0

مڈل کلاس — متوسط طبقے کی خاموش قربانیوں کی دردناک کہانی

 مڈل کلاس

مڈل کلاس — خودداری، قربانی اور متوسط طبقے کی خاموش جدوجہد کی کہانی

از قلم: صائمہ مجاہد

جولائی کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہر طرف بارشوں کا موسم شروع ہو جاتا ہے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے، لیکن جو لوگ اپنے گھر کے اخراجات بمشکل پورے کرتے ہیں، ان کے لیے یہی موسم ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے۔

ریاض صاحب بھی ایسے ہی ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ محلے میں ان کی ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان تھی، جس کی روزانہ کی آمدنی سے بمشکل گھر کا چولہا جلتا تھا۔ انہی دنوں انہوں نے اپنی بیٹی نمرہ کی شادی طے کر رکھی تھی۔ اگرچہ انہیں معلوم تھا کہ جولائی میں شادی رکھنا خطرے سے خالی نہیں، مگر لڑکے والوں کی خواہش کے آگے وہ انکار نہ کر سکے۔

جوں جوں شادی کے دن قریب آتے گئے، پریشانیاں بھی بڑھتی گئیں۔ جہیز کے لیے برتن، کپڑے اور ضروری سامان خریدا جا رہا تھا کہ مسلسل بارشوں کے آگے گھر کی پرانی چھت بھی جواب دے گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے جگہ جگہ سے پانی ٹپکنے لگا۔ ریاض صاحب ایک طرف شادی کے اخراجات کے بارے میں سوچتے، تو دوسری طرف چھت کی مرمت کا خرچ ان کے دل پر بوجھ بن جاتا۔ آمدنی وہی تھی، مگر خرچے مسلسل بڑھتے جا رہے تھے۔

وہ انہی سوچوں میں گم تھے کہ ان کی اہلیہ، آسیہ، گھبرائی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں۔ وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھیں۔ فون بند ہوتے ہی بولیں: “نمرہ کے سسرال والے شادی کی خریداری کے لیے شہر آئے ہوئے تھے۔ طوفانی بارش کی وجہ سے سڑکیں بند ہو گئی ہیں، ہوٹل میں بھی پانی داخل ہو گیا ہے، اس لیے وہ لوگ یہاں آ رہے ہیں۔”

یہ سنتے ہی ریاض صاحب کا رنگ اڑ گیا۔ ٹپکتے ہوئے گھر میں وہ بیٹی کے سسرال والوں کی میزبانی کیسے کریں گے؟ مگر ایسے حالات میں انکار کرنا بھی ممکن نہ تھا۔

کچھ ہی دیر بعد نمرہ کی ساس، سسر، نند اور دیور گھر پہنچ گئے۔ ریاض صاحب نے اپنے خاندان کے ساتھ اوپر والے اس حصے میں منتقل ہونا قبول کر لیا جہاں چھت زیادہ ٹپکتی تھی، جبکہ نیچے کا نسبتاً بہتر کمرہ مہمانوں کے لیے خالی کر دیا۔

ہما، جو ریاض صاحب کی بہو تھی، اپنی استطاعت سے بڑھ کر مہمان نوازی میں لگ گئی۔ کبھی پلاؤ، کبھی قورمہ، کبھی کباب، تو کبھی میٹھی ڈش۔ گھر کی تنگ دستی کو اس نے اپنے چہرے پر آنے نہ دیا۔ ہر روز نئی تواضع کی جاتی، حالانکہ ہر نئے کھانے کے ساتھ ریاض صاحب کی جیب مزید خالی ہوتی جا رہی تھی۔

دو دن گزرے، پھر تین، پھر چار۔ ہر بار واپسی کا ذکر ہوتا تو نمرہ کی ساس یہی کہتیں: “ابھی راستے مکمل صاف نہیں ہوئے، کچھ دن اور رک جاتے ہیں۔” حالانکہ تین دن سے بارش تھم چکی تھی اور راستے بھی معمول پر آ چکے تھے۔

ایک دن نمرہ کی ساس نے کہا: “آج اوپر والے حصے میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، ایک ہی جگہ رہتے رہتے دل گھبرا گیا ہے۔” ہما نے بہت کوشش کی کہ انہیں روک لے، مگر وہ نہ مانیں۔

سب لوگ اوپر پہنچ گئے۔ گھر والوں کے دل تیزی سے دھڑک رہے تھے۔ سب یہی دعا کر رہے تھے کہ بارش نہ ہو۔

چٹائی بچھائی گئی، کھانا پیش ہوا اور سب کھانے میں مصروف ہو گئے۔ اتنے میں آسمان پر بادل گرجے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ چند ہی لمحوں میں چھت سے پانی ٹپکنے لگا۔ پہلے ایک قطرہ، پھر دوسرا، اور پھر جگہ جگہ سے پانی برسنے لگا۔ برتنوں اور فرش پر گرتے قطروں کی آواز نے کمرے میں ایسی خاموشی بھر دی کہ کسی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکل سکا۔

ریاض صاحب، آسیہ، ہما، ان کا بیٹا اور نمرہ سب سر جھکائے بیٹھے تھے، جیسے ان سے کوئی ناقابلِ معافی جرم سرزد ہو گیا ہو۔

اسی خاموشی میں نمرہ کی ساس کا فون بج اٹھا۔ اسکرین پر “عثمان” کا نام دیکھ کر انہوں نے مسکراتے ہوئے کال ریسیو کی اور فون اسپیکر پر کر دیا۔

“السلام علیکم اماں! آپ لوگ کب واپس آ رہے ہیں؟ یہاں تو بارش تین دن پہلے ہی رک گئی تھی، راستے بھی صاف ہو چکے ہیں۔ شادی ہال کی بکنگ کے لیے آپ کی موجودگی ضروری ہے۔”

یہ الفاظ پورے کمرے میں گونج گئے۔ ایک لمحے کو وقت جیسے تھم گیا۔ نمرہ کی ساس نے گھبرا کر سپیکر بند کیا اور فون کان سے لگا لیا، مگر سچ اپنی آواز سب تک پہنچا چکا تھا۔

سب سمجھ گئے کہ راستے تو تین دن پہلے ہی کھل چکے تھے، مگر وہ لوگ صرف اس لیے رکے رہے تھے کہ اس غریب گھر میں انہیں شاہانہ خدمت اور بے لوث میزبانی مل رہی تھی۔

ریاض صاحب کے جھکے ہوئے سر نے جیسے برسوں پرانی ایک معاشرتی حقیقت بیان کر دی۔ ہمارے معاشرے میں رشتوں کو برابری کے بجائے برتری کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ بیٹی دینے والا اکثر خود کو مجبور سمجھتا ہے اور بیٹا لینے والا خود کو صاحبِ اختیار۔ یوں دو خاندان، جو محبت اور احترام کے رشتے میں بندھنے جا رہے ہوتے ہیں، نادانستہ طور پر ایک ایسی دیوار کے دونوں طرف کھڑے ہو جاتے ہیں، جس کی بنیاد محبت پر نہیں، بلکہ ایک فرسودہ سوچ پر ہوتی ہے۔

اب نظریں چرانے کی باری مہمانوں کی تھی۔ وضاحتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا، مگر ریاض صاحب خاموش رہے۔ انہوں نے صرف چھت سے ٹپکتے پانی کو دیکھا، پھر اپنے خالی ہوتے برتنوں پر نظر ڈال دی۔ شاید بعض خاموشیاں ہر وضاحت سے زیادہ بلند آواز ہوتی ہیں۔  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں