ایک بس ، اسی (80) اسٹاپ اور سُو کہانیاں
کچھ لفظ ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں اور ان کی یاد بن کر دلوں میں روشنی پھیلاتے ہیں۔
ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کے اس شمارے میں ہم سید میثاق علی جعفری مرحوم کا لکھا ہوا ایک خوبصورت تبصرہ اور تحریر شائع کر رہے ہیں۔ افسوس کہ جب ان کی یہ محبت ہم تک پہنچی تو وہ خود دنیا میں موجود نہیں تھے اور ہم ان کا شکریہ بھی ادا نہ کر سکے۔
ادارہ ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل ان کی یادگار تحریر اور اس کالم کو انتہائی احترام اور محبت کے ساتھ قارئین کی نظر کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک تحریر نہیں بلکہ ان کے خلوص اور ادب سے سچی وابستگی کا ایک خوبصورت نشان ہے۔
سید میثاق علی جعفری
ایک عرصے بعد گزشتہ دنوں گجرات (جلالپور جٹاں) جانا ہوا۔ کچھ خاندانی مسائل تھے جو میری والدہ نے فی سبیل اللہ اپنے سر لے رکھے ہیں۔
مشہور چوک، سروس موڑ سے جلالپور جٹاں کی بس پکڑی، جس کا روٹ گجرات سے ہیڈ مرالہ ہے۔ گجرات سے ہیڈ مرالہ تک 45، 50 کلومیٹر کے علاقے میں بس تقریباً 80 کے لگ بھگ اسٹاپ کرتی ہے۔ یہ لوکل روٹ اپنی مثال آپ ہے۔ آج سے چالیس سال پہلے بھی وہی مسائل تھے جو آج ہیں۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور ان پر سفر کرتی لوکل ٹرانسپورٹ موت کے کنویں میں چلتی موٹر سائیکل کا منظر پیش کرتی ہے۔
بسوں اور ویگنوں میں وہی بے پناہ رش، اور سب سے اہم بات، جو ہنوز نہیں بدلی، وہ بس کے کرائے پر جھگڑا ہے۔ اس کارِ خیر میں ملک کی آدھی آبادی کی اکثریت پیش پیش ہوتی ہے۔”لے، اسیں کوئی پہلی واری ادھ والی کھوئی چلیں آں؟ ظلم خدا دا! کل پیشی ولے گجرات دا کرایا پندرہ روپے دے کے گئی آں۔ توں ٹُٹ پینا ہُن وی بیس روپے منگنا اے؟”
اور دوپٹے کے پلو سے پندرہ روپے کھول کر دیتے ہوئے اسے باور بھی کرایا کہ دنیا دو جائے، میں نے کرایہ پندرہ روپے سے زیادہ نہیں دینا۔”اے لے پندرہ روپے۔”
“پین جی، کنیاں سواریاں؟”دو۔”
“اے مُڑا؟”
“میرا اے۔”
“کیوں؟
ایدا کرایہ؟”کیوں وائی، بالاں دا کرایہ تے میں کوئی نہیں دینا!”
خدا کی قسم، وہ خاتون جسے بچہ بتا رہی تھی، اسے سوائے ماں کے کوئی ذی شعور انسان بچہ کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کنڈیکٹر بھی کمر بستہ تھا”نا میری پین، نا! ایس دا کرایا لینا ای لینا اے۔”
ابھی حق و باطل کی یہ جنگ جاری تھی کہ ایک نئے قضیے نے جنم لے لیا۔”وے، تُوں چرس پیتی اے؟”
“تینوں گجراتوں دسنی پیئی آں، میں کُرنڑ نالہ ای لینا اے۔ او لنگ آیا ایں، میں کلا کوئی ٹُر کے پچھے جاناں دی؟”
“پین جی، اےکُرنڑ نالہ ای اے۔”
“نئیں نئیں، میں اَنی آں؟ تینوں سکولیاں کولوں پھَنڈ پین آلی ہوئی اے!”
لو جی، گگا پیر کے چیلے نے ایک تھیلی سے سانپ برآمد کیا اور پیر صاحب کی کرامات پر روشنی ڈالنا شروع کی۔ اس روشنی میں جو چیز اجاگر ہوئی، وہ یہ تھی کہ پیر صاحب اس علاقے کے تمام سانپوں کے مرشد ہیں۔ سانپ اس علاقے میں پیر صاحب کی اجازت کے بغیر پر نہیں مار سکتے۔
کاش سانپوں کے پر ہوتے؟
اور یہ کہ یہ دنیا فانی ہے، کسی نے کچھ ساتھ لے کر نہیں جانا۔ روپیہ پیسہ سب یہیں رہ جانا ہے۔ مرید صاحب اردو ادب پر بھی اچھی خاصی گرفت رکھتے تھے۔ اس کا اظہار یوں ہوا”سو برس دا سامان کر لیا اے، پلکے دی خبر نئیں۔”
گگا پیر کا مزار پُرانوار زیرِ تعمیر ہے۔ اس کے چندے کی اپیل کے ساتھ یہ خوش خبری بھی سواریوں کے گوش گزار کی گئی کہ گگا پیر اولادِ علی ہیں اور ان کے مزار پر دیے ہوئے چندے کا ثواب مکے مدینے میں دیے ہوئے چندے کے برابر ہے۔
میرے پیچھے دو کالج کی نوجوان لڑکیاں براجمان تھیں۔ دونوں کے مسائل الگ الگ تھے۔
ایک نصیب جلی اپنے بہن بھائیوں کی ہر سال بڑھتی ہوئی تعداد سے نالاں تھی اور اس اضافے کا موجب والدِ گرامی کی بے حسی کو سمجھتی تھی۔ پوتڑوں کی دھلائی کا بوجھ بھی اسی کے ناتواں کندھوں پر تھا۔
دوسری نقب پوش کے ساتھ بہت بڑا ترہو (ظلم) یہ ہوا کہ پرسوں رات گئے ہونے والی بارش کی وجہ سے جب سب اٹھ کر پسار (بڑا کمرہ) میں آئے تو اس کی ماں نے انکشاف کیا کہ جاگ والی چاٹی (دھی جمن والا برتن) تو سیڑھیوں پر ہی رہ گئی ہے۔”بھاگتی ہوئی جاؤ اور چاٹی اٹھا لاؤ!”
جیسے ہی بچاری چاٹی اٹھانے کے لیے جھکی، اس کے سوٹ سے اچھل کر موبائل فون چاٹی میں جا گرا، جس کا علم اسے بستر پر لیٹنے کے بعد ہوا۔ جب تک دودھ دہی بننے کے عمل سے گزر رہا تھا، وہ اپنا کام کر چکا تھا۔
اسے موبائل فون خراب ہونے سے زیادہ لمبڑاں دے منڈے کے ان میسجز کا دلی دکھ تھا، جو اسے سوہنیِ ثانی کے منصب پر فائز کر چکے تھے۔
خیر، کثیر بہن بھائیوں والی نادیدہ حسینہ نے مشورہ دیا”منیر لمبڑاں کو کہو کہ اسے نیا موبائل لے کر دے۔”
اسی دوران لڑکی نے دوسری لڑکی کو کہنی مار کر اطلاع دی”ہمارا سٹاپ، ملکاں دا دوجہ پٹرول پمپ آ گیا ای۔”
بس رکی۔ چند مسافر اترے، چند چڑھے اور بس پھر اسی رفتار سے اپنے سفر پر چل پڑی۔
میں کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔ وہی ٹوٹی سڑک، وہی دھول، وہی بس، وہی بے تحاشا رش، وہی کرائے پر بحث اور وہی لوگ۔ مجھے خیال آیا کہ چالیس برس میں شاید اس راستے نے بہت کچھ دیکھا ہوگا، مگر اس کے مسائل نے ترقی کی بجائے جیسے اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔
میثاق علی جعفری کا تبصرہ:
ان کی ادبی خدمات اور یاد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے مدیرہ علینہ خان کی طرف سے ویب سائٹ پر ایک خاص Tribute Column بھی تحریر کیا گیا ہے۔
اللہ تعالی سید میثاق علی جعفری مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔




