سوشل میڈیا: رشتوں کی دوری یا قربت؟
از قلم: ارم کاشف
انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے۔ اس کی زندگی کی اصل خوبصورتی رشتوں، محبت، خلوص اور باہمی تعلق میں پوشیدہ ہے۔ زمانہ بدلتا گیا، سائنس نے ترقی کی، فاصلے سمٹتے گئے اور دنیا ایک “گلوبل ویلیج“ میں تبدیل ہو گئی۔ آج سوشل میڈیا ہماری روزمرہ زندگی کا ایسا حصہ بن چکا ہے، جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ایک چھوٹا سا اسمارٹ فون پوری دنیا کو ہماری ہتھیلی میں لے آیا ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص سے رابطہ ممکن ہے؛ لیکن اس حیرت انگیز سہولت نے ایک اہم سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ کیا سوشل میڈیا نے واقعی رشتوں کو مضبوط بنایا ہے، یا پھر یہ خاموشی سے ان کے درمیان فاصلے بڑھا رہا ہے؟
بلاشبہ سوشل میڈیا نے بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں۔ برسوں سے بچھڑے ہوئے دوست دوبارہ مل جاتے ہیں، بیرونِ ملک رہنے والے عزیز روزانہ ویڈیو کال کے ذریعے اپنے گھر والوں سے جڑے رہتے ہیں، اور خوشی و غم کی خبریں چند لمحوں میں ایک دوسرے تک پہنچ جاتی ہیں۔ قدرتی آفات، بیماری یا کسی مشکل وقت میں لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے فوری طور پر جمع ہو جاتے ہیں۔ علم، معلومات اور مثبت پیغامات کی تیز تر ترسیل بھی اسی ٹیکنالوجی کا ایک روشن پہلو ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سوشل میڈیا نے جغرافیائی فاصلے ضرور کم کر دیے ہیں۔
لیکن حقیقت کا دوسرا رخ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور تشویش ناک ہے۔ آج ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں، مگر ان کی نظریں ایک دوسرے پر نہیں بلکہ موبائل فون کی اسکرین پر جمی ہوتی ہیں۔ والدین بچوں سے بات کرنا چاہتے ہیں، بچے اپنے دوستوں کی دنیا میں مگن ہوتے ہیں، اور میاں بیوی ایک دوسرے کی موجودگی کے باوجود خاموش رہتے ہیں۔ جسم ایک جگہ موجود ہوتے ہیں، مگر دل اور توجہ کہیں اور ہوتی ہے۔ یہی وہ خاموش فاصلے ہیں جو آہستہ آہستہ مضبوط رشتوں کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔
پہلے خاندان ایک دسترخوان پر بیٹھ کر باتیں کرتے تھے، ایک دوسرے کے چہروں سے خوشی اور غم کو پڑھ لیتے تھے، اور چھوٹی چھوٹی ملاقاتیں محبت میں اضافہ کرتی تھیں۔ آج یہی گفتگو مختصر پیغامات، ایموجیز اور ری ایکشنز تک محدود ہو گئی ہے۔ کسی کے دکھ میں چند تسلی بخش الفاظ کہنے کے بجائے ایک اداس ایموجی بھیج دینا کافی سمجھا جاتا ہے، جبکہ خوشی کے موقع پر گلے ملنے کی جگہ صرف ایک “لائک“ یا “ہارٹ“ دے دیا جاتا ہے۔ یوں جذبات کی گہرائی آہستہ آہستہ مصنوعی اظہار میں بدلتی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا نے رشتوں میں ایک اور خاموش تبدیلی بھی پیدا کی ہے، اور وہ ہے دکھاوے اور مقابلے کی دوڑ۔ آج محبت کا معیار کردار یا قربانی نہیں، بلکہ تصاویر، فالوورز، لائکس اور تبصروں کی تعداد بنتا جا رہا ہے۔ لوگ اپنی حقیقی زندگی سے زیادہ اپنی آن لائن شخصیت کو خوبصورت دکھانے میں مصروف ہیں۔ بہت سے لوگ دوسروں کی خوشحال تصاویر دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں، جس سے احساسِ محرومی، بے چینی اور حسد جیسے منفی جذبات جنم لیتے ہیں۔ جب رشتے اخلاص کے بجائے نمائش کا ذریعہ بن جائیں، تو ان کی روح متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔
اس کے باوجود سوشل میڈیا کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ہر ایجاد کی طرح اس کا استعمال بھی انسان کے اختیار میں ہے۔ یہی پلیٹ فارم علم حاصل کرنے، مثبت سوچ پھیلانے، کاروبار کو فروغ دینے، خیرات اور فلاحی کاموں میں حصہ لینے اور دور بیٹھے عزیزوں سے رابطہ قائم رکھنے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مسئلہ سوشل میڈیا میں نہیں، بلکہ اس کے غیر متوازن استعمال میں ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ڈیجیٹل دنیا اور حقیقی زندگی کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کریں۔ روزانہ کچھ وقت موبائل فون سے دور رہ کر اپنے والدین، شریکِ حیات، بچوں، بہن بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ گزاریں۔ ان کی بات سنیں، ان کے جذبات کو محسوس کریں اور انہیں اپنی توجہ دیں؛ کیونکہ کوئی بھی اسکرین ایک مخلص مسکراہٹ، محبت بھرا لمس یا خلوص سے کی گئی گفتگو کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، منزل نہیں۔ اگر ہم اسے رشتوں کو جوڑنے کے لیے استعمال کریں تو یہ نعمت ہے، لیکن اگر یہی ہماری توجہ، وقت اور محبت اپنے عزیزوں سے چھین لے تو یہ دوریوں کا سبب بن جاتا ہے۔ یاد رکھیے، رشتے انٹرنیٹ کی رفتار سے نہیں بلکہ اعتماد، خلوص، وقت اور محبت سے مضبوط ہوتے ہیں، اور یہی وہ سرمایہ ہے جو ہر دور میں انسان کو انسان سے جوڑے رکھتا ہے۔
