0

بڑے لوگوں کی بڑی باتیں — عظمت، انکساری اور اعلیٰ کردار کے ایمان افروز واقعات

 بڑے لوگوں کی بڑی باتیں

بڑے لوگوں کی بڑی باتیں، صغیر جعفری کا اخلاق، انکساری اور عظیم شخصیات کے سبق آموز واقعات پر مبنی اردو کالم۔
عظمت دولت یا منصب سے نہیں بلکہ کردار، انکساری اور اعلیٰ اخلاق سے پہچانی جاتی ہے۔

از قلم: صغیر جعفری
بڑے لوگوں سے یہاں میری مراد ان کی شان و شوکت، دولت یا امارت کے حوالے سے بڑا ہونا نہیں ہے، بلکہ عمدہ اخلاق، عالی ظرفی، کردار اور عملِ صالح ہے، خواہ ان کا تعلق غریب یا متوسط طبقے ہی سے کیوں نہ ہو۔
عظمت اور کسرِ نفسی کی پہلی روئداد ملاحظہ فرمائیں۔ 


پروفیسر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم استادوں کے استاد تھے، جگت پسند اور جگت گو پکے لاہوریے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں فارسی پڑھاتے تھے، جہاں احمد شاہ پطرس بخاری پرنسپل تھے۔ بعد میں صوفی تبسم صاحب بھی گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل بنا دیے گئے تھے۔ ایک مرتبہ بخاری صاحب کسی کلاس روم میں گئے، جس میں صوفی تبسم صاحب کے صاحبزادے بھی بطور طالب علم موجود تھے۔ فارسی شاعری پر کوئی بات چلی تو پطرس بخاری صاحب نے پوچھا کہ تم لوگوں کو فارسی کون پڑھاتا ہے؟ صوفی صاحب کے صاحبزادے نے فخریہ بتایا کہ میرے ابا پڑھاتے ہیں۔ بخاری صاحب نے پنجابی میں مسکراتے ہوئے کہا کہ “اونوں تے آپ فارسی نئی آؤندی، تہانوں کی پڑھائے گا؟“ یعنی اسے تو خود فارسی نہیں آتی، وہ آپ کو کیا پڑھائے گا۔ یہ بات فارسی کے ایک مستند استاد کے بارے میں اس کے بیٹے سے کہی جا رہی تھی۔ خیر، بات آئی گئی ہو گئی۔ کچھ عرصے کے بعد صوفی صاحب کا بخاری صاحب سے آمنا سامنا ہوا تو صوفی صاحب نے فارسی زبان و ادب میں کمال کی مہارت رکھنے کے باوجود بے حد انکسار سے گلہ کیا کہ “یار بخاری! گل تے تیری سچی اے، پر بچیاں نوں تے اے گلاں نئی دسی دیاں۔“ یعنی یار بخاری! بات تو تمہاری سچ ہے مگر بچوں کے سامنے تو ایسی باتیں نہیں کی جاتیں۔ کسرِ نفسی کی کیا خوبصورت بات ہے۔

بڑے لوگوں کی بڑی باتوں کے سلسلے میں شعر و ادب کی شخصیت کا یہ پہلا واقعہ تھا، اب ذرا سیاسی و معاشرتی دنیا کا واقعہ بھی سن لیجیے۔ ۱۴۰۰ مربع زمین کے مالک وہاڑی کے میاں ممتاز احمد خان دولتانہ کا وہ واقعہ جسے بڑے بوڑھے آج بھی یاد کرتے ہیں۔ بہاولپور جب ایک ریاست تھی، وہاں ایک نوجوان نے غصے میں آ کر قتل کر دیا۔ اس کا والد فوت ہو چکا تھا اور وہ اپنی بوڑھی ماں اور ایک بہن کا اکلوتا سہارا تھا۔ نوجوان کو ریاست کی پولیس نے گرفتار کیا اور نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی کی جیل میں ڈال دیا، جہاں اسے عدالت سے موت کی سزا ہو گئی۔ اب وہ اپنی زندگی کے باقی دن گن رہا تھا۔ اس نوجوان کی بوڑھی ماں نے کئی بڑے لوگوں کی منت سماجت کی کہ اس کے بیٹے کی سزا معاف کرا دیں، لیکن کوئی مدد نہ کر سکا۔

ایک روز کسی نے اس بے بس ماں کو وہاڑی لڈن کے میاں ممتاز احمد خان دولتانہ کا بتایا۔ وہ اسی روز سفر پر نکلی اور دوسرے روز شام کو دولتانہ صاحب کی رہائش گاہ کے دروازے پر آ کر بیٹھ گئی۔ میاں ممتاز دولتانہ شام کو گھر آئے تو اس بزرگ خاتون کو احترام سے اندر لے گئے، کھانا کھلایا اور پھر اس سے پورا ماجرا پوچھا۔ سارا احوال جان کر میاں ممتاز احمد خان دولتانہ نے ایک چٹ نواب آف بہاولپور سر صادق خان کے نام لکھی اور بزرگ خاتون کے حوالے کر دی۔ خاتون نے عرض کیا کہ اگر آپ خود میرے ساتھ چلتے تو وہ آپ کی بات نہ ٹالتے، لیکن میاں صاحب نے فرمایا کہ اگر کوئی میری چٹ اور میرے نام کا پاس نہ رکھے تو مجھے ایسے شخص کے پاس جانے کی کوئی ضرورت نہیں، تم اللہ کا نام لو اور ان کے پاس جاؤ۔

وہ خاتون واپس بہاولپور گئی اور نواب صاحب کے محل کے دروازے پر پہنچ گئی۔ محافظوں نے جب میاں ممتاز دولتانہ کے نام کی چٹھی دیکھی تو دوڑے ہوئے اندر گئے۔ نواب صادق خان نے چٹھی دیکھ کر اماں جی کو اندر بلا لیا اور ایک غریب خاتون کے استقبال کے لیے خود کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے کھڑے کھڑے حکم جاری کیا کہ بزرگ خاتون! آپ بے فکر ہو کر گھر جائیں، کل آپ کا بیٹا آزاد ہو جائے گا۔ دوسرے روز حسبِ وعدہ نواب صادق نے مقتول شخص کے لواحقین کو بلایا، انہیں دیت کی رقم ان کی مانگ کے مطابق اپنی جیب سے ادا کی اور ہدایت کی کہ اللہ کی رضا کے لیے اس شخص کو معاف کر دیں۔ قانونی کارروائی کے بعد اس شخص کو رہا کر دیا گیا۔ سچ کہتے ہیں کہ انسان خود تو مر جاتا ہے مگر اس کے اچھے اعمال زندہ رہتے ہیں۔ وہ بوڑھی خاتون، اس کا جوان قیدی بیٹا، نواب صادق اور ممتاز دولتانہ سب اس دنیا سے چلے گئے، لیکن ان کا یہ عمل آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

تیسرا واقعہ وقار انبالوی صاحب کا ہے، خدا انہیں غریقِ رحمت فرمائے، وہ بڑے ظرف کے مالک تھے۔ نثر نگاری میں جہاں کمال کی مہارت رکھتے تھے، وہاں شاعری میں بھی یکتا تھے۔ میں نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیے اور ان کی صحبت میں کافی عرصہ گزارا۔ لفظ کی حرمت اور موقع محل کے مطابق مناسب و موزوں انتخاب و استعمال میں نے ان ہی سے سیکھا۔ روزنامہ نوائے وقت میں فکاہیہ کالم “سرِ راہے“ لکھتے تھے اور کمال کا لکھتے تھے۔ ہفتے کی شام کو لاہور سے وزیر آباد اپنے گھر جاتے اور اتوار کی چھٹی گزار کر سوموار کی سہ پہر کو واپس دفتر آ جاتے۔ ان کی عدم موجودگی میں “سرِ راہے“ کالم لکھنے کی سعادت مجھے حاصل ہوتی تھی۔

ایک دن سوموار کو وہ واپس آئے تو میں نے ان کی توجہ اس شعر کی طرف دلائی: “اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے / اک ضربِ یدِ اللہی، اک سجدۂ شبیری“۔ یہ شعر کسی رسالے میں علامہ اقبالؒ کے نام سے چھپا تھا۔ وہ رسالہ میں نے ان کے سامنے پیش کر دیا اور عرض کیا کہ یہ شعر غلط طور پر علامہ اقبالؒ سے منسوب کر دیا گیا ہے، حالانکہ اس کے خالق تو آپ خود ہیں۔ رسالے میں شعر دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ “دراصل یہ شعر بڑا تھا مگر اس کا شاعر چھوٹا تھا، لوگوں نے اس شعر کو علامہ اقبال کا سمجھ لیا تو میں نے بھی اس کی تردید نہیں کی۔“ سبحان اللہ! کیا کسرِ نفسی ہے۔ بلا شبہ بڑے لوگوں کی یہی بڑی باتیں اور بڑا ظرف ہوا کرتا ہے۔

جہالت، بے حسی اور غلط فیصلوں کی نذر ہوتی ایک بے قصور زندگی…کیا ساس کی ضد و جہالت اور شوہر کی غفلت رضیہ کی جان لے لے گی؟ پڑھیے علینہ خان کا تحریر کردہ دل کو چھو لینے والا افسانہ “بے مول”۔

🔗 مکمل افسانہ  پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں