پاکستان میں بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات، اس کے اسباب اور سزا کا شرعی و قانونی جائزہ
از قلم:ملک محمد شاکر بہاولپوری
بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک انمول نعمت ہوتے ہیں۔ دینِ اسلام نے بچوں کے حقوق، ان کی حسنِ پرورش اور ان کے تحفظ پر بے حد زور دیا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں انسانی جان کا تحفظ، بالخصوص معصوم بچوں کی جسمانی اور نفسیاتی حفاظت، ریاست اور معاشرے کی اولین ذمہ داری ہے۔ تاہم دورِ حاضر میں جرائم کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جن میں سب سے گھناؤنا اور لرزہ خیز جرم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور بعد ازاں ان کا قتل ہے۔ پاکستانی معاشرہ، جو ایک اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہے، اس سنگین مسئلے سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بچوں کو اغوا کرنا، ان کے ساتھ جنسی درندگی کا ارتکاب کرنا اور پھر انہیں قتل کر دینا روز بروز بڑھتا ہوا ایک المیہ بنتا جا رہا ہے۔ اس بربریت کا شکار مسلم اور غیر مسلم ہر طبقے کے بچے ہو رہے ہیں۔ بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنا، ان کی فحش ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنا اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلانا نہایت بھیانک اور قابلِ نفرت عمل ہے، جس پر دنیا و آخرت دونوں میں سخت ترین سزا مقرر کی گئی ہے۔یہ مسئلہ اب محض ایک قانونی جرم نہیں رہا بلکہ ایک ہولناک معاشرتی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ سماجی، معاشی اور اخلاقی زوال کے باعث بچے اپنے گھروں، گلی محلوں، دیہات، تعلیمی اداروں (سکولوں اور مدرسوں) اور کام کی جگہوں تک میں محفوظ نہیں رہے ۔ اس صورتِ حال نے ہماری اخلاقی اقدار، معاشرتی ذمہ داریوں اور قانونی نظام پر متعدد سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ لہٰذا شریعتِ اسلامیہ اور ریاستی قانون دونوں کی روشنی میں اس مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لینا، اس کے اسباب کا تجزیہ کرنا اور اس کے مؤثر سدباب کے لیے عملی اقدامات تجویز کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے نمایاں واقعات
پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی رپورٹس کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ کے مطابق سال 2022ء میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 4,253 کیسز رپورٹ ہوئے (دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 مارچ 2026ء)۔
سال 2024ء کے دوران پاکستان میں بچوں پر ہونے والے تشدد کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلی صوبائی تجزیے کے مطابق ملک بھر میں بچوں پر تشدد اور جنسی زیادتی کے مجموعی طور پر 7,608 واقعات درج ہوئے، جس کا مطلب ہے کہ روزانہ اوسطاً 21 بچے مختلف نوعیت کے تشدد کا شکار ہوئے۔ ان جرائم میں جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ 2,954 کیسز رپورٹ ہوئے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں (یسریٰ خرم بٹ، پاکستان میں بچوں پر تشدد کی میپنگ اسٹڈی 2024، پبلشر: SSDO، اپریل 2025ء)
اسی طرح بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل کی سالانہ رپورٹ Cruel Numbers 2025 کے مطابق سال 2025ء کے دوران پاکستان میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور جنسی زیادتی کے مجموعی طور پر 3,630 واقعات رپورٹ ہوئے، جو یومیہ اوسطاً 9 سے زائد کیسز بنتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ شرح گزشتہ سال (2024ء) کے مقابلے میں 8 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے (دی ایکسپریس ٹریبیون، 16 مارچ 2026ء)۔
یہ انسانیت سوز جرائم کسی ایک علاقے تک محدود نہیں رہے بلکہ دیہات، شہروں، سکولوں، مدرسوں اور گھریلو ملازمت کی جگہوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں معصوم بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ دہائی کے چند نمایاں، بڑے اور افسوس ناک واقعات کی تفصیلی درجہ بندی درج ذیل ہے:
1۔ ملتان پنچایت ریپ کیس (2017):جولائی 2017ء میں ملتان کے ایک نواحی گاؤں میں دیہاتی پنچایت نے انتقامی کارروائی کے طور بر ایک سولہ سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا غیر قانونی اور غیر انسانی فیصلہ صادر کیا۔ اس واقعے نے غیر قانونی جرگوں اور پنچایتوں کے فیصلوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کو نمایاں کیا۔ اس کیس کے بعد پنچایتی نظام کے غلط استعمال اور ریاستی عمل داری کے حوالے سے قومی سطح پر بحث شروع ہوئی۔ (دنیا نیوز، 27 جولائی 2017ء)
2۔ زینب انصاری قتل کیس، قصور (2018): جنوری 2018ء میں قصور کی سات سالہ زینب انصاری قرآنِ مجید کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلی مگر راستے میں اغوا کر لی گئی۔ بعد ازاں اسے جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا اور اس کی لاش کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی۔ اس واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا۔ پولیس نے جدید فرانزک اور ڈی این اے شواہد کی مدد سے ملزم عمران علی کو گرفتار کیا، جو ایک سیریل مجرم تھا اور اس سے قبل بھی متعدد کم سن بچیوں کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل میں ملوث پایا گیا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو سزائے موت سنائی، جس پر 17 اکتوبر 2018ء کو عمل درآمد کیا گیا۔ اس سانحے کے بعد بچوں کی گمشدگی کی فوری اطلاع، تلاش اور بازیابی کے لیے زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ منظور کیا گیا، جو پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم قانون سازی تصور کی جاتی ہے۔ (وسیم ریاض، “زینب کا قاتل گرفتار”، ڈان نیوز، 23 جنوری 2018ء)
