انسانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے
ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
اگر انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میل جول کے حوالے سے بہت بہتر تھا۔ لوگوں کے اندر انسانیت، بشریت اور آدمیت جیسی لاثانی خصوصیات موجود تھیں جو اس کے عہد و پیمان کی بہترین مثال تھی۔ احساس و وفا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ مکان کچے ہونے کے باوجود بھی خوشیوں اور محبتوں کی کلیوں سے مہکتے تھے۔ برادریوں کے درمیان اتحاد و یگانگت کی روح تھی۔ کسی ایک شخص کے نظریے کو قبول کر لیا جاتا تھا۔ شرم و حیا عام تھا، گھرانے عزت و آبرو کے بھوکے ہوتے تھے۔ مہمان نوازی عروج پر تھی۔ مہمان آنے کی خبر سنتے ہی سارا گھر خوشی سے مہک جاتا۔ پسند اور ناپسند کا بہت کم تصور تھا۔ بس رشتوں، نسلوں اور قوموں کے درمیان ہم آہنگی فروغ دینے کا رواج بھی عروج پر تھا۔ خاندانی نظام مربوط تھا۔ والد کو گھر کا سربراہ تسلیم کیا جاتا تھا، اس کی کہی ہوئی باتیں لوہے کی مانند تھیں۔ فیصلوں پر سب کو سر خم ہونا پڑتا تھا۔ اونچی آواز میں بول چال کا تصور نہ تھا بلکہ خاموشی کا روزہ رکھنے کی ریت عام تھی۔ گاؤں کے بزرگوں کا بے حد ادب و احترام تھا، گلی میں رہنے والا ہر خاندان بزرگوں کی عزت کرتا تھا۔
یہ ماضی کے قصے یا کہانیاں نہیں ہیں بلکہ ایک پختہ معاشرے کی حقیقی تصویر ہے جو داغوں اور جھریوں سے پاک تھی۔ روپیہ پیسہ کم ہونے کے باوجود بھی گلے شکوے نہ تھے بلکہ محبت سے سب فاصلے سمیٹ لیے جاتے تھے۔خواتین اپنے شوہروں کی تابع فرمان تھیں، سر پر دوپٹہ اور گفتگو میں شائستگی کا عام رواج تھا۔ بیٹیاں ماؤں کا اور بیٹے باپ کا ساتھ دیتے تھے۔ گھروں میں اطمینان اور تسلی تھی۔ یہ سب اخلاقیات کوئی 20 یا 30 سال پہلے عام تھی۔
پھر جیسے جیسے وقت نے کروٹ بدلی، لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھنا شروع ہوئے۔ خود غرضی کے سانپوں نے اخلاقیات کو ڈسنا شروع کر دیا۔ لڑائی جھگڑے عام ہونا شروع ہوئے، گھرانوں میں دیواریں بننا شروع ہوئیں۔ تقسیم کاری کے عمل نے ایک نئے جہان کو فروغ دیا جس میں ہم سب زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اکثر ماضی، حال اور مستقبل کو کوستے رہتے ہیں اگرچہ ماضی کی یادیں دل و دماغ کو سرگرم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب اچھی یادوں کے نقوش حال کے رسم و رواج سے ٹکراتے ہیں تو ماضی خود بخود اچھا لگنے لگتا ہے۔ انسان یادوں کی ایک ایسی بستی میں داخل ہو جاتا ہے جہاں اس کا بچپن، دوست اور رشتہ دار اس نفیس محبت کے حصہ دار تھے جو آج کل کے دور میں بالکل ناپید ہو چکے ہیں۔
عصر حاضر میں دن، ہفتے، مہینے اور سال تیزی سے گزرتے معلوم ہو رہے ہیں۔ عمریں جلدی جلدی اپنا سفر مکمل کر رہی ہیں۔ صحت کا روز بروز گرتا ہوا معیار ملاوٹ کے دھندے کی عکاسی کر رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی بیماریاں انسان کی ملاوٹ کی ایسی خود نوشت ہے جو اس کے مکروہ کاموں کا پردہ چاک کر رہی ہے۔ حادثے اور فاصلے معمولی کھیل بن گئے ہیں، انھیں ہر کوئی آسانی سے کھیل رہا ہے۔ سانپوں کی ہجرت باہر سے نہیں بلکہ اپنے ہی گھر سے شروع ہو کر نقل مکانی پر مجبور کر دیتی ہے۔ انسان کی فطرت شرارت کے خیموں سے بڑھتی جا رہی ہے۔ سماجی رویوں میں اس قدر ٹیڑھا پن آ چکا ہے جہاں زندگی کی شہ رگ کسی وقت بھی کٹ سکتی ہے۔ بچوں اور والدین کے درمیان سوشل میڈیا نے خاطر خواہ فاصلے بڑھا دیے ہیں جہاں محرومیوں اور شکوؤں کا جم غفیر ہے جو اقدار و روایات کی موت کے ذمہ دار عناصر ثابت ہو رہے ہیں۔ کیا آج اس کی ہتھیلی پہ قسمت کی ریکھائیں لکھی ہوئی ہیں، انھیں دیکھنا مقصود ہے یا نہیں؟ تلاش کے پس منظر میں کچھ محسوس کر لیجئے، وہ جو تاروں سے ستاروں تک کا سفر تھا اس میں قید و بند کی صحبتیں بڑھ گئی ہیں یا بہت حد تک کم ہو گئی ہیں۔
یہ ہمارے معاشرے کی کھلی تصویر ہے جس پر داغوں کی بھرمار ہے۔ یہ کسی ایک گھر کی کہانی نہیں بلکہ مجموعی صورت حال ہے جو روز بروز بڑھ رہی ہے۔ معاشرتی دکھ کس کو سنائے جائیں؟ سبھی تو ایک دوسرے سے خائف ہیں۔ اس لیے روز بروز حادثاتی اور فاصلاتی حدیں بڑھ رہی ہیں۔ دوریاں جیسے مشرق سے مغرب ہیں بالکل اسی تناسب کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔ یہ کہانی ایک عام شخص سے شروع ہو کر قوموں کے زوال تک سفر کر رہی ہے۔ اسے روکنے کے لیے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے جو پھیلے ہوئے خدشات، توہمات اور بغاوت کی روح کو ختم کر سکے۔
انسان کے اندر پھیلی ہوئی زہر ناکیاں تب ہی ختم ہو سکتی ہیں جب خلوص کا ہاتھ پکڑ کر سفر شروع کیا جائے، امن، محبت اور پاکیزگی کی داغ بیل ڈالی جائے، اعتماد کی فضا خوش گوار بنائی جائے، ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھا جائے اور سچ کا بیج بویا جائے تاکہ نیکی کی فصل پھل دے۔
یاد رکھیں! زندگی چند روزہ ہے، انسان مسافر اور پردیسی ہے۔ ہماری زندگی کا سفر صدیوں پر تو محیط نہیں البتہ 60 یا 70 سال پر مشتمل ہے۔ نہ انسان اس دنیا میں کچھ لایا اور نہ اس دنیا سے کچھ لے کر جا سکتا ہے۔ مرنے کے بعد یہاں سب کچھ باقی رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز منتقل ہوتی ہے تو وہ ہمارے اعمال کا گوشوارہ ہے جو عدالتی کاروائی میں مجرم یا راست باز ٹھہرانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر ہم خوش گوار زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان پڑے ہوئے فاصلوں کو مٹانا ہوگا۔ پھر دیر کس بات کی، آج ہی فیصلہ کیجئے کیونکہ وقت گزرنے کے بعد پچھتاوے کی فضا میں سانس لینا بیمار ذہنیت کی علامت ہے۔

