شکر گزاری
![]() |
| شکر گزاری: اللہ کی نعمتوں پر دلی تشکر اور عملی اظہار۔ صغیر حسین جعفری۔ ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل |
صغیر حسین جعفری صاحب کے قلم سے
اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار، قیمتی نعمتوں، برکتوں اور رحمتوں سے نوازا ہے کہ ہم ان کا شمار بھی نہیں کر پاتے۔ اللہ تعالیٰ ان عنایات کے بارے میں فرماتے ہیں:
﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾
(ترجمہ: “اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار نہیں کر سکو گے۔“)
پھر ارشاد فرمایا:
﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾
(ترجمہ: “تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔“)
ایک لمحے کے لیے غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار ایسی نعمتیں ہیں جو ہمیں مفت ملی ہیں۔ سورج کی روشنی اور حرارت—جس سے ہمارا سارا نظامِ حیات چلتا ہے—وہ اللہ تعالیٰ ہمیں مفت عنایت فرماتے ہیں۔
سب سے اہم پہلو سانس لینے کے لیے ہوا اور آکسیجن ہے، جس کے بغیر کوئی بھی ذی روح زندہ نہیں رہ سکتا۔ ذرا تصور فرمائیں کہ اگر یہ آکسیجن ہمیں خریدنا پڑتی تو ہمارا کیا حال ہوتا؟ ہسپتالوں میں جو مریض پھیپھڑے کمزور ہونے کی وجہ سے سانس نہیں لے سکتے، انہیں سانس لینے کے لیے آکسیجن کے سلنڈر خریدنے پڑتے ہیں تو ان کا بل کس قدر زیادہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
ہوا کے بعد زندگی کے لیے اہم ضرورت پانی کی ہوتی ہے۔ انسان، حیوانات، چرند پرند—غرض یہ کہ ہر جاندار کی زندگی کے لیے پانی بنیادی ضرورت ہے۔ نباتات پانی کے بغیر نشوونما پا ہی نہیں سکتے۔ پانی جیسی نعمتِ عظمیٰ بھی اللہ تعالیٰ نے مفت عنایت فرمائی ہے۔ دریاؤں اور قدرتی چشموں کا پانی بھی بالکل مفت ملتا ہے۔ اس بات پر بھی غور فرمائیں کہ اگر سمندر کے پانی پر نقل و حمل کے لیے چلنے والے بحری جہازوں کو بھی سمندری پانی پر چلنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی، تو ہمیں کتنا بھاری معاوضہ ادا کرنا پڑتا!
اللہ تعالیٰ کی جس قدر نعمتیں زیادہ اور قیمتی ہیں، ہمیں اسی حساب سے اللہ تعالیٰ کا شکر بھی بجا لانا چاہیے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک صحابی نے عرض کی کہ: “آپ کلیم اللہ ہیں، اللہ تعالیٰ سے میری یہ گزارش کیجیے گا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ دولت میرے پاس اس قدر زیادہ ہے کہ میں اسے صحیح طرح سنبھال نہیں پاتا۔ بس مجھے اتنا ہی عطا فرمائیں جسے میں آسانی سے سنبھال سکوں۔“
حضرت موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھے تو ایک نحیف بڑھیا نے کہا کہ: “میری ایک عرض اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنا کہ میں اکیلی، ضعیف و ناتواں ہوں، میرا کوئی سہارا نہیں ہے اور فاقوں میں زندگی گزار رہی ہوں۔ کیا کبھی میرے بھی اچھے دن آئیں گے؟“
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور ان دونوں کی گزارشات پیش کرنے کے بعد اس شخص سے ملاقات کی جس سے دولت سنبھالی نہیں جا رہی تھی اور اسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا کہ: “تم اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنا شروع کر دو، تمہاری دولت خود بخود تمہارے کنٹرول میں آ جائے گی۔“
تو اس نے عرض کی: “اے اللہ کے رسول! میری دولت اللہ تعالیٰ نے ہی عطا کی ہے، بیشک آئندہ مجھے کوئی دولت نہ دے لیکن میں پھر بھی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہوں گا۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کی نیت دیکھتے ہی اس کی دولت میں مزید اضافہ فرما دیا۔
پھر بڑھیا کے لیے اللہ کا فرمان اسے سنایا کہ ہر حال میں اللہ کا شکر کرنا چاہیے۔ وہ بڑھیا غصے کی تیز تھی، دو بدو ہو کر کہنے لگی: “میں کس چیز کا شکر کروں؟ میرے پاس نہ تو بھیڑ بکریاں ہیں (کیونکہ اس وقت جس کے پاس مال و مویشی زیادہ ہوتے تھے اسے ہی مالدار سمجھا جاتا تھا) اور نہ ہی میرے پاس محل ماڑیاں ہیں۔“
دیکھتے ہی دیکھتے تیز آندھی چلی تو بڑھیا کی کٹیا اڑ کر بکھر گئی۔ اس پر مجھے قرآنِ مجید کی وہ آیتِ کریمہ یاد آ گئی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾
(ترجمہ: “اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اضافے کے ساتھ مزید عطا کروں گا، اور اگر تم میری عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرو گے (ناشکری کرو گے) تو یقیناً میرا عذاب بہت شدید ہے۔“)
وہ بڑھیا اسی ناشکری کے عذاب کا شکار بنی تھی۔
شکر ادا کرنے کی بہترین مثال ہمارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ بابرکات کی ہے۔ آپ ﷺ کی خدمتِ عالیہ میں جو مالِ غنیمت یا صدقہ و خیرات آتا، جب تک وہ سارے کا سارا مال اللہ کی راہ میں اس کی مخلوق میں تقسیم نہیں فرما دیتے، گھر تشریف نہیں لاتے تھے اور فرماتے: “یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے جو مجھے عطا کیا، وہ میں نے تیری مخلوق میں تقسیم کر دیا۔“
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راتوں کے پچھلے پہر اس قدر عبادات فرماتے کہ زیادہ دیر کھڑا رہنے کی وجہ سے آپ ﷺ کے مبارک پاؤں پر ورم (سوجن) آ جاتا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کرتیں: “یا رسول اللہ! تھوڑا آرام فرما لیا کریں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے:
«أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»
(ترجمہ: “کیا میں (اپنے رب کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“)
شکرگزاری (Gratitude) سے مراد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان گنت نعمتوں کا دلی اعتراف کرنا اور زبان و عمل سے اس کا شکر ادا کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا مثبت جذبہ ہے جو انسان کی ذہنی صحت کو بہتر بناتا ہے، خوشی کے احساس میں اضافہ کرتا ہے اور قرآنی تعلیمات کے مطابق مزید نعمتوں کے حصول کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔
شکرگزاری کے درجے اور اظہار کے طریقے:
-
دل سے شکر: نعمتوں کی قدر کرنا اور انہیں ہمیشہ اللہ ہی کی طرف سے عطا سمجھنا۔
-
زبان سے شکر: کثرت سے اللہ کی حمد و ثناء کرنا اور “الحمد للہ“ کہنا۔
-
عمل سے شکر: اللہ کی دی ہوئی نعمتوں، صحت، مال و دولت اور صلاحیتوں کو اس کی رضا اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت بھی عین شکرگزاری ہے۔
شکرگزاری کے فوائد:
شکرگزار انسان ہمیشہ ذہنی سکون میں رہتا ہے۔ اسلام میں اس کی بہت اہمیت ہے، اور حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کے مطابق جو شخص لوگوں کے احسانات کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا۔
قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾
(ترجمہ: “اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ نوازوں گا یعنی اور زیادہ عطا کروں گا۔“)
مذہبی و روحانی پہلوؤں کے علاوہ جدید سائنسی تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ شکرگزاری کرنے والے افراد زیادہ پرخلوص، پرامید، پرسکون اور بہتر سماجی تعلقات نبھانے والے ہوتے ہیں۔ معاشرے میں ان کا کردار ہمیشہ مثبت ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بیش بہا اور بیش قیمت نعمتوں کے حصول اور ان نعمتوں کو مزید بڑھانے کے لیے ہمیں ہر صورت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکرگزاری کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کے احکامات کے مطابق، مخلوق کی ضروریات کا احساس و خیال رکھتے ہوئے مستحق و نادار لوگوں میں انصاف کے ساتھ تقسیم کیا جائے۔ یہی مثبت جذبہ اور خدمتِ خلق، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا بہترین ‘عملی شکر‘ ہے۔
