فضائے عالم میں حج کی مبارک ساعتوں اور لبیک اللّٰہم لبیک کی روح پرور صداؤں کے گونجتے ہی عالمِ اسلام کے آنگن میں عید الاضحیٰ کی پرنور صبح دستک دینے کو ہے۔ کل 10 ذوالحجہ کا مبارک سورج ایک بار پھر دلوں میں اس عظیم الشان اطاعت اور بے مثال ایثار کی یاد تازہ کرے گا جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے وفاداری اور تسلیم و رضا کی لازوال قربانی سے رکھی تھی۔ یہ دن محض ایک تہوار نہیں بلکہ اپنے اندر بندگی کی وہ معراج رکھتا ہے جو انسان کو مٹی کے دائرے سے نکال کر رفعتِ ایمان سے آشنا کرتی ہے۔
آج جب جاپان میں رہتے ہوئے یہاں کے پرسکون ماحول، نظم و ضبط سے بھرپور زندگی اور جدید عمارتوں کو دیکھتی ہوں تو شدت سے اپنے وطن کی وہ بے ترتیب سی رونقیں یاد آتی ہیں جہاں عید کا مطلب ہی اپنوں کا ساتھ ہوتا تھا۔ جب یادوں کی کھڑکی کھلتی ہے تو ذہن سیدھا چارسدہ کی ان گلیوں میں جا نکلتا ہے جہاں بچپن اور لڑکپن کی عیدیں گزری تھیں۔ چارسدہ میں عید الاضحیٰ کا سماں ہی الگ ہوتا تھا۔ عید سے کئی دن پہلے ہی گھر کے صحن میں بندھے مویشیوں کی آوازیں، بچوں کا دن رات ان کی دیکھ بھال کرنا، انہیں مہندی لگانا اور گلی کے دوسرے بچوں کے جانوروں سے موازنہ کرنا ایک الگ ہی جشن تھا۔
سب سے خوبصورت منظر عید کی صبح کا ہوتا تھا۔ جب مرد حضرات نمازِ عید کے لیے مسجد چلے جاتے اور گھر میں بابا اپنے ہاتھوں سے روایتی اور گاڑھی پشتو کھیر ‘شیر برنج‘ تیار کرتے تھے۔ بابا کے ہاتھ کی بنی اس گرما گرم شیر برنج کی خوشبو پورے گھر میں مہکتی تھی اور نماز سے واپسی پر سب کا اس میٹھے سے منہ میٹھا کرنا ایک لازمی روایت تھی۔ پھر قربانی کے وہ خاص واقعات یاد آتے ہیں جب قصائیوں کے نخرے عروج پر ہوتے تھے، کبھی کوئی قصائی وقت پر نہیں پہنچتا تھا تو کبھی چھریاں ٹوکے تیز کرانے کی آخری لمحے کی دوڑ دھوپ ہوتی تھی۔ جب قربانی ہوتی تو پورا خاندان گوشت کی کٹائی اور تقسیم میں مصروف ہو جاتا۔ گوشت کے حصے بناتے وقت سفید پوش رشتہ داروں اور ضرورت مند پڑوسیوں کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ شام کو صحن میں کوئلوں پر تکے کباب بنتے، دھواں اڑتا اور سب مل کر قہقہے لگاتے تھے۔ وہ عید الاضحیٰ کے سچے اور جیتے جاگتے رنگ تھے جن کی چمک آج بھی دل میں برقرار ہے۔
مگر پردیس کی عید بھی عجیب ہوتی ہے۔ یہاں جاپان میں زندگی اپنے معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے۔ یہاں صبح نمازِ عید کے لیے چند گھنٹوں کی رخصت تو مل جاتی ہے مگر وہ صبح سویرے بابا کا عید کے کپڑے پہن کر نماز کے لیے تیار ہونا، ان سے عید ملنا اور پھر ان کا بھائیوں کے ساتھ مسجد کے لیے روانہ ہونا ، وہ چارسدہ کے آبائی گھر کی گہما گہمی اور وہ اپنوں کے قہقہے یہاں میسر نہیں ہوتے۔ یہاں قربانی کا فریضہ تو آن لائن یا وطن میں رقم بھیج کر ادا کر دیا جاتا ہے مگر دل وہیں گلی کے اس موڑ پر دھڑک رہا ہوتا ہے جہاں سارا خاندان اکٹھا ہوتا ہے۔ ویڈیو کال پر گھر والوں کی خوشیاں دیکھ کر چہرے پر ایک مسکراہٹ تو آ جاتی ہے مگر جیسے ہی کال کٹتی ہے، کمرے کی خاموشی دل کو اداس کر دیتی ہے۔ پھر خاموشی سے انسان اپنے اپنے کاموں یا یونیورسٹی کی مصروفیات پر لوٹ جاتا ہے۔ یہی یہاں کا معمول ہے۔ مگر یہی ایثار اور اپنوں کی خاطر اپنوں سے دور رہنا بھی ایک پوشیدہ قربانی ہے جو ہر پردیسی ہنستے مسکراتے دیتا ہے۔
آئیے اس عید پر جہاں ہم سنتِ ابراہیمی کے فلسفے کے مطابق ایثار و قربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہاں اپنے آس پاس موجود سفید پوش لوگوں اور ان پردیسیوں کو بھی یاد رکھیں جو اپنوں سے دور گمنام گوشوں میں عید گزار رہے ہیں۔ اللّٰہ پاک سے دعا ہے کہ وہ وطن سے دور رہنے والے تمام پردیسیوں کی حفاظت فرمائے، ان کی مجبوریوں کو آسان کرے اور ان کے دلوں کو اپنوں کی قربت کا سکون عطا فرمائے۔ باری تعالیٰ ہماری قربانیوں، عبادتوں اور دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرما اور اگلی عید اپنوں کے بیچ منانے کی توفیق دے۔ اللّٰہ پاک اس مبارک دن کو پوری امتِ مسلمہ کے لیے امن و سلامتی کا پیغام بنا دے۔ جاپان کے اس خوبصورت افق سے آپ سب کو پیشگی عید الاضحیٰ بہت بہت مبارک ہو۔
علینہ خان
