ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟
الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ
”دعا عبادت کا مغز (دماغ) ہے۔“ دوسرے لفظوں میں عبادات کا محور و مرکز دعا ہی ہے۔ ہمیں ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے دعا کے ذریعے اپنی حاجات اور پریشانیوں کا حل تلاش کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے سخی ہیں کہ وہ مانگنے والے سے خوش ہوتے ہیں۔
اس مادی دور میں ہر شخص پریشان ہے اور اپنی پریشانیاں دور کرنے کے لیے معاشی اسباب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور بھی دستِ بدعا رہتا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی مشکلات جلد از جلد ختم ہوں اور وہ گڑگڑا کر دعا کرتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کا اپنا ایک نظام ہے جس کے تحت وہ دعائیں قبول فرماتا ہے:
-
رزقِ حلال (شرطِ اول): اگر کسی کی آمدنی کا ذریعہ رزقِ حلال نہیں ہے تو دعائیں قبول نہیں ہوتیں، چاہے وہ دن رات سجدے میں گر کر دعائیں مانگتا رہے۔
-
مناسب وقت: اللہ تعالیٰ دعائیں ایسے وقت میں قبول فرماتا ہے جو انسان کے لیے سب سے بہتر اور مناسب ہوتا ہے، مگر انسان اس حکمت سے ناواقف ہوتا ہے۔
-
نعم البدل: جو دعائیں ظاہر میں قبول ہوتی نظر نہیں آتیں، اللہ تعالیٰ ان کے بدلے انسان کو کسی ناگہانی مصیبت یا حادثے سے محفوظ رکھ لیتا ہے جس کا اسے اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
-
آخرت کا ذخیرہ: اس دنیا میں جو دعائیں قبول نہیں ہوتیں، اللہ تعالیٰ آخرت میں ان کے صلے کے طور پر انسان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
سورة الأنبياء: سورۃ الاستجابت
قرآنِ مجید کی ایک سورت ایسی ہے جسے لوگ ”سورۃ الاستجابت“ (دعاؤں کے قبول کیے جانے والی سورت) کہتے ہیں اور وہ ہے سورۃ الأنبياء۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا: ”فَاسْتَجَبْنَا لَهُ“ (ہم نے اس کی دعا سن لی / قبول کر لی)۔
یہ وہ سورۃ مبارکہ ہے جو اس وقت پڑھی جاتی ہے جب زمین کے تمام دروازے بند ہو جائیں اور صرف ایک آسمانی در باقی بچے جہاں سے امید کی روشنی اترتی ہے اور دل کو یقین و سکون ملتا ہے۔ یہ قرآنِ کریم کی واحد سورت ہے جس میں لفظ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ اس خاص انداز سے بار بار آیا ہے۔
یہ سورت ان بند تالوں کی کنجی ہے جنہیں کوئی اور نہیں کھول سکتا۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دعا کیسے ناُمیدی کے تالوں کو توڑتی ہے:
-
حضرت نوح علیہ السلام: جنہوں نے شدید کرب میں دعا کی:
-
﴿وَنُوحًا إِذْ نَادَىٰ مِن قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ﴾
-
(اور نوح کو یاد کرو جب انہوں نے اس سے پہلے پکارا، تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں اور ان کے گھر والوں کو بڑے کرب سے نجات دی)۔
-
-
حضرت ایوب علیہ السلام: جو بیماری اور تکلیف میں صبر کے ساتھ رب کو پکارتے رہے:
-
﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ﴾
-
(تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور جو تکلیف انہیں تھی اسے دور کر دیا)۔
-
-
حضرت یونس علیہ السلام: جنہیں غم نے گھیر لیا اور انہوں نے تاریکیوں میں پکارا:
-
﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾
-
(ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی۔ اور ہم اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں)۔
-
-
حضرت زکریا علیہ السلام: جنہوں نے بڑھاپے میں اولاد کے لیے التجا کی:
-
﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ﴾
-
(اور ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں یحییٰ عطا کیے اور ان کی بیوی کو ان کے لیے درست کر دیا)۔
-
کیا یہ بشارت صرف انبیاء کے لیے ہے؟
جواب اس سورت کے اندر ہی موجود ہے:
﴿رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ﴾
(یہ ہماری طرف سے رحمت ہے اور تمام عبادت گزاروں کے لیے نصیحت و یاد دہانی ہے)۔
یعنی یہ سب کچھ ان عام بندوں کے لیے بھی ہے جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی یاد میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:
﴿إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾
(بیشک یہ لوگ نیکی کے کاموں میں جلدی کرتے تھے، اور ہمیں امید اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے آگے عاجزی کرنے والے تھے)۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے فرمایا گیا کہ ان کی دعائیں بھی قبول کی جاتی ہیں۔
اس مبارک سورت کو اپنے دل میں بسائیے اور آنسوؤں کے ساتھ اس کی تلاوت کیجیے۔ ان شاء اللہ! اس کی تلاوت سے نہ صرف آپ کو ہر قدم پر کامیابی ملے گی، بلکہ بے چین دل کو اطمینانِ حقیقی اور سکونِ قلبی نصیب ہوگا۔ خضوع و خشوع، صدقِ دل، خلوصِ نیت اور کامل یقین کے ساتھ اس کا تسلسل برقرار رکھیے، اللہ تعالیٰ آپ کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے گا۔
داعی الی الخیر واتحاد بین المسلمین

