محبت کی راہ میں بکھرے ہوئے کانٹے
ازقلم: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
محبت خدا کی ودیعت اور انسانی جذبات کی اصل روح ہے۔ اسے اپنائے بغیر دنیا بے کار لگتی ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے سارا سماج نفرت کی دلدل میں پھنسے بیٹھا ہے۔
عصر حاضر میں جدھر بھی نظر دوڑائیں عجیب سا منظر ہے۔ موسم دھندلا اور ابر آلود ہے۔ جگہ جگہ نفرت کی خاک ہے۔ زبان پر جھوٹ کے کانٹے ہیں۔ خود غرضی کی دھوپ ہے۔ رویوں میں زہریلا پن ہے۔ دلوں میں تنگی ہے۔ ذہنوں میں کند ذہنی کا غلبہ ہے۔ گفتگو میں کڑواہٹ کا ذائقہ ہے۔ مزاج میں ٹیڑھا پن ہے۔
اگرچہ خدا محبت ہے، اس نے کائنات کو جس خوبصورتی کے ساتھ پیدا کیا ہے، دنیا میں اس کا کوئی دوسرا نعم البدل ذریعہ نہیں ہے۔ کائنات کی جس بھی چیز کو دیکھا جائے اس میں محبت، شفقت اور خوشی کے نقش و نگار گڑھے ہوئے ہیں۔ انسان جب بھی ان نقش و نگار کو دیکھتا ہے، اس کی عقل سلیم سر خم ہو جاتی ہے۔ وہ حیرتوں کے جہان میں داخل ہو جاتا ہے، جہاں اس کی زبان بے اختیار ہو کر خدا کی تعریف و توصیف کرنے لگتی ہے۔ یہ مہکا مہکا گلشن، یہ گرم سرد ہوائیں، یہ برفانی تودے، پہاڑوں پر سفید پوشاک، سمندروں کا شور، دریاؤں کا بہاؤ، پرندوں کے نغمے، بادلوں کا رقص، بارش کی ٹپ ٹپ، مٹی کی خوشبو کس قدر قدرت کی خاموش زبان بن کر مسکراہٹوں کے پھول نچھاور کر رہے ہیں۔ حیرت ہے ان کی شگفتگی اور پاکیزگی پر۔ نہ یہ شور کرتے، نہ بڑبڑاتے، نہ یہ احسان جتاتے بلکہ خدا کی تابع فرمانی میں سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ ان کے اندر نہ تکبر کی روح ہے اور نہ فاصلوں کا تصور۔ یہ اپنے اندر محبت کا چراغ، علم کی روشنی اور انسان دوستی کو فروغ دینے کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ یہ موسموں کی پرواہ کیے بغیر اپنا سفر جاری و ساری رکھتے ہیں۔
جب کائنات اپنے اندر اتنا بڑا سبق چھپائے بیٹھی ہے تو انسان کے اندر ہلاکت کا لاوا کہاں سے ابل کر اسے خاک بنا دیتا ہے؟ یقیناً یہ ہمارے سماجی رویے اور نفرت کے وہ کانٹے ہیں، جن کی جلن اور چوبھن اس قدر زیادہ ہے جہاں انسان خود بخود دور رہنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اس دنیا میں کوئی وقت کے ہاتھوں مجبور ہے، کوئی حالات کا ٹھکرایا ہوا ہے، کوئی بے بسی کے عالم میں ڈوبا ہوا ہے، کوئی شرارت کے خیمے آباد کیے ہوئے ہے، کوئی جنسی درندگی کے بھیڑیے کے روپ میں ہے۔ کوئی وراثت کی جائیداد ہڑپ کرنے کے چکر میں ہے، کوئی نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت میں مبتلا کر رہا ہے، کوئی شرارت کی چنگاریاں جلا رہا ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی منفی ہتھکنڈے کا شکار ہے۔ ہمارے ارد گرد برائی ایسے پھیل رہی ہے جیسے ایک چنگاری پورے جنگل کو راکھ بنا دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے دنیا سے امن، محبت اور خوشی اجنبی ہو گئے ہیں۔ یہ ہماری سرزمین سے ہجرت کر گئے ہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے گلے شکوے کر رہے ہیں۔ حالات کا رونا رو رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں۔ ہر کوئی دوسرے پر کیچڑ اچھال رہا ہے، ایسے لگتا ہے جیسے وہ خود دودھ سے دھلا ہوا ہے۔
ہماری دنیا میں ایسے سبق، کردار اور نفسیاتی حربے ہیں جہاں سیکھنے کو بہت کچھ مل جاتا ہے۔ اس سمجھی ہوئی دنیا میں محبت کی راہ میں ایسے خطرناک کانٹے بکھرے پڑے ہیں، جن پر اگر چلنے کی کوشش کی جائے تو پاؤں زخمی ہو جاتے ہیں۔ درد، جلن اور سوجن سر سے لے کر پاؤں تک اذیت پہنچاتی ہے۔ ایسا ماحول فروغ دینے میں کسی ایک انسان کا قصور نہیں بلکہ مجموعی صورت حال کا المیہ ہے۔
دنیا بھر میں جس تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ انسانیت کا شیرازہ بکھیر رہی ہیں۔ لاقانونیت اور حماقتوں کو جنم دے رہی ہیں۔ روز بروز عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔ رنجشوں کی گھٹاؤں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارا سماج جنگل کی تصویر بنتا جا رہا ہے، جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کا دشمن ہے۔ ہر کوئی گھات لگا کر بیٹھا ہے کہ کب موقع ملے اور اسے کھا جائے؟ مصنوعی ذہانت اور محبت کی پیداوار ایسے بڑھ رہی ہے جیسے راتوں رات کھیت میں کھاد ڈالنے سے فصل بڑی ہو جاتی ہے۔
اگرچہ زندگی مشکل ضرور ہے، لیکن اگر انسان چاہے تو ان مشکلات پر قابو پا سکتا ہے اور ان تخریب کار عناصر کا کھوج لگا سکتا ہے جنہوں نے ہمارے دل و دماغ کو سوچنے سمجھنے سے قاصر بنا دیا ہے۔ تو آئیں، دیر کس بات کی! مل جل کر ان جراثیم، تلخیوں، ناچاقیوں اور ناپاک عزائم پر قابو پانے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی بنائی جائے جو محبت کی راہ میں بکھرے کانٹوں کو اٹھا کر راستہ صاف بنا دے۔
