0

دیس کے جُگنو بے رحمی کا شکار- ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

دیس کے جُگنو بے رحمی کا شکار


ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

زندگی نعمتِ خداوندی ہے، رب کی ودیعت ہے، اور ایک ہی بار ملتی ہے۔ بعض اوقات انسان کی زندگی میں کچھ ایسے دل خراش اور ناقابلِ فراموش واقعات رونما ہو جاتے ہیں جو عمر بھر کے لیے روگ بن جاتے ہیں۔ کسی کو کیا خبر جب انسان اچھی بھلی زندگی گزار رہا ہوتا ہے کہ اچانک کوئی برا حادثہ اس کی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہو جاتا ہے۔ یہ بات کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی جب وہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔

اگر مجموعی طور پر اس صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ناگہانی آفات کی سمت اور ہے، کوتاہی کے معاملات فرق ہیں؛ اسی طرح غفلت کا مظاہرہ بہتوں کو دل سوزی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ بچے، بڑے، بزرگ اور خواتین سبھی معاشرے کا حصہ ہیں۔ انسان روزمرہ زندگی میں حادثات کے واقعات سنتا ہے، ظلم و ستم کی داستانیں سنتا ہے، اور خواتین پر تشدد کے واقعات دیکھتا ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی ہراسگی اور دیگر جرائم کی خبریں روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔

حالیہ گزرتی ہوئی شب، مورخہ 30 جون بروز منگل، شام پانچ بجے سوشل میڈیا پر ایسی خبر وائرل ہوتی ہے جو سب کو رلا دیتی ہے۔ خبر سنتے ہی دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ شہر لاہور، بمقام کاہنہ میں ایک ٹیوشن اکیڈمی ہے؛ اس میں تقریباً 30 بچے مکان کی چھت کے نیچے معمول کے مطابق علم حاصل کرنے گئے۔ انھیں کیا خبر کہ اچانک مکان کی چھت گر جائے گی، وہ سارا ملبہ ان کے اوپر آ کر گر جائے گا، اور وہ بری طرح کچلے جائیں گے۔ اس حادثے میں تقریباً 14 بچوں کی ہلاکت کی خبر ملی ہے جو معمولی بات نہیں ہے، بلکہ پوری قوم کے لیے ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے کچھ بچے اب بھی ہسپتال میں داخل ہیں جہاں انھیں طبی خدمات مئیسر کی جا رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب، مریم نواز صاحبہ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی ہے۔ اہل علاقہ میں خوف و ہراس کی فضا ہے۔ افسوس کے ساتھ جن ماؤں کی گود اجڑ چکی ہے، وہ رنجیدہ اور غم سے نڈھال ہیں۔ انھیں کچھ خبر نہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے۔

کہتے ہیں برا وقت پوچھ کر نہیں آتا۔ یقیناً اس بات کا پتہ تو انکوائری رپورٹ کے بعد سامنے آئے گا کہ اصل حقائق کیا تھے؟ بہرحال 14 بچے جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے۔ اہل علاقہ سے لے کر ایوانوں تک شور و ہنگامہ ہے۔

یہ بچے دیس کے چھوٹے چھوٹے جگنو تھے جو علم کی روشنی حاصل کرنے کی غرض سے اکیڈمی گئے تھے۔ بدقسمتی سے انھیں کیا خبر کہ وہ گھر واپس لوٹ کر نہیں جائیں گے، بلکہ ان کی لاشیں لواحقین کے سپرد کر دی جائیں گی۔ بہت افسوس کے ساتھ دیس کے جگنو بے رحمی کا شکار ہو گئے۔ یہی بچے قوم کے معمار تھے، کل انھوں نے قوم کی بھاگ دوڑ سنبھالنا تھی۔ بیچارے چوٹوں کی تاب نہ لاتے ہوئے ملبے تلے ڈھیر ہو گئے۔

اگرچہ دنیا نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے، روپے پیسے کی ریل پیل ہے، مال و متاع کے ذخائر ہیں، اور عالی شان عمارتیں ہیں؛ اس امر کے باوجود بھی زندگی سے وفا کی قیمت کون پوچھ سکتا ہے۔ انسان عقل و دانست کے باوجود بھی کچھ محرومیوں کا شکار رہتا ہے۔ قدرت سب باتوں کا بھید ظاہر نہیں کرتی، کیونکہ اگر وہ ہر چیز کا بھید انسان پر آشکارا کر دے تو اس کی خدائی کا تصور ختم ہو جاتا ہے اور انسان کی زندگی سے خوفِ خدا ختم ہو جاتا ہے۔

ویسے آج کل کے لوگ اس قدر بے رحم ہو چکے ہیں کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے ظلم و ستم کا ماجرہ دیکھتے ہیں، لیکن خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ اگرچہ خاموش رہنا بھی ایک گناہ ہے، اور اس سے بڑھ کر بڑا گناہ عدالتوں کے چکر ہیں جو عمر بھر پیچھا نہیں چھوڑتے۔ بہرحال یہ ایک انسانیت سوز واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

اس ضمن میں پاکستانی معاشرے کو ایک ایسے لائحہ عمل کی ضرورت ہے جہاں احتیاطی تدابیر حفاظتی باڑ کا کام دیں۔ قوانین پر عمل کرنا ہمارا اخلاقی، سماجی، تہذیبی اور معاشرتی فریضہ ہے۔ جہاں کہیں بے احتیاطی ہے، وہاں احتیاط کا دامن تھام کر “خطرناک“ لکھ دینا چاہیے تاکہ راہ گزرتے لوگوں کو اس بات کا بخوبی علم ہو کہ یہ جگہ خطرناک ہے اور اس جگہ سے گزرنا موت کو آواز دینے کے مترادف ہے۔

انسان اگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کرے، احتیاط کا دامن تھام کر رکھے، دوسروں کے بچوں کو اپنا سمجھے، آداب کو ملحوظِ خاطر رکھے، اخلاقی اقدار کو ترجیح دے، روڈ پر سفر کرتے ہوئے ٹریفک قوانین پر عمل کرے، اور عمارتیں تعمیر کرتے وقت مٹیریل میں کمی بیشی نہ کرے بلکہ ناپ تول میں مکمل ایمانداری کا مظاہرہ کرے، تو ایسے دل خراش واقعات روکے جا سکتے ہیں۔ یہ کوئی ایک دن کی بات تو نہیں بلکہ برسوں کا معاملہ ہے جہاں انفرادیت سے اجتماعیت تک کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

دنیا میں اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات ہماری توجہ اس جانب مبذول کروا رہے ہیں جہاں انسان کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ اگر آج 14 جگنو بے رحمی کا شکار ہوئے تو کل یہی اعداد و شمار 1400 تک پہنچ سکتے ہیں۔

خدارا! زندگی سے پیار کیجیے۔ ایک دوسرے کا احساس کیجیے۔ مجموعی فوائد کو سامنے رکھیں اور بچوں کے معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ حیوانیت کی ناک کاٹ ڈالیں۔ گھروں کی تعمیر کرتے وقت احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ اگرچہ ہر انسان اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے، وہاں فرائض سے بھی غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ لہٰذا اس کہاوت کے پس منظر میں موسم کا رخ دیکھ لیجیے:

“جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں