتا ہے، جو کہ ادب کے منافی ہے۔
میری والدہ—جنہیں میں بے (ب ے) کہتا تھا اور اپنی دادی جان کو بے جی (ب ے جی) کہتا تھا—میری والدہ کی مادری زبان اردو تھی، لیکن ان کی شادی میرے والد صاحب کے ساتھ ہوئی جن کے خاندان میں پنجابی زبان بولی جاتی ہے، تو وہ بھی پنجابی زبان بولنے لگ گئیں۔ میری بہن سے کوئی چیز—چینی، کچے چاول یا کچی دال—فرش پر گر جاتی تو کہتیں: “اسے بین لو” (ب کے نیچے زیر)۔
جوش ملیح آبادی معمول کی چہل قدمی کے بعد گھر سے قریب کسی چوک پر کھڑے تھے۔ ان کے ایک مداح نے انہیں دیکھ کر کہا کہ: “آئیے جوش صاحب! آپ کو چھوڑ دوں۔“ جوش صاحب نے کہا: “میاں! داشتہ چھوڑی جاتی ہے، کتے اور کبوتر چھوڑے جاتے ہیں؛ آدمی کو پہنچایا جاتا ہے۔“
ہمارے گورنمنٹ کالج ساہیوال میں عربی کے پروفیسر سید اصغر علی شاہ صاحب عربی گرامر پڑھا رہے تھے کہ ہمارے ایک ساتھی نے کہا کہ: “سر! اس کی سمجھ نہیں آتی۔“ تو سر نے کہا: “یہ غلط فقرہ ہے۔ ‘سمجھ میں نہیں آتا‘ بولا کرو۔“ پھر انہوں نے حوالے کے طور پر اکبر الہ آبادی کا یہ شعر پڑھا:
بس جان گیا میں، تری پہچان یہی ہے
تو دل میں تو آتا ہے، سمجھ میں نہیں آتا
کچھ امثال مزید شامل کر لیتے ہیں۔ چنے گیلے نہیں کئے جاتے، بھگوئے جاتے ہیں۔ ہنڈیا میں چمچ ہلایا نہیں جاتا، چلایا جاتا ہے۔ اہل لکھنؤ پانی یا انڈہ ابالنے کو ابالنا ہی کہتے ہیں، مگر دودھ ابالنے کو “دودھ کو جوش دلانا“ کہتے ہیں۔ چادر لی نہیں جاتی، اوڑھی جاتی ہے۔ روٹی پکائی نہیں بنائی جاتی ہے؛ اسی طرح سالن بھی پکایا نہیں بنایا جاتا ہے۔
یہ کوئی ایسی غلطیاں نہیں کہ جن کی پکڑ ہو جائے گی، لیکن بات کہنے کا بہتر قرینہ، طریقہ و سلیقہ سیکھنا ضروری ہے؛ تاکہ ہم درست اردو زبان بول سکیں اور اہل علم و زبان کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔
