0

مطالعہ کی اہمیت اور روح کی غذا – ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 مطالعہ کی عادت ڈالیں 

ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی تحریر "مطالعہ کی اہمیت اور روح کی غذا" کے لیے ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کا کور، جس میں ایک قاری کو لائبریری میں کتاب پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ساتھ میں ایک قلم اور چائے کا کپ موجود ہے۔

از قلم : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد 

جیسے بدن کی ضرورت خوراک ہے، اسی طرح روح کی غذا مطالعہ ہے۔ عصرِ حاضر میں اگر اس حقیقت کا پردہ چاک کیا جائے تو مطالعہ کی عادت بہت کم حد تک ہو گئی ہے۔ اکثریت کا رجحان سوشل میڈیا پر منتقل ہو گیا ہے۔ یہ سلسلہ صبح سے لے کر شام تک جاری و ساری رہتا ہے۔ بچوں، بڑوں، بزرگوں اور خواتین تک کے ہاتھوں میں 24 گھنٹے موبائل فون رہتا ہے۔ ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک موبائل فون کی سروس دستیاب رہتی ہے۔

جب سے انسان نے کتابوں سے دوستی ختم کی ہے، ذہن کچھ اور سوچنے لگ گیا ہے۔ خیالات بدل گئے ہیں، مصروفیت بڑھ گئی ہے، رفاقت کا سلسلہ بہت حد تک سکڑ گیا ہے۔ بچوں کی نفسیات سوشل میڈیا کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مصروفیات بھی ہیں۔ ہر انسان جلدی کے مرض میں مبتلا ہے۔ شب و روز دوڑ لگی ہوئی ہے؛ وقت کم اور مسائل زیادہ ہیں۔ ظاہر ہے جب کسی کام سے توجہ ہٹ جائے، اسے معمول پر لانے کے لیے بہت زیادہ تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ بہت سی بری عادات چھوڑنا پڑتی ہیں؛ اگر نہ چھوڑی جائیں تو زندگی کا گراف بہت نیچے گر جاتا ہے، ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے، الجھنیں اور پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے آج انسانوں کے درمیان بہت سے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ مطالعہ کا شوق کم ہوتے ہوتے برائے نام رہ گیا ہے، حالانکہ مطالعہ روح کی غذا ہے، عقل و شعور کا دروازہ ہے، الفاظ کا ذخیرہ ہے، پختہ شعور کی علامت ہے، ادب برائے زندگی ہے، حاصلات کا ذریعہ ہے، وقت کی ضرورت ہے۔ علم کے بغیر جہالت ہے، پیچھے رہ جانے کا نام ہے۔

کتابیں انسان کی بہترین دوست ہیں، روح پرور ماحول کو فروغ دیتی ہیں، تجسس بڑھاتی ہیں، ادب و احترام سکھاتی ہیں، روح کی بھوک بڑھاتی ہیں، نئے نئے علوم سے متعارف کرواتی ہیں، علم و حکمت عطا کرتی ہیں، تفکرات کم کرتی ہیں، تحقیق و جستجو کی طلب پیدا کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں مختلف علوم پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ آج دنیا میں جتنا بھی شعور پختہ ہوا ہے، وہ سب کتابوں کا ثمر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کتابیں اپنے اندر جو جوہر رکھتی ہیں، اس کے اثرات نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان پر جب شعور کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کا تجسس قدرتی طور پر بڑھ جاتا ہے، فطرت سے ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے، انسان کے اندر ادب و آداب کی شمع جل جاتی ہے۔

روزمرہ زندگی میں آپ کسی بھی صنف کا شوق رکھتے ہیں، سیکھنے سکھانے کا جذبہ رکھتے ہیں تو کتاب راستہ ضرور دکھائے گی، روح کی باتیں پرکھنے کا موقع عطا کرے گی۔ کتابیں خواہ نصاب کی ہوں، اخلاقیات پر مبنی ہوں، طبی تحقیق کا نچوڑ ہوں، معاشرے کی روداد پر مشتمل ہوں؛ ان کے اندر رہنمائی اور ذہانت تہہ در تہہ موجود ہوگی۔ انسان جتنے زیادہ صفحات کا مطالعہ کرے گا، اس کا قلب و ذہن اتنا ہی زیادہ وسیع ہوتا جائے گا۔ مختلف زبانوں کے ذخیرہ الفاظ ازبر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ عالم اور مفسر بننے کے لیے زبانوں کا علم اور دلائل مقناطیس جیسا اثر رکھتے ہیں۔ دوسروں کو قائل کرنے کے لیے علمیت کی روح مل جاتی ہے جو دوسروں کی پیاس بجھانے کے لیے قدرتی رس کی طرح سیر و آسودہ کرتی ہے۔

ہر انسان کو زندگی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مطالعہ کا شغف رکھنا چاہیے۔ رات کو سونے سے پہلے کسی بھی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے، کیونکہ مطالعہ اچھی نیند اور اچھی سوچ کا عادی بنا دیتا ہے۔ تو پھر دیر کس بات کی؟ بہانہ کس بات کا؟ کسی عذر کی ضرورت کیوں؟ دلچسپی ہر چیز کو ممکن بنا دیتی ہے، نظم و ضبط قائم کر دیتی ہے۔ اپنی اصلاح سے لے کر معاشرے تک کی روح میں تبدیلی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ زندگی میں چند منٹ کا مطالعہ نظریات کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ بلاشبہ مطالعہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور فطری تقاضوں سے ہم آہنگی کا موقع بھی۔ لہٰذا زندگی کو فرسودہ اور بیکار بنانے سے بہتر ہے کہ مطالعہ کی رغبت پیدا کر لی جائے۔

!جولائی 2026 کا تازہ ترین شمارہ اب آن لائن دستیاب ہے

اس شمارے کی خاص جھلکیاں:

  • ذلیل گدھ: رحمان علی جوئیہ کا معاشرتی تلخیوں کو بے نقاب کرتا ایک منفرد اور جاندار افسانہ۔
  • پابندِ سلاسل: بشریٰ ارشاد کا تحریر کردہ سحر انگیز رومانوی ناول۔
  • نمکو: ڈاکٹر وحید عزیز کی قلم سے نکلی ایک اچھوتی اور دلچسپ کہانی۔
  • ناول و افسانے: اہرامِ مصر کے سحر انگیز رازوں کی داستان اور دیگر ممتاز لکھاریوں کے بہترین افسانے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں