0

کربلا: تاریخ سے آگے، زندگی کے نصاب تک تحریر: ارم کاشف

 مضمون: کربلا: تاریخ سے آگے، زندگی کے نصاب تک

کربلا: تاریخ سے آگے، زندگی کے نصاب تک - ارم کاشف - ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 ارم کاشف

محرم الحرام کا چاند افق پر نمودار ہوتے ہی دلوں میں ایک عجیب سی رقت اتر آتی ہے اور فضا عقیدت و احترام کے نور سے منور ہو جاتی ہے۔ چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود واقعۂ کربلا کی تازگی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ یہ محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ رہتی دنیا تک کے لیے حق، صداقت اور استقامت کا ایک زندہ نصاب ہے۔ میدانِ کربلا میں رقم ہونے والی قربانی کی عظیم داستان آج بھی انسانیت کو یہ درس دیتی ہے کہ جب باطل پوری قوت اور جاہ و جلال کے ساتھ سامنے آ کھڑا ہو، تو مصلحت کے مصنوعی حصار توڑ کر حق کا عَلَم کس طرح بلند رکھا جاتا ہے۔

اگر غور کیا جائے تو نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے وفادار ساتھیوں کی قربانی کا پیغام صرف اشک بہانے یا سوگ منانے تک محدود نہیں۔ کربلا ایک مکتبِ فکر ہے، ایک ایسی درسگاہ جہاں صبر، ایثار، وفاداری اور اصول پسندی کا عملی سبق دیا جاتا ہے۔ یہ اسوہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب معاملہ نظریے، حق اور سچائی کا ہو تو نہ وسائل کی کمی رکاوٹ بنتی ہے اور نہ ہی مخالفین کی عددی برتری خوف کا باعث بنتی ہے۔

واقعۂ کربلا کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ حق کی حمایت کا پیمانہ تعداد نہیں، کردار ہوتا ہے۔ بہتر جانثاروں کا وہ مختصر قافلہ رہتی دنیا تک کے لیے استقامت کی علامت بن گیا، جبکہ طاقت اور اقتدار کے نشے میں مبتلا لشکر تاریخ کے صفحات میں عبرت کی مثال بن کر رہ گیا۔ یہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصولوں پر قائم رہنے کے لیے اکثریت نہیں، عزم اور اخلاص درکار ہوتا ہے۔

آج کا دور نفسا نفسی, خود غرضی اور مصلحت پسندی کا دور معلوم ہوتا ہے۔ انسان معمولی مادی مفادات کی خاطر سچ سے نظریں چرا لیتا ہے، رشتوں کی حرمت کو پامال کر دیتا ہے اور معاشرتی ناانصافیوں پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ کہیں کمزور کا حق طاقت کے زور پر چھین لیا جاتا ہے، کہیں دیانت داری کو سادہ لوحی سمجھا جاتا ہے اور کہیں سچ بولنے والوں کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کربلا ہمیں یہ حوصلہ دیتی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، حق کا ساتھ چھوڑنا اہلِ حق کا شیوہ نہیں۔

آج اگر ایک استاد دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے، ایک صحافی دباؤ کے باوجود سچ لکھتا ہے، ایک جج انصاف کے تقاضوں کو مقدم رکھتا ہے، یا ایک عام شہری ظلم، بدعنوانی اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، تو یہ سب فکرِ حسینؑ کی عملی صورتیں ہیں۔ کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق کی نصرت صرف میدانِ جنگ میں تلوار اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق سچائی اور انصاف کا ساتھ دینا بھی اسی جدوجہد کا حصہ ہے۔

کربلا ہمیں رشتوں کے تقدس اور باہمی وفا کا درس بھی دیتی ہے، جہاں بھائی، بہن، بیٹے اور اصحاب ایک دوسرے کے لیے ڈھال بن گئے۔ حضرت عباسؑ کی وفاداری، حضرت علی اکبرؑ کی اطاعت اور اہلِ بیت کی بے مثال قربانیاں انسانی تعلقات کی عظمت کا وہ باب ہیں جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔

اسی طرح حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا کردار ہمیں جرأت، حکمت اور استقامت کا سبق دیتا ہے۔ اگر کربلا میں امام حسینؑ نے حق کی خاطر قربانی کی عظیم مثال قائم کی، تو شام کے دربار میں حضرت زینبؑ نے اپنے بے باک خطبات سے ظلم کے ایوانوں کو لرزا دیا۔ ان کی استقامت اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ سچ بولنے اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کے لیے تخت و تاج نہیں، بلکہ مضبوط کردار اور غیر متزلزل ایمان درکار ہوتا ہے۔

ایک لکھاری اور قلم کار کی حیثیت سے، اور اس معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کے طور پر، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کربلا کے اس آفاقی فلسفے کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنے گھروں، دفاتر اور معاشرتی رویّوں میں مصلحت پسندی کے بت توڑتے ہوئے حق اور انصاف کا ساتھ دیں۔ اہلِ قلم کی ذمہ داری محض واقعات بیان کرنا نہیں، بلکہ معاشرے کے ضمیر کو بیدار کرنا بھی ہے۔ جس طرح حضرت زینبؑ نے حق کا پیغام دنیا تک پہنچایا، اسی طرح آج قلم کاروں کو بھی سچائی کی گواہی دینے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔

محرم الحرام کا یہ مقدس مہینہ ہمیں ہر سال اپنے عہد، اپنے کردار اور اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آئیے، اس محرم ذکرِ حسینؑ کے ساتھ فکرِ حسینؑ کو بھی اپنے دلوں میں جگہ دیں۔ اپنے قلم، اپنے قول اور اپنے عمل کو وہ قوت عطا کریں جو ہر دور کے یزیدی رویّوں کے سامنے حق و صداقت کی گواہی بن سکے، کیونکہ یہی کربلا کا حقیقی پیغام ہے اور یہی اسلام کی اصل روح ہے۔

کربلا ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتی کہ ظلم کے خلاف کیسے کھڑا ہونا ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسانیت، عدل، وفا اور سچائی کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جن کی ہمارے معاشرے کو آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ اگر ہم نے فکرِ حسینؑ کو اپنی زندگیوں میں جگہ دے دی، تو یقیناً ایک بہتر، منصفانہ اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں