0

ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کیوں دشوار؟ – ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کیوں دشوار؟

تحریر: سید ساجد علی شاہ

ریاست اور اس کے ادارے کسی بھی ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں، لیکن ان اداروں کی اصل طاقت عمارتیں، قوانین یا مشینری نہیں بلکہ وہ انسان ہوتے ہیں جو اپنی پوری زندگی ان کی خدمت میں صرف کر دیتے ہیں۔ ایک سرکاری ملازم اپنی جوانی، اپنی توانائیاں، اپنی صلاحیتیں، اپنی صحت، اپنی خوشیاں اور اپنے خاندان کے قیمتی لمحات سرکاری ذمہ داریوں کی نذر کر دیتا ہے۔ وہ گرمی، سردی، بارش، آندھی اور ہر طرح کے حالات میں اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ وہ اس امید کے ساتھ ملازمت کرتا ہے کہ جب عمر ڈھل جائے گی، بال سفید ہو جائیں گے، جسم میں پہلے جیسی طاقت باقی نہیں رہے گی اور ریٹائرمنٹ کا وقت آئے گا؛ تو ریاست اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے باعزت زندگی گزارنے کے لیے مناسب پنشن فراہم کرے گی۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ملازم کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا اس کی پنشن ہوتی ہے، مگر جب یہی پنشن مہنگائی کے سامنے بے بس ہو جائے، جب سالہا سال خدمات انجام دینے والے بزرگ صرف تین یا چار فیصد اضافے کے محتاج رہ جائیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ: کیا اس معمولی اضافے سے کسی گھر کا چولہا جل سکتا ہے؟ کیا بجلی، گیس، پانی، ادویات، کرایہ، تعلیم اور روزمرہ ضروریات کے اخراجات پورے کیے جا سکتے ہیں؟ یقیناً جواب نفی میں ہے۔

آج مہنگائی نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے، لیکن سب سے زیادہ پریشان حال سفید پوش طبقہ ہے؛ خصوصاً وہ بزرگ پنشنرز جن کے لیے آمدنی کا واحد ذریعہ پنشن ہے۔ ہر ماہ وہ پنشن وصول کرتے ہیں، لیکن چند ہی دنوں میں یہ رقم ضروری اخراجات کی نذر ہو جاتی ہے، جس کے بعد پورا مہینہ شدید مالی پریشانی میں گزرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب پنشن گزارے کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی، مگر آج یہ محض ایک علامتی رقم بن کر رہ گئی ہے۔

افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ بعض اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین کو بروقت پنشن بھی نہیں ملتی؛ کہیں ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے، کہیں واجبات برسوں تک زیر التوا رہتے ہیں، اور کہیں ایسے قوانین نافذ کیے جاتے ہیں جن سے بزرگ ملازمین کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال ریاست کی خدمت میں گزارے، مگر بڑھاپے میں انہیں دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

پنشن میں تین یا چار فیصد اضافہ، حقیقت میں اضافہ نہیں بلکہ ایک رسمی کارروائی محسوس ہوتی ہے۔ جب اشیائے خورونوش، ادویات، بجلی، گیس، پٹرول اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہوں، تو اتنا معمولی اضافہ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنشن میں اضافہ مہنگائی کی حقیقی شرح کے مطابق کیا جائے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین باوقار زندگی گزار سکیں۔

بڑھاپا ویسے ہی بیماریوں کا زمانہ ہوتا ہے۔ دل، شوگر، بلڈ پریشر، جوڑوں کے درد اور دیگر امراض کے علاج پر ہزاروں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ ایک پنشنر اپنی ادویات خریدے، بچوں کی ضروریات پوری کرے، گھر کا کرایہ دے، بجلی اور گیس کے بل ادا کرے یا روزمرہ کھانے پینے کا انتظام کرے؟ یہ وہ تلخ سوالات ہیں جن کا جواب حکمرانوں کو دینا چاہیے۔

اسلام نے بزرگوں کے احترام، ان کی کفالت اور ان کی عزت پر بہت زور دیا ہے۔ ایک اسلامی معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بزرگ شہریوں کو معاشی تحفظ فراہم کرے۔ جو افراد عمر بھر قوم کی خدمت کرتے رہے، انہیں بڑھاپے میں بے یار و مددگار چھوڑ دینا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ ہی سماجی انصاف کے تقاضوں کے مطابق۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ایک سرکاری ملازم اپنی ملازمت کے دوران متعدد مراعات سے بھی محروم رہتا ہے۔ محدود تنخواہ، محدود وسائل اور محدود آسائشوں کے باوجود وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اگر اس کی پنشن بھی اس کی ضروریات پوری نہ کر سکے، تو یہ معاشرتی ناانصافی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ پنشن کے نظام میں جامع اصلاحات کرے۔ پنشن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے، مہنگائی کے تناسب سے خودکار ایڈجسٹمنٹ کا نظام بنایا جائے، اور بزرگ پنشنرز کے لیے مفت یا رعایتی علاج، ادویات، سفری سہولیات اور دیگر بنیادی مراعات فراہم کی جائیں۔ جن اداروں میں پنشن کی ادائیگی میں رکاوٹیں ہیں، انہیں فوری دور کیا جائے تاکہ بزرگ افراد کو ذلت آمیز انتظار نہ کرنا پڑے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ پنشنرز کے لیے ایک مضبوط فلاحی نظام قائم کیا جائے جہاں وہ اپنی شکایات بلاخوف درج کرا سکیں اور ان کا بروقت ازالہ ہو۔ معاشرے کی ترقی کا پیمانہ صرف بلند عمارتیں اور بڑے منصوبے نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بزرگ شہریوں کے ساتھ کس درجے کا سلوک کرتا ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج کے پنشنرز کل کے سرکاری ملازمین تھے، اور آج کے ملازمین کل کے پنشنرز ہوں گے۔ اگر آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا، تو آنے والے برسوں میں لاکھوں خاندان اسی کرب سے گزریں گے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، پارلیمنٹ اور متعلقہ ادارے پنشنرز کے مسائل کو محض اعداد و شمار کا معاملہ نہ سمجھیں بلکہ اسے انسانی وقار، سماجی انصاف اور قومی ذمہ داری کا مسئلہ تصور کریں۔ جن لوگوں نے اپنی جوانی ریاست کے نام کر دی، ان کے بڑھاپے کو آسان بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، احسان نہیں۔

آخر میں اربابِ اختیار سے یہی گزارش ہے کہ خدارا پنشنرز کی فریاد سنیں! ان کی پنشن میں ایسا اضافہ کریں جو حقیقی معنوں میں ان کے لیے ریلیف ثابت ہو۔ ان کے علاج، رہائش اور روزمرہ ضروریات کا خیال رکھا جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام عزت، سکون اور اطمینان کے ساتھ گزار سکیں۔ یہی ایک مہذب، باوقار اور ذمہ دار ریاست کی پہچان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں