0

جشن میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم: روشنی یا کردار؟ | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 جشن میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم: روشنی یا کردار؟


جشن میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم روشنی یا کردار از قلم طارق بلال لیل - ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل
جشن میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم: روشنی یا کردار؟ | از قلم: طارق بلال لیل | پیشکش: ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل



از قلم: طارق بلال لیل

ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی فضا میں ایک انوکھی معطر لہر دوڑ جاتی ہے۔ بازار سبز جھنڈوں سے مزین ہو جاتے ہیں، شاہراہیں قمقموں سے روشن ہوتی ہیں اور مساجد سے نعت خوانی کی صدائیں گونجنے لگتی ہیں۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں پروردگار عالم نے اپنی سب سے عظیم نعمت، سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جہان میں مبعوث فرمایا۔ رحمت للعالمین کی ولادت پر جشن منانا، چراغاں کرنا، جلوس نکالنا اور محافل کا انعقاد یقیناً ہماری عقیدت کا اظہار ہے۔
مگر آج سوچ کر دل بے چین ہو جاتا ہے کہ کیا ہم نے اس عقیدت کا حق بجا لایا؟ کیا ہم اس پیغام کی روح تک پہنچے جس کے لیے حضور تشریف لائے؟ ہمارے شہر ہڑپہ اور ساہیوال کی گلیاں تو سج چکیں، لیکن ہمارے کاروبار سے دیانت رخصت ہو چکی۔ ہم میلاد کی بڑی بڑی تختیاں تو آویزاں کر دیتے ہیں مگر دودھ میں ملاوٹ سے باز نہیں آتے۔ ہم نعت کی نشستیں تو کرواتے ہیں مگر ترازو میں کمی کر جاتے ہیں۔ ہم گنبد خضرا کے ماڈل تو بناتے ہیں مگر پڑوسی کی خبر گیری نہیں کرتے۔ یہ کیسی وفا ہے جو صرف نعروں میں زندہ ہے اور عمل میں مردہ؟
نبی کریم اس دنیا میں اس غرض سے نہیں آئے تھے کہ ہم سال میں ایک بار ان کا تذکرہ کر لیں۔ وہ اس لیے مبعوث ہوئے تاکہ ہم اپنی پوری حیات ان کے نقش قدم پر گزار دیں۔ آپ نے فرمایا مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔ آپ نے فرمایا میں استاد بنا کر بھیجا گیا۔ آپ نے فرمایا تم میں سب سے افضل وہ ہے جس کے اطوار سب سے عمدہ ہوں۔
آج ہمارے اداروں میں رشوت کا بازار گرم ہے۔ کچہریوں میں انصاف نیلام ہو رہا ہے۔ مدارس میں معلم شفقت سے سبق نہیں دیتا۔ گھروں میں بڑوں کی توقیر اور چھوٹوں پر شفقت ناپید ہے۔ منڈیوں میں ملاوٹ کا دورہ ہے۔ PCRWR نے اعلان کیا کہ 29 کمپنیوں کا بوتل بند پانی زہر آلود ہے۔ کیا کسی سوداگر نے کہا کہ یہ میرے آقا کی تعلیمات کے منافی ہے؟ نہیں۔ کیونکہ ہم نے مذہب کو صرف محفلوں کا حصہ بنا دیا ہے۔
ہم فراموش کر بیٹھے کہ حضور کی سب سے بڑی صفت سچائی تھی۔ وہ “الصادق الامین“ کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ آج ہم جھوٹ بول کر تجارت چمکاتے ہیں۔ حضور کی سب سے بڑی صفت انصاف تھا۔ انہوں نے ارشاد فرمایا اگر میری صاحبزادی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ آج ہم صاحب اقتدار کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اور نادار کو پامال کر دیتے ہیں۔ حضور کی سب سے بڑی صفت شفقت تھی۔ وہ معرکہ میں بھی درختوں کو نقصان نہ پہنچانے کی تلقین کرتے تھے۔ آج ہم سڑک پر معمولی بات پر ایک دوسرے پر برس پڑتے ہیں۔
ربیع الاول ہمیں سبق دیتا ہے کہ عشق کا امتحان قمقموں سے نہیں، اطوار سے ہوتا ہے۔ ہڑپہ اولیاء کی سرزمین ہے۔ یہاں کے باشندے سادہ مزاج اور محبت کرنے والے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مہینے کو محاسبے کا مہینہ بنا لیں۔ تاجر پختہ ارادہ کرے کہ وہ اس ماہ وزن پورا دے گا۔ افسر عزم کرے کہ وہ اس ماہ رشوت سے دور رہے گا۔ معلم نیت کرے کہ وہ مستحق طالب علم کو مفت تعلیم دے گا۔ طبیب عہد کرے کہ وہ مریض سے نرمی برتے گا۔ نوجوان عہد کرے کہ وہ زبان کو گالی سے بچائے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف 12 تاریخ کو تعطیل نہ کرے بلکہ پورے مہینے کو “مہینہ سیرت“ قرار دے۔ تعلیمی اداروں میں سیرت نگاری کے مقابلے منعقد ہوں۔ منبروں سے مقررین صرف واقعات نہ سنائیں بلکہ یہ بھی بتائیں کہ رسول نے قرض کیسے ادا کیا، ہمسائے سے کیسا برتاؤ کیا، ازواج سے کیسا سلوک کیا۔ ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ 30 دن تک “نبی کا نظام معیشت“، “نبی کا نظام عدل“، “نبی کی فلاحی خدمات“ پر خصوصی پروگرام نشر کریں۔
یاد رکھیں باری تعالی نے ارشاد فرمایا “لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ“ یعنی تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات بہترین نمونہ ہے۔ نمونہ دیوار کی زینت بنانے کے لیے نہیں ہوتا، زندگی میں ڈھالنے کے لیے ہوتا ہے۔ آج ہماری نوجوان نسل مایوسی، ذہنی دباؤ اور غیر قانونی سفر کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ انہیں ایک آئیڈیل کی تلاش ہے۔ وہ آئیڈیل محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جو یتیم تھے مگر رہبر بنے۔ جو تنگدست تھے مگر فیاض تھے۔ جو با اختیار تھے مگر خاکسار تھے۔
آخر میں گزارش یہی ہے کہ آئیں اس ربیع الاول میں ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زبان سے بدکلامی مٹائیں گے، اپنے ہاتھ کو ناجائز سے روکیں گے، اپنے دل کو کینے سے پاک کریں گے۔ ہم اپنے شہر کی صفائی کا خیال رکھیں گے، اپنے وطن سے وفا کریں گے، اپنے قوم کی خدمت کریں گے۔ یہی حقیقی جشن ولادت ہے۔ یہی درود کا تقاضا ہے۔ بصورت دیگر ہماری محافل، ہمارے جلوس اور لاکھوں کے چراغاں سب بیکار جائیں گے اگر سیرت نہ اپنائی۔ اللہ کریم ہمیں سچا غلام رسول بنائے اور روز محشر اپنے حبیب کے پرچم تلے ہمیں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں