کیا انسانی شکل میں کبھی خدا آپ کے پاس آیا ہے؟
روشن باطن کا انسان سچا، شریف اور مخلص ہوتا ہے، جو اپنی تکلیفوں اور دُکھوں کی شکایت کر کے دوسروں کو رنجیدہ نہیں کرتا اور نہ ہی اپنی اہمیت جتانے کے لیے دوسروں کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے۔ خود غرض نفس کے امراض میں مبتلا انسان کے علاج کا علم جاننے میں یہ بات معلوم ہوئی کہ انسان جلد ہی صحت یاب ہو سکتا ہے، اگر وہ روز یہ سوچے کہ دوسروں کو خوشی کیسے پہنچائی جا سکتی ہے۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں؛ جب مجھے کوئی خوشی نہیں دیتا تو میں کیوں کسی کو خوشی دینے کی کوشش کروں؟ اس کے جواب میں کہنا چاہوں گا کہ آپ اپنی قلبی صحت کا خیال صرف ایسے ہی رکھ سکتے ہیں کہ آپ دوسروں کی خوشی چاہیں۔ یہ چاہنا خود اپنے آپ میں ایک شفا بخش دوا ہے، جو نفس کی تکلیفوں میں سکون بخشتا ہے۔ کسی میں سماجی خدمت کا شعور اُجاگر کرنا، آپس میں نیکی کی لذت بانٹنا ہے۔ معاشرے میں انسانی حسنِ سلوک کی خوشگوار فضا پھیلائی جائے، تو آپ کا اپنا وجود بھی تسکین بخش احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مذہبی فریضہ بھی یہی عائد ہوتا ہے کہ انسانیت سے محبت و خیال کا برتاؤ رکھا جائے۔ دوسروں کی آسانی کے کاموں میں دلچسپی نہ رکھنے والے خود عظیم ترین مشکلوں میں مبتلا رہتے ہیں؛ ایسے انسانوں میں ہی ناکامیوں کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ ہمارے اندر کا اچھا انسان دوسروں سے یہی مطالبہ و گمان رکھتا ہے کہ وہ اچھے شریکِ کار ہوں، حسنِ سلوک اور محبت میں سچے رفیق ہوں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ نیک کام وہ ہوتا ہے جو دوسرے کے چہرے پر خوشی کی مسکراہٹ پیدا کر دے۔
میرے ساتھ بھاری رقم پر مبنی سائبر کرائم ہو گیا۔ انصاف کی فراہمی و مجرموں کی گرفتاری کے لیے سرکاری ادارے میں گیا، مگر وہاں سرکاری ملازمین عام شہری کو مفت انصاف دینا خسارے کی نوکری سمجھتے ہیں؛ لہذا ناکامی و مایوسی پر مبنی نتیجہ مدعی کو تکلیف اور ملزم کو ریلیف نکلا۔
خدائی امتحان پر مبنی مشکل کی گھڑی سے گزرے تلخ اوقات کی کارگزاری میں، مشکل کا دوسرا چہرہ دکھانا چاہوں گا۔ ہر انسانی وجود پر مشکلات ضرور آتی ہیں اور انسان مشکل وقت کو آسان بنانے والے رشتے سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے۔ میرے پاس بھی چند احباب تھے جنہیں میں نے ہیرے، موتی، جواہرات سمجھ کر اپنے دامنِ حیات میں سنبھال رکھا تھا؛ مگر جب ضرورت پڑی اور مشکل زدہ آنکھوں سے دامنِ حیات میں رکھے ہیرے، موتی، جواہرات جیسے لوگوں کی طرف دیکھا، تو وہ کنکر، پتھر، روڑے نکلے۔
واردات کے درد میں جب یہ زخم ملا، تو رُوح کی چیخوں نے نیند میں سوراخ کر دیے۔ کئی راتیں سو نہ سکا اور خدا کے قریب آنے والے وقت، تہجد میں خدا سے کہا کہ: “اے رب! جو بندہ ساری زندگی تیری دی ہوئی خودداری میں تیرے سوا کسی سے حاجت پوری کروانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، وہ اب کسی انسان کے در پہ سوال کرے گا تو مر جائے گا۔ کیا تجھے ناگوار نہیں گزرے گا کہ تیرے در کا سوالی دنیا داروں کے سامنے سوال کرے؟ یہ اذیت کم تو نہیں کہ کوئی سفید پوش، خوددار انسان کسی کم ظرف کا محتاج ہو جائے؟ پھر مال کی محبت میں گرفتار انسان تو انکار ہی کرتا ہے اور اس انکار کی شرمندگی بھی ساری زندگی جھیلنا پڑتی ہے۔ اے خدا! مجھے اپنے تک رہنے والی آزمائش کے ذریعے بھلے آزما لے، مگر انسانوں کے ذریعے مت آزما۔“ اب خدا نے ایک لوگوں کی آخرت کی فکر کرنے والے عبادت گزار شخص کے پاس بھیجا؛ اسے جا کر مشکل بیان کی، تو اس نے مدد کرنے کی بجائے دو رکعت نماز برائے حاجت کا مشورہ دے کر اُسی خدا کے پاس بھیج دیا جس نے مجھے اس کے پاس بھیجا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ دنیا کا مال خدا کے نام پر خدا کے بندوں میں تقسیم نہ کرنے والوں سے خدا اپنی جنت کیسے تقسیم کروا سکتا ہے؟ میں نے پھر خدا سے کہا کہ مجھ سے وہ سوال کسی انسان سے نہیں ہو پائے گا، جو میں صرف اے خدا تجھ سے کرتا ہوں۔ پھر خدا نے مجھ پہ ترس کھاتے ہوئے میری آدھی مشکل ایک احساس زدہ دل کے ذریعے پوری کی، اور آدھی اسے صبر دے کر جس کا مجھ سے نقصان ہوا تھا۔ نقصان زدہ حادثے سب کے ساتھ ہوتے ہیں، سب کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ ہم خدا کو کہاں تلاش کریں؟ تو آپ ﷺ نے اک لمحہ سوچے بغیر کہا کہ: “اُس کے بندوں میں۔“ مولانا جلال الدین رومیؒ مثنویِ روم میں لکھتے ہیں کہ ایک صاحبِ حیثیت شخص نے خدا سے سوال کیا کہ: “اے رب! میں تجھ سے ملنا چاہتا ہوں، بات کرنا چاہتا ہوں“، تو خدا نے جواب دیا: “یاد کر سردیوں کی وہ رات، جب ایک مصیبت زدہ، پریشان حال انسان سردی میں ٹھرٹھراتا تیرے دروازے پر آیا تھا اور تو اپنے نرم و گرم بستر سے اُٹھ کر اُس تک جا نہ سکا؛ وہ تو میں تھا۔“
یہ جو مشکل و مصیبت زدہ سوالی کی مدد کرنے کی بجائے “مال بچاؤ عقل مندی“ کا مظاہرہ کرتے ہیں نا، دراصل یہ پاس آنے والے خدا کو دُور کر دینے کی بدقسمتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خدا پریشان حال کے ذریعے خوش حال کو آزماتا ہے۔ جب آپ دوسروں کو خوشی دینے کی نیکی میں محنت کرتے ہیں، تو اپنے متعلق بھول جاتے ہیں۔ پریشانی، خوف اور ناکامی کی بڑی وجہ اپنے متعلق سوچتے رہنا ہے؛ ایسی اذیت میں مبتلا مریض نے یتیم کو خوش کرنے کی کوشش کی اور اپنی گم شدہ خوشی پا لی۔ جیسے بندہ خدا سے اپنی خوشی کے لیے جائے اور پیغمبرانہ ذمہ داری میں دوسروں کی خوشی پر ڈیوٹی لے کر لوٹ آئے، اور پھر تاحیات خدا کے دھیان میں رہے۔ یہ احساس مل جائے تو بندہ اپنا آپ قربان کر دینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ دوسروں کے لیے مدد، عزت، اہمیت اور محبت ایسا طاقتور جذبہ ہے، جو اپنی پریشانی، غم، اُداسی اور پژمردگی پر غالب آ جاتا ہے اور اپنے آپ کو ایک نئے انسان کے احساس میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ آفاقی جذبہ، لاشعوری طور پر قوتِ خودارادی فنا کر لینے والے انسان کو خود غرضی کے خول سے نکال کر حقیقی خوشی سے لطف اندوز کرتا ہے۔