3۔ عاصمہ قتل کیس، مردان (2018):زینب انصاری کیس کے چند ہی روز بعد خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں تین سالہ بچی عاصمہ کو اغوا کر لیا گیا۔ بعد ازاں اس کی لاش برآمد ہوئی اور تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم کسی ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ ملک گیر مسئلہ بن چکے ہیں، جس کے تدارک کے لیے مؤثر قانون سازی اور فوری انصاف ناگزیر ہے۔ (روزنامہ دی نیوز، 17 جنوری 2018ء)
4۔ مانسہرہ مدرسہ جنسی زیادتی کیس (2020):سال 2020ء میں خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے ایک مدرسے میں آٹھ سالہ طالب علم کو مدرسے کے قاری نے مسلسل دو روز تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ بچے کے اہلِ خانہ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے شواہد کی بنیاد پر ملزم کو ساڑھے سولہ سال قید کی سزا سنائی۔ اس واقعے نے مذہبی تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ، نگرانی اور احتساب کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ (اے پی نیوز، 11 مئی 2020ء)
5۔مانسہرہ مدرسہ کیس (مئی 2020ء):مئی 2020ء میں مانسہرہ کے ایک مدرسے میں 8 سالہ کمسن طالب علم کو مدرسے کے قاری کی جانب سے دو دن تک مسلسل جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ بچے کے گھر والوں کی داد رسی اور قانونی جدوجہد کے بعد عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم قاری کو ساڑھے سولہ سال قید کی سخت سزا سنائی۔ (اے پی نیوز، 11 مئی 2020ء)
6۔موٹر وے اجتماعی زیادتی کیس (لاہور، 2020): 9 ستمبر 2020 کو لاہور۔سیالکوٹ موٹر وے پر ایک فرانسیسی نژاد پاکستانی خاتون اپنی تین کمسن بچوں کے ہمراہ سفر کے دوران گاڑی کا ایندھن ختم ہونے کے باعث گوجرپورہ کے قریب رک گئیں۔ اسی دوران دو مسلح ملزمان نے خاتون کو بچوں کے سامنے گاڑی سے باہر نکال کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ نقدی، زیورات اور دیگر سامان بھی لوٹ لیا۔ اس لرزہ خیز واقعے نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی، خواتین کے تحفظ اور نظامِ انصاف پر قومی سطح پر بحث چھڑ گئی، اور بعد ازاں حکومت نے جنسی جرائم کے خلاف قوانین کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم قانونی اصلاحات متعارف کرائیں۔ ڈی این اے، موبائل فون ڈیٹا اور دیگر فرانزک شواہد کی بنیاد پر ملزمان عابد علی عرف مالی اور شفقت علی عرف بگا کو گرفتار کیا گیا۔(روزنامہ ڈان اردو،12 ستمبر 2020؛)
7۔ کراچی پانچ سالہ بچی قتل کیس (2020):ستمبر 2020ء میں کراچی میں پانچ سالہ بچی کو اغوا کرنے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں اسے قتل کر کے لاش کو آگ لگا دی گئی۔ اس واقعے پر کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں شدید عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں ملوث افراد کو فوری اور عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ (نیویارک ٹائمز، 11 ستمبر 2020ء)
8۔ حاصل پور اجتماعی زیادتی کیس (2021): جنوری 2021ء میں بہاولپور کی تحصیل حاصل پور میں پرانی دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے چھ بااثر افراد ایک گھر میں داخل ہوئے اور اہلِ خانہ کے سامنے ایک کم سن بچی کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ بچی کے بھائی نے مزاحمت کی تو ملزمان نے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور جسمانی طور پر زخمی کر دیا۔ پولیس نے متاثرین کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس افسوس ناک واقعے کا محرک دونوں خاندانوں کے درمیان پرانی رنجش تھی۔ (روزنامہ پاکستان، 3 جنوری 2021ء)
9۔فاطمہ پھریرو کیس، رانی پور (اگست 2023ء): اگست 2023ء میں سندھ کے شہر رانی پور کی ایک حویلی (پیر کے گھر) میں کام کرنے والی 10 سالہ کمسن گھریلو ملازمہ فاطمہ پھریرو کو بے دردی سے جسمانی تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔ اس ہولناک واقعے نے جاگیردارانہ نظام کے اثر و رسوخ کے تحت کام کرنے والے معصوم بچوں کے استحصال کو بے نقاب کیا۔ (ڈان نیوز، 19 اگست 2023ء)
10۔لوئر دیر مدرسہ کیس (مئی 2024ء): مئی 2024ء میں لوئر دیر کے علاقے ‘منڈا’ میں ایک مدرسے کی 7 سالہ یتیم طالبہ کو جنسی زیادتی کے بعد بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔ مدرسہ انتظامیہ نے مجرمانہ غفلت اور دھوکہ دہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بہیمانہ قتل کو “رضائیاں گرنے کا حادثاتی سانحہ” قرار دے کر لاش ورثاء کے حوالے کر دی، جس پر بچی کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تاہم، سوشل میڈیا پر شدید عوامی احتجاج کے بعد قانونی طور پر بچی کی قبر کشائی کی گئی، جس کے پوسٹ مارٹم نے انتظامیہ کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہوئے بدترین جنسی زیادتی اور قتل کی تصدیق کی۔ (دی ایکسپریس نیوز، 24 مئی 2024ء)
11۔ صوابی نجی اسکول کیس (اکتوبر 2024ء): اکتوبر 2024ء میں صوابی کے ایک نجی اسکول میں چوتھی جماعت کی کمسن طالبہ کو اسکول کے چوکیدار نے اپنی وحشیانہ درندگی کا نشانہ بنایا۔ معصوم بچی نے گھر واپس آ کر روتے ہوئے اپنی والدہ کو اس اندوہناک واقعے کی اطلاع دی، جس کے بعد ملزم کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ (ڈان نیوز اردو، 16 اکتوبر 2024ء)
12۔ ہری پور بلیک میلنگ نیٹ ورک کیس (مارچ 2026ء): مارچ 2026ء میں خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں ایک انتہائی ہولناک اور منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوا جو کم سن لڑکوں کو اغوا اور بلیک میل کر کے ان کا جنسی استحصال کرتا تھا اور ان کی نازیبا ویڈیوز بنا کر فروخت کرتا تھا۔ سوشل میڈیا پر خبریں وائرل ہونے پر سپریم کورٹ اور وزیرِ اعلیٰ نے واقعے کا سخت نوٹس لیا، جس کے بعد پولیس نے نیٹ ورک کے سرغنہ سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کیا۔ (روزنامہ ڈان، مارچ 2026ء)
13۔ ماڈل ٹاؤن لاہور کیس (جون 2026ء): جون 2026ء میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا جہاں ایک 18 سالہ گھریلو ملازمہ کو اس کی مالکن کا بیٹا اور ڈرائیور پانچ ماہ تک مسلسل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ حمل کا علم ہونے پر نومبر 2025ء میں مالکن نے جرم چھپانے کے لیے لڑکی کا زبردستی اسقاطِ حمل کروایا، جس سے لڑکی کی حالت بگڑ گئی اور وہ سروسز اسپتال میں دم توڑ گئی۔ (سما ٹی وی، 2 جون 2026ء)
14۔ غالب مارکیٹ لاہور کیس (جون 2026ء): 17 جون 2026ء کو لاہور کے علاقے غالب مارکیٹ میں ایک 14 سالہ لڑکی کو اس کی اسکول فیلو اور اس کے بھائی دانیال نے پڑھائی کے بہانے اپنے کوارٹر بلا کر نشہ آور دوا پلائی اور مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزم دانیال نے لڑکی کی نازیبا ویڈیوز بنا کر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کیا، جبکہ اس کی بہن لڑکی کو ورغلا کر لانے میں برابر کی شریک رہی۔ (وائس پی کے اردو، 20 جون 2026ء)
15۔ منتہا زہرہ کیس، سرگودھا (جون 2026ء): 22 جون 2026ء کو سرگودھا میں 7 سالہ بچی منتہا زہرہ قریبی دکان سے سودا لینے گئی اور لاپتہ ہو گئی۔ بعد ازاں اس کی لاش دکان کی تیسری منزل سے برآمد ہوئی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، معصوم بچی کی موت گلا گھونٹنے سے نہیں بلکہ تیز دھار آلے سے گلا کٹنے (شہ رگ کٹنے) کی وجہ سے زیادہ خون بہنے کے باعث واقع ہوئی، جبکہ قتل سے قبل بچی پر بظاہر جنسی حملہ بھی کیا گیا۔ (بی بی سی نیوز اردو، 24 جون 2026ء
16۔ لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ (جون 2026ء): جون 2026ء میں لاہور ہائیکورٹ نے 12 سالہ معصوم طالب علم کے ساتھ جنسی زیادتی (بدفعلی) کے سنگین الزام میں نامزد ایک اسکول استاد کی ضمانت کی درخواست کو یکسر مسترد کر دیا۔ عدالت عالیہ نے کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کو ریلیف دینے سے انکار کیا اور صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ و سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور ٹھوس انتظامی اقدامات اٹھانے کے سخت احکامات جاری کیے۔ (روزنامہ نوائے وقت، 26 جون 2026ء)
17۔ قائد آباد کراچی کیس (جون 2026ء): جون 2026ء میں کراچی کے علاقے قائد آباد میں 3 سالہ معصوم بچی کلثوم کو گھر کے باہر سے اغوا کرنے کے بعد انتہائی سفاکانہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کر کے اس کی لاش بوری میں بند کر کے گھر کے قریب پھینک دی گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کے جسم پر شدید تشدد اور مزاحمت کے نشانات پائے گئے، جس سے اس گھناؤنے جرم میں ایک سے زائد افراد کے ملوث ہونے کا قوی شبہ ظاہر ہوتا ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت، 26 جون 2026ء)
18۔ محمد اکرام کیس (جون 2026ء):جون 2026ء میں پیش آنے والے ایک انتہائی المناک واقعے میں، 14 سالہ لڑکا محمد اکرام جنسی زیادتی کا شکار ہوا؛ تاہم، جرم کے شدید صدمے کے بعد پولیس کی روایتی لاپروائی، عدم تعاون اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر سے دلبرداشتہ ہو کر معصوم لڑکے نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کا خاتمہ (خودکشی) کر لیا۔ یہ سانحہ تفتیشی نظام کے غیر حساس رویے کے سنگین نتائج کو ظاہر کرتا ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت، 26 جون 2026ء)
19۔ایبٹ آباد ہاشر تاج کیس (جون 2026ء): جون 2026ء میں ایبٹ آباد میں پیش آنے والے ایک واقعے میں ایک 13 سالہ لڑکے، ہاشر تاج کو بدفعلی کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کی باقاعدہ رپورٹ درج ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کا آغاز کیا اور تفتیش میں اہم پیشرفت حاصل کرتے ہوئے اس گھناؤنے جرم کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی۔ (روزنامہ نوائے وقت، 26 جون 2026ء)
20۔ کراچی اولڈ سٹی ایریا کیس (جولائی 2026ء): جولائی 2026ء کے اوائل میں کراچی کے پرانے شہر (Old City Area) کے علاقے سے ایک 6 سالہ معصوم لڑکا لاپتہ ہوا۔ تلاش کے بعد بچے کی لاش ملی، اور پوسٹ مارٹم و تفتیش کے بعد یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ بچے کو اغوا کے بعد شدید جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی اور دیگر شواہد کی مدد سے 20 سالہ مرکزی مشتبہ ملزم کو گرفتار کیا۔ (دی ایکسپریس ٹریبیون، 8 جولائی 2026ء)
21۔ وہاڑی احتجاج کیس (جولائی 2026ء): جولائی 2026ء میں پنجاب کے ضلع وہاڑی میں ایک اور انتہائی افسوسناک اور وحشیانہ واقعہ سامنے آیا جہاں ایک کم سن بچی کو اغوا کے بعد جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں اس کا قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے پر مقامی سطح پر اس قدر شدید عوامی احتجاج اور امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی کہ ضلعی انتظامیہ کو 11 جولائی 2026ء کو ضلع بھر میں عام تعطیل (چھٹی) کا اعلان کرنا پڑا۔ قانون کے تحت میڈیا نے بچی کا نام ظاہر نہیں کیا۔ (سماء نیوز، 9 جولائی 2026ء)
22۔ سمہ سٹہ بہاولپور کیس (جولائی 2026ء): جولائی 2026ء میں بہاولپور کے علاقے سمہ سٹہ میں ایک مقامی مسجد کے امام قاری شفیق احمد نے اپنی اخلاقی و دینی ذمہ داریوں کو پامال کرتے ہوئے ایک 16 سالہ گونگے اور بہرے معصوم لڑکے کو مسلسل بدفعلی کا نشانہ بنایا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم عادی مجرم نکلا جس نے پہلے بھی کئی بار معصوم لڑکے سے یہ قبیح فعل کیا تھا۔ متاثرہ بچے کے اہل خانہ کی درخواست پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم امام مسجد کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ (شیعہ نیوز، 09 جولائی 2026ء)
23۔ ولی عابد کیس، لی مارکیٹ کراچی (جولائی 2026ء): جولائی 2026ء میں کراچی کے علاقے لی مارکیٹ میں 6 سالہ ولی عابد کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش تیسری منزل سے نیچے پھینک دی گئی۔ پولیس نے ملزم حمزہ کو گرفتار کر کے اس کے موبائل سے تشدد کی ویڈیوز برآمد کیں، جبکہ مقتول کے والد اور اہل محلہ کے الزامات کے بعد پولیس ملزم کے ڈارک ویب (Dark Web) پر ویڈیوز بیچنے کے ممکنہ آن لائن تعلق کی تفتیش کر رہی ہے۔ (روزنامہ جسارت، 12 جولائی 2026ء)
24۔ نائمہ کیس، اچھرہ لاہور (جولائی 2026ء): جولائی 2026ء میں لاہور کے علاقے اچھرہ میں ایک انتہائی المناک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا جہاں ایک 10 سالہ معصوم طالبہ ‘نائمہ’ کی لاش ایک نجی ٹیوشن سینٹر کے واش روم سے برآمد ہوئی۔ اس واقعے نے تعلیمی و تدریسی مراکز کے اندر بچوں کے تحفظ اور سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ (روزنامہ جسارت، 12 جولائی 2026ء)زیرِ بحث واقعات کا گہرا جائزہ یہ تلخ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں معصوم بچے گھروں، گلی محلوں اور تعلیمی اداروں غرض ہر جگہ درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں، جہاں بااثر ملزمان کی پشت پناہی، جدید ٹیکنالوجی و ڈارک ویب کا بھیانک استعمال اور تفتیشی نظام کی روایتی سردمہری معصوم جانوں کو نگل رہی ہے۔ تاہم، یہ بات ذہن نشین رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ یہاں درج کیے گئے سانحات تو محض چند چیدہ چیدہ اور دستاویزی واقعات ہیں جو میڈیا کی بدولت دنیا کے سامنے آ سکے، ورنہ حقیقت میں اس طرح کے بے شمار اور ان گنت دردناک واقعات روزانہ کی بنیاد پر رونما ہوتے ہیں جو سماجی دباؤ، بدنامی کے خوف اور انصاف کی عدم فراہمی کے باعث خاموشی کی نذر ہو جاتے ہیں اور کبھی کسی ریکارڈ کا حصہ بھی نہیں بن پاتے۔
بچوں کے ساتھ جنسی تشدد اسباب و وجوہات
پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد، اغوا اور قتل جیسے ہولناک جرائم محض کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ سماجی، معاشی، اخلاقی، نفسیاتی، تعلیمی اور قانونی عوامل کے باہمی امتزاج سے جنم لینے والا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ان جرائم کی مؤثر روک تھام صرف سخت سزاؤں سے ممکن نہیں، بلکہ ان بنیادی اسباب کا خاتمہ بھی ضروری ہے جو ایسے جرائم کو فروغ دیتے ہیں۔ اہم اسباب درج ذیل ہیں:
1۔ ماحول، معاشرہ اور شعور کی کمی:انسان کی شخصیت، کردار اور طرزِ فکر کی تشکیل میں ماحول اور معاشرے کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ انسان فطری طور پر معصوم پیدا ہوتا ہے، جبکہ خیر و شر، اچھائی اور برائی کے رویے وہ اپنے ماحول سے سیکھتا ہے۔ جب معاشرے میں اخلاقی انحطاط، منفی سوچ، بے حیائی، تشدد اور غیر ذمہ دارانہ رویے عام ہو جائیں تو ان کے اثرات نوجوان نسل پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح شعور، اخلاقی تربیت اور سماجی آگاہی کی کمی بھی ایسے جرائم کے فروغ کا ایک اہم سبب ہے۔ ایک مہذب اور محفوظ معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کی اخلاقی، دینی اور سماجی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے، ان کے سامنے غیر اخلاقی گفتگو اور منفی رویوں سے اجتناب کیا جائے، اور ان میں احترامِ انسانیت، احساسِ ذمہ داری اور مثبت سوچ کو فروغ دیا جائے۔
2۔ والدین کی غفلت اور اعتماد پر مبنی تعلقات کا فقدان:بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے متعدد واقعات میں والدین کی عدم توجہی، مناسب نگرانی کی کمی اور بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا فقدان اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اکثر بچے خوف، شرمندگی یا والدین کے سخت رویے کی وجہ سے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بیان نہیں کر پاتے۔ بعض اوقات شکایت کرنے پر ان کی بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا انہیں ہی ڈانٹ دیا جاتا ہے، جس سے مجرم کو مزید مواقع مل جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ بچوں کی روزمرہ سرگرمیوں، دوستوں، آمدورفت اور آن لائن مصروفیات پر مناسب نگرانی نہ ہونا بھی خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو ذاتی حفاظت، جسمانی حدود (Body Safety) اور اچھے اور برے لمس (Good Touch, Bad Touch) سے متعلق عمر کے مطابق مناسب آگاہی دیں اور ان کے ساتھ اعتماد پر مبنی دوستانہ تعلق قائم کریں۔
3۔ غربت، بے روزگاری اور معاشی اضطراب:غربت، بے روزگاری اور معاشی بدحالی ایسے جرائم کے پس منظر میں اہم سماجی عوامل ہیں۔ معاشی مشکلات کے باعث بعض والدین روزگار کی جدوجہد میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ بچوں کی مناسب نگرانی نہیں کر پاتے، جبکہ مالی تنگی کے شکار خاندانوں کے بچوں کو لالچ یا دھوکے کے ذریعے ورغلانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔دوسری جانب بے روزگاری، احساسِ محرومی، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی تناؤ بعض افراد میں منفی اور مجرمانہ رویوں کے امکانات بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، نوجوانوں کی فنی تربیت اور کیریئر کونسلنگ پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔
4۔ فحش اور غیر اخلاقی مواد تک آسان رسائی:انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور اسمارٹ فونز کے بے جا استعمال نے فحش اور غیر اخلاقی مواد تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ ایسے مواد کا مسلسل استعمال بعض افراد میں جنسی بے راہ روی، خواتین اور بچوں کے بارے میں غلط تصورات اور مجرمانہ رجحانات کو فروغ دے سکتا ہے۔ اس لیے والدین، تعلیمی اداروں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کی مثبت ڈیجیٹل تربیت کریں اور غیر اخلاقی مواد تک رسائی کو محدود بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
5۔ کمزور نظامِ انصاف اور قانون پر ناقص عمل درآمد:تحقیقات میں تاخیر، مقدمات کا برسوں زیرِ التوا رہنا، کم شرحِ سزا، بعض اوقات سیاسی یا مالی اثر و رسوخ اور قانون پر مؤثر عمل درآمد کا فقدان ایسے جرائم کی روک تھام میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب مجرم سزا سے بچ نکلتے ہیں تو معاشرے میں قانون کا خوف کمزور پڑ جاتا ہے۔اس مسئلے کے حل کے لیے شفاف، تیز رفتار اور مؤثر نظامِ انصاف، پیشہ ورانہ پولیسنگ، جدید تفتیشی نظام اور قانون کی بلاامتیاز عملداری ناگزیر ہے۔
6۔ قریبی افراد پر غیر محتاط اعتماد:تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے متعدد واقعات میں ملزمان اجنبی نہیں بلکہ رشتہ دار، پڑوسی، اساتذہ، دکاندار، ملازمین یا دیگر شناسا افراد ہوتے ہیں۔ اس لیے والدین کو بچوں کی حفاظت کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط، مناسب نگرانی اور متوازن اعتماد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
7۔ دینی، اخلاقی اور کردار سازی کی کمزوری:دینی تعلیم، اخلاقی تربیت، احساسِ جواب دہی، حیا، احترامِ انسانیت اور کردار سازی معاشرے میں جرائم کی روک تھام کے بنیادی ستون ہیں۔ جب یہ اقدار کمزور پڑ جائیں تو معاشرے میں مختلف سماجی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ لہٰذا گھروں، مدارس، مساجد، اسکولوں اور جامعات میں متوازن دینی و اخلاقی تربیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
8۔ چائلڈ لیبر (بچوں سے مزوری):غربت کے باعث بہت سے کم عمر بچے گھروں، دکانوں، ہوٹلوں، ورکشاپس، بھٹوں اور دیگر مقامات پر کام کرتے ہیں، جہاں مناسب نگرانی نہ ہونے کی صورت میں ان کے استحصال، تشدد اور جنسی زیادتی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بچوں سے مشقت کی روک تھام اور ان کی تعلیم کو یقینی بنانا اس مسئلے کے حل کا اہم حصہ ہے۔
9۔ نقصان دہ سماجی روایات اور اجتماعی بے حسی:بعض علاقوں میں موجود فرسودہ اور استحصالی روایات بچوں کے تحفظ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اجتماعی سماجی بے حسی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جہاں لوگ دوسروں کے دکھ درد کو اپنا مسئلہ سمجھنے کے بجائے خاموش رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں معاشرے میں احساسِ ذمہ داری، باہمی تعاون، اخوت اور ایثار کے جذبے کو فروغ دینا ضروری ہے۔
10۔ بدنامی کے خوف سے خاموشی:متاثرہ خاندان اکثر سماجی دباؤ، بدنامی یا خاندانی عزت کے خوف سے ایسے واقعات رپورٹ نہیں کرتے۔ نتیجتاً مجرم سزا سے بچ نکلتے ہیں اور مزید بچوں کو نشانہ بنانے کے مواقع حاصل کر لیتے ہیں۔ اس رجحان کے خاتمے کے لیے متاثرین کو قانونی تحفظ، نفسیاتی معاونت اور سماجی تعاون فراہم کرنا ضروری ہے۔
11۔ بااثر افراد کا ناجائز اثر و رسوخ: بعض مقدمات میں بااثر افراد سیاسی، سماجی یا مالی اثر و رسوخ استعمال کرکے انصاف کے عمل کو متاثر کرنے یا متاثرہ خاندانوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قانون کی بالادستی اسی وقت ممکن ہے جب ہر شخص کو بلاامتیاز قانون کے تابع بنایا جائے اور کسی بھی مجرم کو اس کے اثر و رسوخ کی بنیاد پر رعایت نہ دی جائے۔
بچوں کے ساتھ ریپ اور قتل کی سزائیں پاکستانی تناظر میں
پاکستان میں ریپ، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اجتماعی زیادتی، اغوا اور قتل جیسے سنگین جرائم کے لیے نہایت سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان سزاؤں کی بنیاد پاکستان پینل کوڈ، 1860 (Pakistan Penal Code)، انسدادِ ریپ (تحقیقات و ٹرائل) ایکٹ، 2021 اور زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ، 2020 پر ہے، جن کا مقصد مجرموں کو قرار واقعی سزا دینا، متاثرین کو تحفظ فراہم کرنا اور فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
1۔ ریپ (Rape) کی سزا:
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 کے مطابق ریپ ایک ناقابلِ ضمانت اور سنگین جرم ہے۔ اس جرم کے مرتکب شخص کو جرم کی نوعیت اور حالات کے مطابق کم از کم 10 سال سے 25 سال تک قید، عمر قید (بقیہ قدرتی زندگی تک) یا سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت مناسب جرمانہ بھی عائد کر سکتی ہے۔ اگر ریپ کے دوران شدید جسمانی نقصان پہنچایا جائے تو سزا مزید سخت ہو سکتی ہے۔(پاکستان پینل کوڈ، 1860، دفعہ 376)
2۔ چھوٹے بچوں کے ساتھ ریپ کی سزا:
اگر جرم کسی 18 سال سے کم عمر بچے یا بچی یا جسمانی و ذہنی معذوری رکھنے والے فرد کے خلاف کیا جائے تو قانون اس جرم کو مزید سنگین تصور کرتا ہے۔ ایسی صورت میں مجرم کو سزائے موت یا عمر قید اور جرمانہ دیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی قانون میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کو خصوصی تحفظ حاصل ہے۔(پاکستان پینل کوڈ، دفعہ 376(3)؛ انسدادِ ریپ (تحقیقات و ٹرائل) ایکٹ، 2021)
3۔ اجتماعی زیادتی (Gang Rape) کی سزا:
اجتماعی زیادتی پاکستان کے سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتی ہے۔ اگر ایک سے زیادہ افراد مل کر یہ جرم کریں تو ہر شریکِ جرم کو سزائے موت، عمر قید (بقیہ قدرتی زندگی تک) یا دیگر سخت قانونی سزا دی جا سکتی ہے۔ جرم میں معاونت یا سہولت فراہم کرنے والے افراد بھی قانون کی گرفت میں آتے ہیں۔(پاکستان پینل کوڈ، دفعہ 376؛ فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ، 2016؛ انسدادِ ریپ ایکٹ، 2021)
4۔ زیادتی کے بعد قتل یا اغوا کی سزا:
اگر کسی بچے یا بچی کو اغوا کرنے کے بعد اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی جائے اور بعد ازاں اسے قتل کر دیا جائے تو ملزم پر قتل، اغوا اور ریپ کی متعدد دفعات بیک وقت لاگو ہوتی ہیں۔ ایسے مقدمات میں عدالت جرم کی نوعیت کے مطابق سزائے موت یا عمر قید سمیت دیگر سزائیں سنا سکتی ہے۔(پاکستان پینل کوڈ، دفعات 302، 364-A، 376؛ زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ، 2020)
5۔ متاثرہ فرد کی شناخت افشا کرنے کی سزا:
پاکستانی قانون کے مطابق ریپ یا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے متاثرہ فرد کا نام، تصویر یا ایسی کوئی معلومات شائع کرنا جس سے اس کی شناخت ظاہر ہو، جرم ہے۔ اس جرم پر تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں تاکہ متاثرہ فرد کی عزت، رازداری اور تحفظ برقرار رہے۔(پاکستان پینل کوڈ، دفعہ 376A)
بچوں کے ساتھ ریپ اور قتل کی سزائیں اسلامی تناظر میں
معاشرے کی بقا، اخلاقیات اور تہذیب کا سب سے پہلا اور بنیادی ستون معصوم بچوں کا تحفظ ہے۔ انسانی تاریخ کے بدترین اور بھیانک ترین جرائم میں بچوں کا جنسی استحصال، ریپ اور قتل شامل ہیں، جو نہ صرف مروجہ قوانین بلکہ انسانیت کی روح کو بھی پامال کرتے ہیں۔ اسلامی شریعت، جو بنیادی طور پر انسانی جان، مال، نسب اور آبرو کی حفاظت پر استوار ہے، ایسے وحشیانہ جرائم کے خلاف انتہائی سخت اور غیر لچکدار رویہ اپناتی ہے۔ اسلام ان گھناؤنے جرائم کو محض انفرادی جرم نہیں بلکہ پورے معاشرے کے امن کو تباہ کرنے والا “فساد فی الارض” قرار دیتا ہے۔ ذیل میں ان سنگین جرائم کی شرعی سزاؤں اور اسلامی نقطہ نظر کو مختصراً واضح کیا گیا ہے:
1۔اسلام میں ریپ کی شرعی سزا
اسلام نے انسانی جان، عزت، آبرو اور عصمت کو بنیادی حقوق قرار دیا ہے اور ان پر حملہ کرنے والے کے لیے نہایت سخت سزائیں مقرر کی ہیں۔ زنا بالجبر (ریپ) محض زنا نہیں بلکہ ظلم، جبر، انسانی وقار کی پامالی اور بعض صورتوں میں فساد فی الارض اور حرابہ کے زمرے میں آنے والا سنگین جرم ہے۔ اگر اس جرم کے ساتھ قتل بھی شامل ہو جائے تو اس پر قصاص کے احکام بھی نافذ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِي فَٱجْلِدُوا كُلَّ وَٰحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ (سورة النور، 24: 2)
“زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔”
اس آیت میں غیر شادی شدہ زانی کی بنیادی حد بیان کی گئی ہے، جبکہ شادی شدہ زانی کی سزا سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خُذُوا عَنِّي، خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ» (مسلم بن الحجاج القشيري، الجامع الصحيح، كتاب الحدود، باب حد الزنا، حديث: 1690، ج 3، ص 1316، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 2006ء)
“مجھ سے (یہ حکم) حاصل کر لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستہ مقرر فرما دیا ہے۔ غیر شادی شدہ مرد اور عورت کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، جبکہ شادی شدہ مرد اور عورت کے لیے رجم کی سزا ہے۔”
فقہائے اسلام کا اتفاق ہے کہ زنا بالجبر میں متاثرہ عورت یا بچے پر کوئی سزا نہیں، بلکہ تمام ذمہ داری مجرم پر عائد ہوتی ہے۔ حضرت وائل بن حجرؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت کے ساتھ زبردستی بدکاری کی گئی۔ جب معاملہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ ﷺ نے عورت کو بے گناہ قرار دیا اور جرم کا اعتراف کرنے والے شخص پر حد نافذ کرنے کا حکم دیا۔
«اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ» (أبو داود، سليمان بن الأشعث السجستاني، سنن أبي داود، كتاب الحدود، باب في صاحب الحد يجيء فيقر، حديث: 4379، ج 6، ص 476، دار الرسالة العالمية، دمشق، 2009ء)
“جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف فرما دیا ہے۔”
اگر زنا بالجبر کے بعد متاثرہ شخص کو قتل بھی کر دیا جائے تو مجرم پر قتل کی سزا بھی نافذ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
«﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِصَاصُ فِي ٱلْقَتْلَىٰ﴾ ( سورة البقرة، 2: 178)»
“اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کے بارے میں قصاص فرض کیا گیا ہے۔”
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّمَا جَزَٰٓؤُا۟ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسْعَوْنَ فِي ٱلْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓا۟ أَوْ يُصَلَّبُوٓا۟ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَـٰفٍ أَوْ يُنفَوْا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ﴾ (سورة المائدة، 5: 33)
“جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کیا جائے، یا سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔”
فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ اگر زنا بالجبر کے ساتھ اغوا، اسلحہ کا استعمال، تشدد یا قتل بھی شامل ہو تو یہ جرم صرف حدِ زنا تک محدود نہیں رہتا بلکہ حرابہ اور فساد فی الارض کے احکام کے تحت بھی آ سکتا ہے، جس میں حاکمِ وقت جرم کی نوعیت، اس کے اثرات اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب شرعی سزا نافذ کر سکتا ہے۔(ابن قدامہ، المغنی، ج 10، ص 146–151، دار عالم الكتب، الرياض، 1997ء)
2۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی (لواطت) کی شرعی سزا
اسلام نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، لواطت اور ہر قسم کی جنسی بدفعلی کو نہایت قبیح، سنگین اور قابلِ مذمت جرم قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں قومِ لوط کے اس گھناؤنے عمل کو فحاشی، سرکشی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَاءِ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ﴾ (سورة الأعراف، 7: 80–81)»
“اور لوط (علیہ السلام) کو بھیجا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم ایسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں کسی نے نہیں کی؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے ساتھ مردوں کے پاس جاتے ہو، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔”
اس جرم کی سنگینی بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط پر نازل ہونے والے عذاب کا ذکر فرمایا:
﴿فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ﴾ (سورة هود، 11: 82)
“پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کو الٹ دیا اور اس پر تہ بہ تہ پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے۔”
رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
«لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ» (الترمذي، محمد بن عيسى، السنن، كتاب الحدود، باب ما جاء في حد اللوطي، حديث: 1456، دار الغرب الإسلامي، بيروت، 1998ء)
“اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت فرمائی جو قومِ لوط والا عمل کرے۔”
ایک اور روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ» (ابن ماجه، محمد بن يزيد القزويني، سنن ابن ماجه، كتاب الحدود، باب من عمل عمل قوم لوط، حديث: 2563، ج 2، ص 856، دار الرسالة العالمية، دمشق، 2009ء)
“مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ خوف جس چیز کا ہے، وہ قومِ لوط کا عمل ہے۔”
لواطت کی شرعی سزا کے بارے میں فقہائے اسلام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ جمہور فقہاء، یعنی ائمہ مالک، شافعی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک اگر یہ جرم شرعی شہادت یا اقرار سے ثابت ہو جائے تو اس کی سزا انتہائی سخت ہے، جبکہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس جرم میں حد مقرر نہیں، بلکہ حاکمِ وقت جرم کی نوعیت، حالات اور مصلحتِ عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے تعزیری سزا نافذ کرے گا، اور اگر مجرم بار بار اس جرم کا ارتکاب کرے اور معاشرے کے لیے شدید خطرہ بن جائے تو سخت ترین تعزیری سزا بھی دی جا سکتی ہے۔(عبدالرحمن الجزيري، الفقه على المذاهب الأربعة، ج 5، ص 103–104، دار الفكر، بيروت، 2002ء)
اسلامی فقہ کی رو سے اگر کسی کم سن بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے قتل بھی کر دیا جائے تو مجرم پر صرف جنسی جرم ہی نہیں بلکہ قتل کا جرم بھی ثابت ہوگا، جس کی سزا قصاص یا دیگر متعلقہ شرعی احکام کے مطابق نافذ کی جائے گی۔ اس طرح اسلام کا بنیادی مقصد انسانی جان، عزت، عفت اور معاشرے کے امن و امان کا تحفظ ہے، اور انہی مقاصد کے پیشِ نظر ایسے سنگین جرائم کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
3۔ جنسی تشدد کے بعد قتل کی شرعی سزا
اسلام نے انسانی جان، عزت اور عصمت کو بنیادی حقوق قرار دیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عورت، مرد یا بچے کے ساتھ جنسی تشدد (زنا بالجبر) کرنے کے بعد اسے قتل کر دے تو وہ دو عظیم جرائم کا مرتکب ہوتا ہے: زنا بالجبر اور قتلِ عمد۔ اس صورت میں مجرم پر دونوں جرائم کے شرعی احکام لاگو ہوتے ہیں، اور جرم کی نوعیت کے مطابق حد، قصاص، تعزیر یا حرابہ کے احکام نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
«﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِصَاصُ فِي ٱلْقَتْلَىٰ﴾ (سورة البقرة، الآية: 178)
“اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کے بارے میں قصاص فرض کر دیا گیا ہے۔”
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَـٰٓأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (سورة البقرة، الآية: 179)
“اور اے عقل والو! قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے، تاکہ تم پرہیزگار بنو۔”
نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّمَا جَزَٰٓؤُا۟ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓا۟ أَوْ يُصَلَّبُوٓا۟ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا۟ مِنَ الْأَرْضِ﴾ (سورة المائدة، الآية: 33)»
“جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کیا جائے، یا سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔”
رسول اللہ ﷺ نے قتلِ عمد کی سنگینی بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ» (البخاري، محمد بن إسماعيل، الجامع الصحيح، كتاب الديات، حديث: 6878؛ مسلم بن الحجاج، الجامع الصحيح، كتاب القسامة، حديث: 1676، دار طوق النجاة، بيروت، 1422هـ)
“کسی مسلمان کا خون، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، تین صورتوں کے علاوہ حلال نہیں: شادی شدہ زانی، جان کے بدلے جان، اور دین چھوڑ کر جماعت سے الگ ہونے والا۔”
فقہائے اسلام کے نزدیک اگر زنا بالجبر کے بعد مقتول کو قتل بھی کر دیا جائے تو یہ جرم محض زنا یا قتل تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعض صورتوں میں حرابہ اور فساد فی الارض کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ایسی صورت میں اسلامی ریاست جرم کی نوعیت، اس کے اثرات اور عوامی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے شرعی اصولوں کے مطابق مناسب سزا نافذ کر سکتی ہے، جبکہ قتلِ عمد کی اصل سزا قصاص ہے۔ اگر مقتول کے ورثاء قصاص معاف کر دیں تو انہیں دیت قبول کرنے یا بلا عوض معاف کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔(الكاساني، علاء الدين، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 7، ص 233–245، دار الكتب العلمية، بيروت، 1986ء)
4۔ ریپ کی ویڈیو سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر پھیلانا
دینِ اسلام رحمت، عفت، پاکیزگی اور انسانی عزت و حرمت کا علم بردار ہے۔ اسلام ہر اُس عمل کی سخت مذمت کرتا ہے جو معاشرے میں فتنہ، فساد، فحاشی اور اخلاقی انحطاط کا سبب بنے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور استحصال بذاتِ خود ایک نہایت سنگین، ظالمانہ اور انسانیت سوز جرم ہے، لیکن اس جرم سے متعلق ویڈیوز یا تصاویر بنانا، محفوظ کرنا، دوسروں کو بھیجنا، سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر پھیلانا، یا متاثرہ بچے کی شناخت افشا کرنا جرم کی سنگینی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف معصوم بچے کی عزت، عصمت، رازداری اور نفسیاتی سلامتی شدید متاثر ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں فحاشی، بے حیائی اور اخلاقی فساد کو بھی فروغ ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ(سورۃ النور: 19)
“بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔”
اگرچہ یہ آیت واقعۂ اِفک کے پس منظر میں نازل ہوئی، تاہم اس کا حکم ہر ایسے عمل کو شامل ہے جو معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کے فروغ کا ذریعہ بنے۔ لہٰذا بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق ویڈیوز یا تصاویر تیار کرنا، محفوظ رکھنا، پھیلانا، یا متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر کرکے اسے مزید اذیت، رسوائی اور بدنامی سے دوچار کرنا اسلامی تعلیمات کی رو سے نہایت قبیح، حرام اور سنگین جرم ہے، کیونکہ اس میں ایک معصوم بچے کی عزت و حرمت کی پامالی کے ساتھ ساتھ فحاشی اور اخلاقی فساد کی اشاعت بھی شامل ہوتی ہے۔
سفارشات اور تجاویز
1. متاثرہ بچوں کے لیے ‘بارنہس’ (Barnahus) یا ‘ون ونڈو’ چائلڈ پروٹیکشن سینٹرز قائم کیے جائیں، جہاں ایک ہی چھت تلے قانونی معاونت، طبی و فرانزک معائنہ، نفسیاتی بحالی اور سماجی مدد فراہم کی جائے تاکہ بچوں کو مختلف اداروں میں بار بار پیش ہو کر مزید ذہنی اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
2. زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 پر ملک بھر میں مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، تاکہ کسی بچے کے اغوا یا گمشدگی کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر قومی سطح پر الرٹ جاری ہو، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم ہو اور بچے کی جلد از جلد بازیابی ممکن بنائی جا سکے۔
3. والدین، اساتذہ اور بچوں کے لیے مسلسل آگاہی اور تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں، جن میں بچوں کو “محفوظ اور غیر محفوظ لمس” (Safe and Unsafe Touch)، ذاتی تحفظ، آن لائن خطرات سے بچاؤ اور ہنگامی حالات میں مدد حاصل کرنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔
4. سائبر کرائم سے متعلق اداروں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے تاکہ فحش ویب سائٹس، بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد، ڈارک ویب نیٹ ورکس اور آن لائن جنسی جرائم کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جا سکے۔
5. پاکستان میں لازمی رپورٹنگ (Mandatory Reporting) کا جامع قانون نافذ کیا جائے، جس کے تحت اساتذہ، ڈاکٹروں، ہسپتالوں، سماجی کارکنوں اور دیگر ذمہ دار افراد پر لازم ہو کہ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد یا استحصال کا علم ہونے پر فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
6. پولیس، پراسیکیوشن اور فرانزک اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے اور تفتیشی افسران کو ڈی این اے، ڈیجیٹل فرانزک، جدید سائنسی شواہد کے تحفظ اور متاثرہ بچوں سے حساس انداز میں تفتیش کرنے کی خصوصی تربیت فراہم کی جائے تاکہ مقدمات مضبوط بنیادوں پر عدالتوں میں پیش کیے جا سکیں۔
7. وفاقی اور صوبائی حکومتیں چائلڈ پروٹیکشن اداروں کے لیے مناسب مالی وسائل مختص کریں، جبکہ یونین کونسل، محلہ اور اسکول کی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں تشکیل دے کر بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔
8. بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے کام کرنے والی معتبر غیر سرکاری تنظیموں (NGOs)، سماجی اداروں اور حکومتی محکموں کے درمیان مؤثر تعاون، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ حکمتِ عملی کو فروغ دیا جائے تاکہ متاثرہ بچوں کی بحالی، قانونی معاونت اور بروقت انصاف کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

