لکھنوی تہذیب
تمغۂ امتیاز حاصل کرنے والے ممتاز ادیب صغیر حسین جعفری صاحب کے قلم سے. .
ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب کے ساتھ ساتھ لکھنوی تہذیب بے مثال اور بے نظیر ہے، جس کا ذکر نہ کیا جائے تو کئی روشن پہلو تاریکی میں ڈوبے رہیں گے۔
لکھنوی تہذیب شائستگی، نزاکت، زبان کے نکھار اور اعلیٰ آداب کا حسین امتزاج ہے جو نوابینِ اودھ کے دور میں پروان چڑھی۔ اس کی بنیادی خصوصیات میں شائستہ گفتگو، لکھنوی لباس، رواداری اور تکلف شامل ہیں۔ زبان و ادا میں شائستہ گفتار: “آداب عرض“، “تسلیمات“ اور “دلی دعا“ جیسے خوبصورت اور نپے تلے الفاظ کا بر محل و موقع انتخاب، نیز اٹھنے بیٹھنے کے آداب و قرینے اور حفظِ مراتب کے ساتھ دوسروں کا احترام اس کا حصہ رہے ہیں۔
ملبوسات میں کرتا، پاجاما، اچکن اور ٹوپی اور محرم میں سیاہ لباس پہنا جاتا تھا۔ دستکاری میں دنیا بھر میں مشہور “چکن کاری“ کی کڑھائی، جبکہ موسیقی و رقص میں کلاسیکی موسیقی اور کتھک کا فروغ اس تہذیب کا طرۂ امتیاز رہا۔ شعر و ادب کے دبتسانِ لکھنؤ میں زبان کی صفائی و مہارت، محاورات کا برجستہ استعمال اور خارجی عکاسی نمایاں ہے۔ میر انیسؔ اور میر دبیرؔ نے مرثیہ نگاری کو کمال تک پہنچایا۔
لکھنؤ کی اس خاص تہذیب میں تصنع و تکلف اور تعیش و تفریح کا عنصر بھی حاوی رہا، اسی لیے بہت سے دانشوروں نے اس تہذیب کو منفی زاویے سے بھی دیکھا ہے۔ لکھنؤ کی تہذیب کا تکلف ناسخؔ کے یہاں، اس کی مذہبیت انیسؔ کے یہاں، اور اس کا لوچ و نزاکت شوقؔ لکھنوی کے یہاں نظر آتی ہے۔ انیسؔ نے مرثیہ گوئی کو بامِ عروج پر پہنچایا۔ مجموعی طور پر لکھنؤ شہر اپنی نزاکت، تہذیب و تمدن، کثیر الثقافتی خوبیوں، آموں کے باغات اور چکن کی کڑھائی کے کام کے لیے معروف و مشہور ہے۔
تکلف اور وضع داری اہل ڈھا یا اہل لکھنؤ کے مزاج کا جزوِ لاینفک ہیں۔ وہ قصہ تو آپ نے سنا ہو گا کہ دو دوست ریل گاڑی کے انتظار میں ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھڑے تھے اور وہاں ٹرین کے رکنے کا وقت بہت تھوڑا تھا۔ گاڑی آنے پر ایک نے تکلف سے اپنے دوست سے کہا: “پہلے آپ تشریف ڈبے میں لے جائیں۔“ تو اس نے جواب دیا: “نہیں صاحب! کمال کرتے ہیں، پہلے آپ…” اور “پہلے آپ، پہلے آپ“ کہتے کہتے دونوں کی ٹرین چھوٹ گئی۔
شاعری کا جنون عام و خاص پر سوار تھا، یہاں تک کہ سبزی فروش بھی گاہکوں کو متوجہ کرنے اور بھاؤ تاؤ میں مول تول بھی شاعری میں کرتے، گرچہ یہ شاعری بے وزن ہی ہوتی۔ گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی تازہ پھل اور سبزیاں آ جاتیں تو سبزی فروش طرح طرح کی آوازیں لگاتے setup۔ ککڑیاں (جنہیں ہم ‘تر‘ کہتے ہیں) بیچنے کے لیے سبزی فروش اس طرح کی آواز لگاتا:
“یہ مجنوں کی پسلیاں ہیں! یہ لیلیٰ کی انگلیاں ہیں!”
ایک پنجابی سبزی فروش پریشان تھا کہ وہ کیا کہے، تو اس نے سوچ کر کہا:
“میری وی ایسیاں ہیں!”
“یہ مجنوں کی پسلیاں ہیں! یہ لیلیٰ کی انگلیاں ہیں!”
ایک پنجابی سبزی فروش پریشان تھا کہ وہ کیا کہے، تو اس نے سوچ کر کہا:
“میری وی ایسیاں ہیں!”
لکھنوی کلچر میں یہ بھی شامل تھا کہ لوگ اپنے بچوں کو تہذیب و تمدن اور ثقافت سے روشناس کروانے کے لیے طوائفوں کے ڈیروں پر بھیجا کرتے تھے۔ یہ طوائفیں علم و ادب کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت اجاگر کرنے میں بڑی ماہر و مشاق تھیں۔
جوش ملیح آبادی، ملیح آباد سے لکھنؤ میں میٹرک کا امتحان دینے کے بعد پہلی بار دوستوں کے ساتھ ایک طوائف کے ڈیرے پر چلے گئے۔ نائکہ قیامت کی نظر رکھنے والی تھی، دیکھتے ہی کہنے لگی: “زہے نصیب! نواب ابنِ نواب تشریف لائے ہیں، خوش آمدید!” اور اس نے دلربا کے ہاتھوں صندل کے شربت سے تواضع کی شروعات کروائی۔ جوش اسے دیکھتے ہی رہ گئے تو دلربا نے بڑی ادا کے ساتھ کہا: “حضور! آداب عرض ہے۔ کچھ اور بھی لیجیے گا، بندی حاضر ہے۔ ارشاد فرمائیے گا!” جوش بیتابی سے بولے: “دیکھنے کی تاب نہیں! آپ کے حسن کے سحر سے نکلوں تو کچھ کہہ پاؤں۔“ دلربا نے گرہ لگائی: “ماشاء اللہ! صاحبزادے کمال کے سخن فہم اور سخن شناس بھی ہیں۔“
جب ذکر طوائفوں کا چل پڑا ہے تو یہ مکالمہ اور قصہ بھی سماعت فرمائیے۔ لکھنؤ کے ایک الیکشن میں “حکیم“ اور “طوائف“ کا آمنا سامنا ہوا!
سیاسی دنگل اور الیکشن کے انوکھے قصے تو آپ نے بہت سنے ہوں گے، لیکن تاریخ کے جھروکوں میں ایک ایسا دلچسپ واقعہ بھی درج ہے جب ایک الیکشن میں شہر کے نامور حکیم اور ایک مشہور طوائف کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا۔ لکھنؤ میں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہو رہے تھے۔ اس الیکشن کی خاص بات یہ تھی کہ کسی سیاسی جماعت نے امیدواروں کو ٹکٹ جاری نہیں کیے تھے، جس کی وجہ سے شہر کے کئی نامور لوگ آزاد حیثیت میں میدانِ سیاست میں اترے۔
انہی امیدواروں میں لکھنؤ کے مشہور اور حاذق طبیب حکیم شمس الدین بھی شامل تھے، جو الیکشن لڑ کر ایوان میں پہنچنا چاہتے تھے۔ لیکن کہانی میں موڑ اس وقت آیا جب ان کے مقابلے میں شہر کی مشہور طوائف دلربا نے بھی الیکشن لڑنے کا بگل بجا دیا—وہی دلربا جس کے حسن سے متاثر ہو کر جوش ملیح آبادی دل دے بیٹھے تھے۔
اس الیکشن میں سیاسی نعروں کی دلچسپ جنگ شروع ہو گئی۔ سب سے خاص بات وہ نعرے تھے جو پورے لکھنؤ میں زبانِ زدِ عام و خاص ہو گئے۔ الیکشن کی مہم میں سب سے پہلے دلربا کے حامیوں نے ایک بڑا ہی کاٹ دار سیاسی نعرہ دیواروں پر لکھوایا:
“ووٹ دیں دلربا کو، اور نبض دکھائیں شمس الدین کو!”
“ووٹ دیں دلربا کو، اور نبض دکھائیں شمس الدین کو!”
اس نعرے کے جواب میں حکیم صاحب کے حامی بھی پیچھے نہ رہے اور انہوں نے شہر بھر میں یہ مشہورِ زمانہ نعرہ لگوا دیا:
“دل دیں دلربا کو، اور ووٹ دیں شمس الدین کو!”
“دل دیں دلربا کو، اور ووٹ دیں شمس الدین کو!”
اس دلچسپ انتخابی مہم پر اس دور کے مشہور مزاحیہ شاعر ظریفؔ لکھنوی نے اپنی مشہورِ زمانہ نظم “شامتِ الیکشن“ میں اس منظر کو کچھ یوں محفوظ کیا:
عہدِ آزادی نے ایسی ڈال دی ہے ابتری
اب تو ہر تانیث اور تذکیر میں ہے ہمسری
اس الیکشن کا انجام یہ ہوا کہ حکیم شمس الدین صاحب الیکشن جیت گئے اور دلربا بیگم کو شکست ہوئی۔ وضع داری ملاحظہ فرمائیں کہ جیت کے بعد جب دلربا حکیم صاحب کو مبارکباد دینے پہنچیں، تو انہوں نے اپنی برجستگی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک تاریخی جملہ کہا: “لگتا ہے لکھنؤ میں مریض زیادہ ہیں اور قدردان کم!”
لکھنوی تہذیب میں میر انیسؔ و میر دبیرؔ کی مرثیہ نگاری کے ساتھ لکھنؤ کے بانکوں کا ذکر نہ کیا جائے تو تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ مضمون خاصی طوالت کا شکار ہو گیا ہے، اس لیے یہ ذکرِ خیر دوسری نشست میں انشاء اللہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
