الفی اور زیبی
تحریر: صغیر جعفری
اس معمے کو تھوڑی دیر کے بعد سمجھتے ہیں۔ اس سے پہلے آپ کی توجہ اس باہمت خاتون کے عزمِ صمیم کی طرف دلانا چاہتا ہوں جو 25 دسمبر (قائدِ اعظم محمد علی جناح کے یومِ پیدائش) کے تاریخی دن، 25 دسمبر 1918ء کو کلکتہ میں ایس واجد علی کے علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔
ان کے والدِ محترم بنگالی تھے۔ انہوں نے ٹیگور کے بنگالی کلام کو انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے کے بعد، علامہ اقبال (رحمت اللہ علیہ) کے فارسی اور اردو کلام کو بنگالی زبان میں ترجمہ کرانے کے بعد شائع کیا۔ اس باہمت اور آہنی عزم خاتون کی والدہ انگریز (British) تھیں۔ انہوں نے کلکتہ کے کانونٹ سکول میں داخلہ لیا اور چھوٹی سی ہی عمر میں لکھنا شروع کر دیا۔ پندرہ سال کی عمر میں انہوں نے انگلینڈ کے میگزین “دی مرر” (The Mirror) میں شاعری کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ تھیں زیب النساء بیگم حمید اللہ۔
1947ء میں بیگم صاحبہ پاکستان آ گئیں۔ چونکہ ان کے خاوند حمید اللہ صاحب ‘باٹا شوز کمپنی‘ میں کنٹری ہیڈ تھے، لہٰذا شوہر کے ساتھ مستقل طور پر کراچی میں رہائش پذیر ہو گئیں۔ سینئر کیمبرج کے بعد کراچی سے صحافت کا آغاز روزنامہ ڈان (Dawn) سے کیا اور ہر طرح کے موضوعات پر لکھنا شروع کر دیا۔ بیگم صاحبہ 1947ء کے بعد بھی انڈیا کے اخبارات میں کالمز لکھتی رہیں، حالانکہ آپ مستقل طور پر کراچی (پاکستان) میں رہتی تھیں۔
وہ پاکستان کی پہلی خاتون صحافی تھیں جو انگریزی زبان میں سیاست اور فنونِ لطیفہ پر زوردار کالمز لکھتی تھیں۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی ڈیلیگیشن ہیڈ (Delegation Head) کی حیثیت سے کرتی رہیں۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح سے ان کی دوستی مثالی تھی۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کا پہلا انٹرویو محترمہ زیب النساء حمید اللہ نے ہی لیا تھا۔
قاہرہ (جامع الازہر، مصر) میں پاکستانی وفد کی سربراہی میں شرکت فرمائی، جس میں انہوں نے پوری ایمانداری اور ہمت سے کشمیری مسلمانوں کے حق میں تقریر کی۔ جسے انڈیا نے بہت برا منایا اور ان کے کالمز جو انڈیا سے چھپتے تھے، ان پر پابندی لگا دی۔
چونکہ آپ مصلحت سے بالاتر ہو کر صرف حق و صداقت کے لیے لکھتی تھیں، تو انہوں نے ایوب خان کی غیر آئینی حکومت کے خلاف کھل کر لکھنا ایک جہاد سمجھ کر شروع کیا، تو حکومت لرز کے رہ گئی۔ ڈان کے ایڈیٹر الطاف گوہر بڑے طاقتور ایڈیٹر تھے، کیونکہ حکومت کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی حمایت میں ہر غیر قانونی حربہ استعمال کر کے عوامی نمائندوں کو دبا کر رکھیں اور حکومتِ وقت کو سہارا دیں۔
الطاف گوہر نے انہیں بلا کر بریفنگ دی کہ:
“ایوب خان حکومت کے خلاف کچھ نہیں لکھنا۔ آپ کا فوکس بچوں کی نگہداشت اور حقوقِ نسواں پر ہونا چاہیے، نہ کہ سیاست پر۔“
زیب النساء صاحبہ نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا اور فری لانسر کے طور پر لکھنا شروع کر دیا۔ یہاں بھی حکومت نے ان کی مخالفت کی۔ تنگ آ کر بیگم صاحبہ نے اپنا اخبار “دی مرر” (The Mirror) کراچی سے نکال لیا اور حکومت کے غیر آئینی اقدامات کے خلاف لکھنا شروع کر دیا۔ حکومت نے ان کے اخبار کا کاغذی کوٹہ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اشتہارات بھی بند کر دیے، مگر بیگم صاحبہ نے ہمت نہیں ہاری۔
ایوب خان نے طلباء کے احتجاج پر انہیں گولیوں سے بھون کر رکھ دیا، کراچی اور ملک کے دوسرے شہروں میں طلباء کے خون سے گلیاں بھر گئیں، تو زیب النساء حمید اللہ میدانِ عمل میں آ گئیں۔ ایک بار پھر “دی مرر“ کو بند کر دیا گیا اور ان کے پریس کو جلا دیا گیا۔ مگر زیب النساء صاحبہ نے ہمت نہیں ہاری اور:
أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ
(طاقتور حاکم کے خلاف کلمہِ حق بلند کرنا افضل جہاد ہے)
پر عمل کرتے ہوئے حاکمِ وقت کو للکارا۔ اس آہنی عزم والی خاتون نے ہمت نہ ہاری اور حکومت کے خلاف مظاہروں میں بھرپور شرکت کی۔ پھر زیب النساء صاحبہ نے حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس داخل کر دیا، جو بیگم صاحبہ نے مشہور وکیل اے کے بروہئ کی معاونت سے جیت لیا—جو کہ حکومتِ وقت کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا۔
عوامی احتجاج کے نتیجے میں چند ہی دنوں کے بعد ایوب خان کی غیر آئینی حکومت ختم ہو گئی۔ جس ایڈیٹر الطاف گوہر نے اپنی طاقت سے زیب النساء صاحبہ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا، آج وہی انہیں ان الفاظ میں خراجِ تحسین و عقیدت پیش کر رہا تھا:
“My tribute to iron, steel nerves, and most fearless lady journalists in the history of Pakistan.”
اب آئیے اس معمے کی طرف: الفی اور زیبی
کراچی کے پوش ایریا (صدر) کے ایک پررونق بازار کا انگریزوں نے “الفنسٹن سٹریٹ“ نام رکھا تھا، جو “الفی“ کے نام سے مشہور تھا۔ زیب النساء حمید اللہ کی بے لوث خدمات انجام دینے والی باہمت، نڈر و بے خوف خاتون صحافی کے نام پر پرانا نام بدل کر “زیب النساء سٹریٹ” رکھ دیا گیا، جو “زیبی” کے نام سے مشہور ہے۔
آج ہم سب کو، قلمکاروں اور خصوصاً صحافی حضرات کو زیب النساء صاحبہ کے نقشِ قدم پر چلنے کی اشد ضرورت ہے۔ یومِ آزادی آ رہا ہے؛ آئیں ہم سب جذبہِ حب الوطنی سے سرشار ہو کر ملکِ عزیز پاکستان کی ترقی و بقاء کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں اور وطن دشمن عناصر کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنا دیں۔
الداعی الی الخیر واتحاد بین المسلمین: صغیر جعفری