ایک گاؤں کے قلم کار کی داستان
سید ساجد علی شاہ بخاری (رحیم یارخان)
زندگی نے مجھے کبھی آسان راستے نہیں دیے۔ میں جب اپنے ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری زندگی کا ہر موڑ کسی نئے امتحان کا دروازہ تھا۔ کچھ لوگ چاندی کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں، لیکن میں ایک ایسے متوسط گھرانے میں پیدا ہوا جہاں ہر خوشی محنت کے بعد ملتی تھی اور ہر خواہش کو حالات کی دہلیز پر خاموشی سے دفن کرنا پڑتا تھا۔
میرا تعلق ایک ایسے گاؤں سے ہے جہاں آج بھی ترقی کی روش پوری طرح نہیں پہنچی۔ کچی گلیاں، محدود وسائل، غربت کا احساس اور خوابوں سے بھری آنکھیں—یہی میری ابتدائی زندگی کا سرمایہ تھا۔ بچپن میں جب دوسرے بچے کھلونوں سے کھیلتے تھے، میں زندگی کے بدلتے ہوئے رنگوں کو دیکھتا تھا۔ گھر کے حالات ایسے نہ تھے کہ ہر خواہش پوری ہو سکے۔ کئی مرتبہ دل کسی کتاب کے لیے مچلتا، مگر جیب خالی ہوتی۔ تب میں خاموشی سے اپنی خواہش کو دل میں دفن کر دیتا۔ شاید اسی خاموشی نے میرے اندر ایک لکھاری کو جنم دیا۔ انسان جب اپنے دکھ کسی سے کہہ نہ سکے تو وہ انہیں لفظوں کے سپرد کر دیتا ہے، اور میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔
تعلیم کے سفر میں بھی آسانیاں میرا مقدر نہ بن سکیں، مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں نے بی اے (جرنلزم) کی ڈگری حاصل کی اور دل میں ایک خواب بسایا کہ قلم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناؤں گا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں سے بھرا ہوا ہے، لیکن میرے اندر کا جذبہ ہر خوف سے بڑا تھا۔
میرے ماموں، حافظ سید ممتاز احمد شاہ مرحوم، میرے لیے صرف ایک رشتہ دار نہیں بلکہ میرے ادبی استاد تھے۔ میں انہیں کتابوں کے درمیان بیٹھے دیکھتا تو محسوس ہوتا کہ دنیا کی اصل دولت یہی علم ہے۔ ان کی شخصیت نے میرے دل میں ادب کی ایسی شمع روشن کی جو آج تک بجھی نہیں۔ ان کے انتقال کے بعد جب بھی قلم ہاتھ میں لیتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ان کی دعائیں آج بھی میرے ساتھ ہیں۔
سن 2000ء میں میں نے صحافت کا آغاز کیا۔ اس وقت میرے پاس نہ موٹر سائیکل تھی، نہ گاڑی، اور نہ ہی کوئی مالی سہارا۔ میری واحد سواری ایک سائیکل تھی، جس پر بیٹھ کر میں میلوں دور شہروں تک جاتا۔ گرمی کی تپتی دوپہریں، سردیوں کی یخ بستہ صبحیں اور بارشوں کی بھیگی ہوئی شامیں میری ہم سفر تھیں۔ کئی مرتبہ راستے میں سائیکل خراب ہو جاتی، کبھی جیب میں کرائے کے پیسے بھی نہ ہوتے، لیکن دل میں ایک ہی آواز گونجتی تھی کہ اگر منزل پانی ہے تو چلتے رہو۔ مجھے وہ راتیں آج بھی یاد ہیں جب واپسی پر گاؤں کی سنسان گلیوں میں داخل ہوتے ہوئے صرف چاندنی میرا استقبال کرتی تھی۔ تھکن جسم میں ہوتی، مگر دل خوش ہوتا کہ آج کچھ نیا سیکھ کر آیا ہوں۔ شاید اسی جذبے نے مجھے کبھی رکنے نہیں دیا۔
سن 2002ء میں میں نے کالم نگاری کا آغاز کیا۔ پہلا کالم شائع ہوا تو خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی، مگر جلد ہی حقیقت نے اپنے رنگ دکھانا شروع کر دیے۔ بڑے شہروں کے لکھنے والوں کو آسانی سے جگہ مل جاتی تھی، لیکن ایک گاؤں کے لکھاری کو اپنی شناخت بنانے کے لیے کئی گنا زیادہ محنت کرنا پڑتی تھی۔ میری تحریروں کو کبھی نظر انداز کیا گیا، کبھی واپس کر دیا گیا، اور کبھی صرف اس لیے مسترد کر دیا گیا کہ میں کسی بڑے حلقے سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ یہ وہ لمحے تھے جب دل ٹوٹتا تھا۔ انسان جب پوری رات جاگ کر ایک تحریر لکھے اور وہ بغیر پڑھے واپس کر دی جائے تو اس کا درد صرف ایک لکھاری ہی سمجھ سکتا ہے۔ مگر میں نے ہار ماننے کے بجائے اپنی خاموشی کو مزید طاقت بنا لیا۔
زندگی نے صرف ادبی میدان میں ہی امتحان نہیں لیا بلکہ معاشی میدان میں بھی بارہا آزمایا۔ کئی اداروں میں ملازمت ملی، مگر حالات ایسے بنے کہ ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ بعض لوگوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ: “تم گاؤں کے آدمی ہو، تم آگے نہیں بڑھ سکتے۔“ یہ جملے میرے دل میں تیر کی طرح اترتے تھے، مگر شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ انسان کے خواب اس کے پتے یا شہر کے محتاج نہیں ہوتے۔
میں نے بے شمار راتیں ایسی گزاری ہیں جب گھر کے سب لوگ سو جاتے تھے اور میں ایک مدھم سی روشنی میں لکھتا رہتا تھا۔ کبھی بجلی نہ ہوتی، کبھی کاغذ کم پڑ جاتے، کبھی قلم جواب دے جاتا، مگر دل کا قلم کبھی نہیں رکا۔ میری تحریریں میری آنکھوں کے آنسوؤں سے جنم لیتی رہیں۔
اللہ تعالیٰ نے میری محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیا۔ وقت گزرتا گیا اور میرے کالم مختلف اخبارات میں شائع ہونے لگے۔ آج چھ ہزار سے زائد کالم، چار سو سے زیادہ کہانیاں اور تین سو ناول میرے قلم سے نکل چکے ہیں۔ لوگ اکثر صرف یہ تعداد دیکھتے ہیں، مگر انہیں معلوم نہیں کہ ان اعداد کے پیچھے کتنی بے خواب راتیں، کتنے آنسو، کتنی محرومیاں اور کتنی قربانیاں چھپی ہوئی ہیں۔
سن 2007ء میں میری پہلی کتاب “امی“ شائع ہوئی۔ جب پہلی بار اپنی کتاب ہاتھ میں لی تو بے اختیار آنکھیں نم ہو گئیں۔ مجھے اپنی ماں کی دعائیں، اپنے والد کی محنت اور اپنے گاؤں کی وہ مٹی یاد آ گئی جس نے مجھے چلنا سکھایا تھا۔ اس کے بعد “دل کی بات“ منظرِ عام پر آئی اور اب اس کی دوسری جلد پر کام جاری ہے۔ میری ہر کتاب میری زندگی کا ایک حصہ ہے۔
چوبیس برسوں میں مجھے کئی اعزازات، اسناد، میڈلز، ٹرافیاں اور نقد انعامات ملے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی تمغہ ان آنسوؤں کی قیمت ادا نہیں کر سکتا جو ایک قلم کار اپنی جدوجہد کے دوران بہاتا ہے۔ کامیابی کی تصویر تو سب دیکھتے ہیں، مگر اس کے پیچھے چھپی قربانیوں کی داستان بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
آج بھی جب میں کسی نوجوان کو مایوس دیکھتا ہوں تو اسے یہی کہتا ہوں کہ اگر ایک گاؤں کا نوجوان، جس کے پاس نہ وسائل تھے، نہ سفارش، نہ سرمایہ، صرف قلم کے سہارے اپنی شناخت بنا سکتا ہے تو تم بھی بنا سکتے ہو۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہمت نہ ہارو۔ میری زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان کو اپنے خوابوں کی حفاظت خود کرنی پڑتی ہے۔ دنیا اکثر آپ کے حوصلے توڑنے کی کوشش کرے گی، آپ کو کمتر ثابت کرے گی، آپ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرے گی، لیکن اگر آپ کا یقین اللہ تعالیٰ پر ہو اور آپ کی نیت خدمت کی ہو تو ایک دن وہی راستے منزل بن جاتے ہیں۔
میں آج بھی وہی گاؤں کا سید ساجد علی شاہ ہوں، فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی سائیکل پر خوابوں کا بوجھ اٹھاتا تھا، آج قلم پر ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں۔ میری خواہش نہ دولت ہے، نہ شہرت؛ میری خواہش صرف یہ ہے کہ جب میری زندگی کا آخری صفحہ بند ہو تو لوگ یہ ضرور کہیں کہ ایک دیہات کا لکھنے والا شخص آیا تھا، جس نے قلم کو کبھی فروخت نہیں کیا، جس نے حق لکھا، سچ لکھا، انسانیت کے لیے لکھا اور اپنے رب کے حضور سرخرو ہونے کی کوشش کرتا رہا۔
ہماری ڈائجسٹ کے قارئین کے لیے اپنی آب بیتی لکھی ہے ،اب آپ اپنی تحریر میں اس کو کیسے چار چاند لگاتے ہیں۔
