0

انصاف حقیقی – ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 انصاف حقیقی

ایک قدیم عدالتی منظر کی عکاسی کرتی ہوئی ایک تزیینی پینٹنگ، جہاں ایک قاضی تخت پر براجمان ہے اور ایک شخص خشک روٹی ہاتھ میں لیے کھڑا ہے۔ دائیں جانب ایک لڑکا کوئلوں پر کباب بھون رہا ہے اور لوگ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ پینٹنگ کے بیچ میں نستعلیق خطاطی میں عنوان "انصاف حقیقی" اور نیچے "تحریر: صغیر جعفری" اور "ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل" لکھا ہوا ہے۔

 تحریر: صغیر جعفری

قاضی کی عدالت کھچا کھچ بھری ہوئی تھی؛ تجسس کے مارے ہر شخص اس عجیب و غریب مقدمے کا فیصلہ سننے کے لیے بے قرار تھا۔ قاضی کے پاس دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر آئے تھے۔ اس وقت، روایت کے مطابق، وکیل یا ترجمان نہیں ہوتے تھے؛ اپنے مقدمے میں مدعی اور ملزم خود ہی اپنا بیان سناتے تھے اور قاضی صاحب فہم و فراست سے دونوں طرف سے مقدمے کے واقعات و جزئیات سن کر دیانت داری و ایمانداری سے فیصلہ سناتے تھے، اور آج کی طرح مقدمے کو طوالت دے کر اگلی پیشی پر حاضر ہونے کا حکم صادر نہیں فرماتے تھے۔

آج کے اس مقدمے میں ایک کا کہنا تھا، “جنابِ عالی! میں نے نانبائی سے ایک روٹی خرید کر اسے کپڑے میں لپیٹ کر—تاکہ روٹی ٹھنڈی نہ ہو جائے—اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ چلتے ہوئے راستے میں اس شخص کی دکان کے سامنے سے گزرا۔ یہ اپنی دکان میں دہکتے کوئلوں پر کباب بھون رہا تھا۔ بھنے ہوئے گوشت کی اشتہا اور مہک نے میرے قدموں کو جکڑ لیا، تو میں نے وہیں کھڑے کھڑے روٹی کے لقمے بنائے اور ایک ایک لقمہ انہی کبابوں کی خوشبو و مہک کے تصور میں، بغیر کباب خریدے، فقط اپنی روکھی سوکھی روٹی کے نوالے کھانے لگا۔ میں نے جب وہاں سے جانا چاہا تو دکان کے مالک نے مجھے زبردستی پکڑ لیا اور کبابوں کی مہک کی قیمت مانگی؛ جبکہ میں نے کباب نہ تو لیے تھے اور نہ ہی کھائے تھے۔ کیا یہ مناسب ہے جناب کہ جو چیز میں نے خریدی ہی نہیں اور نہ ہی چرائی ہے، تو اس کی قیمت میں کیوں ادا کروں؟“

قاضی نے دکان کے مالک سے اس واقعے کی تصدیق کرنے کے بعد کہا، “بالکل! تم اس خوشبو کی قیمت لینے کے حقدار ہو، اور اجر کی مقدار ہمیشہ کام کے برابر ہو تو پھر انصاف ہوتا ہے۔ لہٰذا تم طے کرو کہ اس مہک کے لیے کتنے دام لینا چاہتے ہو؟“

اس نے جواب دیا، “پانچ درہم جناب۔“

قاضی روٹی کھانے والے شخص کی طرف متوجہ ہوا اور کہا، “پانچ درہم نکال کر ایک درہم کا سکہ ایک ایک کر کے زمین پر پھینکتے جاؤ۔“

اس آدمی نے ایسا ہی کیا اور اپنے پانچ درہم کے سکے یکے بعد دیگرے ایک ایک کر کے پھینکے، حتیٰ کہ زمین پر پانچوں درہم کی یکے بعد دیگرے گرنے کی آواز سب نے اچھی طرح سن لی۔

قاضی نے دکان کے مالک سے کہا، “کیا تم نے پانچ سکوں کی آواز سنی ہے؟“

اس نے جواب دیا، “جی ہاں جناب! میں نے پانچوں درہم زمین پر گرنے کی آواز کو سنا ہے۔“

قاضی نے کہا، “سکوں کی وہ آواز اس مہک کی قیمت ہے جو اس نے منہ سے کھائی ہی نہیں بلکہ صرف سونگھی ہے، اور اب تم نے اپنے کانوں سے اپنی قیمت وصول کر لی ہے؛ لہٰذا حساب برابر ہوا اور مقدمہ ختم ہو گیا۔“

مقدمے میں فوری اور حقیقی انصاف کی روشن مثال آپ نے پڑھی۔ ذرا آج کے دور سے اس فیصلے کا موازنہ فرمائیں۔ یہاں انصاف کے حصول کے لیے سالوں گزر جاتے ہیں۔ دادے کا مقدمہ چلتے چلتے پوتے تک آ پہنچتا ہے۔ فریقین کے وکلاء کی طرف سے دانستہ طور پر التواء اختیار کیا جاتا ہے تاکہ لوٹ مار کا یہ سلسلہ چلتا رہے۔ اس کی بدترین مثال مونال ریستوران اسلام آباد کی ہے، جسے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں نہ گرانے کا حکم اس وقت آیا جب مونال ریستوران کی عمارت کافی عرصہ پہلے مکمل طور پر گرائی جا چکی تھی۔ رشوت اور سفارش سے ججوں کو خرید کر اپنے مفاد میں فیصلے کروائے جاتے ہیں۔

دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی وزیرِ اعظم چرچل سے صحافیوں نے سوال کیا کہ ہمیں جنگ میں شکست ہو رہی ہے، تو چرچل نے جواب دینے کی بجائے یہ پوچھا کہ “ہماری عدالتوں میں انصاف ہو رہا ہے؟“ تو سب صحافیوں نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ “انصاف تو ہو رہا ہے اور عوام ان فیصلوں سے مطمئن ہیں۔“ چرچل نے بڑے اعتماد سے کہا، “تو پھر بے فکر ہو جائیں؛ جب تک ہماری عدالتوں میں انصاف ہوتا رہے گا، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔“

!جولائی 2026 کا تازہ ترین شمارہ اب آن لائن دستیاب ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں