0

کیا لکھاری ہونا جرم ہے؟ – ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 کیا لکھاری ہونا جرم ہے؟ 

کیا لکھاری ہونا جرم ہے؟ – سید ساجد علی شاہ کی تحریر کے لیے ایک خوبصورت سرورق (Cover Image)، جس میں ایک قلمدان، پرانی کتابیں، اور ایک لائبریری کا پس منظر دکھایا گیا ہے، جس پر تحریر کا عنوان اور ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کا لوگو موجود ہے۔

 سید ساجد علی شاہ

قلم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خیالات، احساسات، تجربات اور مشاہدات کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں بھی قلم کی قسم کھائی گئی ہے، جو اس کی عظمت اور اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ ایک لکھاری معاشرے کا وہ حساس اور باشعور فرد ہوتا ہے جو صرف الفاظ نہیں لکھتا بلکہ قوموں کی سوچ، فکر اور کردار کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ وہ معاشرے کے مسائل کو محسوس کرتا ہے، دکھ درد کو اپنی تحریر میں سمیٹتا ہے، مظلوم کی آواز بنتا ہے، ظالم کے سامنے کلمۂ حق بلند کرتا ہے اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

لیکن افسوس کہ آج کے دور میں ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے سچ لکھنا ایک جرم بن گیا ہو۔ اگر کوئی قلم کار معاشرتی برائیوں، کرپشن، ناانصافی، مہنگائی، بے روزگاری، اقربا پروری، اخلاقی زوال یا عوامی مسائل پر قلم اٹھاتا ہے تو بجائے اس کی تحریر پر غور کرنے کے، اس کی ذات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے کردار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، اس کی نیت پر شک کیا جاتا ہے اور اسے مختلف القابات سے نوازنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایک لکھاری کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ سچ بولتا اور سچ لکھتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ جرم نہیں بلکہ ایک عظیم خدمت ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں اہلِ قلم نے سخت آزمائشوں کا سامنا کیا۔ بہت سے ادیب، شاعر، صحافی اور دانشور صرف اس لیے مشکلات کا شکار ہوئے کہ انہوں نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ مگر انہوں نے اپنے قلم کا سودا نہیں کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خاموش قلم زندہ معاشروں کی علامت نہیں ہوتا۔ اگر اہلِ قلم مصلحت کا شکار ہو جائیں، حقائق کو چھپانے لگیں اور صرف خوشامد پر مبنی تحریریں لکھیں تو معاشرے میں اندھیرا پھیل جاتا ہے۔ پھر جھوٹ کو سچ، ظلم کو انصاف اور برائی کو اچھائی سمجھا جانے لگتا ہے۔

ایک ذمہ دار لکھاری کا فرض ہے کہ وہ حقائق کو تحقیق کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرے، کسی کی ذاتی تضحیک نہ کرے، مگر سچ کو بھی نہ چھپائے۔ بدقسمتی سے آج سوشل میڈیا نے لکھنے کے عمل کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ ہر شخص چند جملے لکھ کر خود کو مصنف، کالم نگار یا تجزیہ نگار سمجھنے لگا ہے، جبکہ حقیقی لکھاری بننے کے لیے مسلسل مطالعہ، وسیع مشاہدہ، تحقیق، زبان و بیان پر عبور، املاء اور رموزِ اوقاف کی درستگی، اخلاقی ذمہ داری اور دیانت داری بنیادی شرائط ہیں۔

اصل لکھاری اپنے قلم کو امانت سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک لفظ کسی کی عزت بھی بڑھا سکتا ہے اور کسی کی زندگی بھی متاثر کر سکتا ہے، اس لیے وہ سوچ سمجھ کر لکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج اصل لکھاری کو بھی مصنوعی ذہانت، نقل اور غیر معیاری تحریروں کے ہجوم میں پہچاننا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس سے محنت کرنے والے اہلِ قلم کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔

ایک مہذب معاشرہ ہمیشہ اپنے ادیبوں، شاعروں، کالم نگاروں، صحافیوں اور دانشوروں کی عزت کرتا ہے، کیونکہ یہی طبقہ معاشرے کی فکری سمت متعین کرتا ہے۔ اختلافِ رائے ہر انسان کا حق ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کر دینا کسی بھی مہذب قوم کی نشانی نہیں۔ اگر کسی تحریر میں غلطی محسوس ہو تو دلیل اور شائستگی سے اس کی اصلاح کی جا سکتی ہے، لیکن گالم گلوچ، کردار کشی، دھمکیاں اور نفرت آمیز رویے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم دلیل سے زیادہ جذبات کے اسیر بنتے جا رہے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ تحریر کو پڑھے بغیر صرف لکھنے والے کے نام کو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں، حالانکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے بات کو سمجھا جائے، پھر اس پر اظہارِ خیال کیا جائے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اہلِ قلم کو تحفظ فراہم کیا جائے، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نئی نسل میں مطالعے اور معیاری تحریر کا ذوق پیدا کیا جائے۔ اسکولوں، کالجوں، جامعات اور ادبی تنظیموں کو چاہیے کہ نوجوان لکھنے والوں کی رہنمائی کریں تاکہ وہ ذمہ دار، باکردار اور بااصول قلم کار بن سکیں۔

معاشرے کی اصلاح صرف قانون سے ممکن نہیں بلکہ شعور سے ممکن ہے، اور شعور پیدا کرنے میں قلم کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ اگر قلم خاموش ہو جائے تو معاشرہ فکری طور پر مفلوج ہو جاتا ہے، کیونکہ خاموش قلم ظلم کی طاقت کو بڑھا دیتا ہے۔ لکھاری ہونا ہرگز جرم نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری، قومی خدمت اور اخلاقی فریضہ ہے۔ جرم تو یہ ہے کہ سچ کو دبایا جائے، حقائق کو مسخ کیا جائے، اہلِ قلم کی آواز کو خاموش کیا جائے اور معاشرے کو لاعلمی کے اندھیروں میں دھکیل دیا جائے۔

زندہ قومیں اپنے قلم کاروں کو عزت دیتی ہیں، ان کے اختلافِ رائے کو برداشت کرتی ہیں اور ان کی تحریروں سے اپنی اصلاح کا راستہ تلاش کرتی ہیں۔ قلم کی روشنائی وقتی نہیں ہوتی بلکہ نسلوں تک اپنا اثر چھوڑتی ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ ہم لکھاری کو مجرم نہیں بلکہ قوم کا معمار، رہنما اور ضمیر سمجھیں، کیونکہ جب تک قلم زندہ ہے تب تک شعور زندہ ہے، امید زندہ ہے اور ایک بہتر، مہذب اور باوقار معاشرے کی تعمیر کا خواب بھی زندہ رہے گا۔

پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر جاپان کی گلیوں میں گھومنے کے لیے
 ابھی یہاں کلک کریں اور قسط نمبر 2 کا لطف اٹھائیں! 

طلوعِ آفتاب کی سرزمین: اکیس شہر، اکیس کہانیاں – قسط نمبر 2 کے لیے ایک خوبصورت سرورق (Cover Image)، جس میں جاپان کے ٹوکیو شہر کا مشہور سکائی لائن (Skyline) اور غروبِ آفتاب کا ایک دلکش نظارہ دکھایا گیا ہے، جس پر قسط کا عنوان اور مصنفہ کا نام "علینہ خان" موجود ہے۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں