0

آخری بس: پراسرار اور خوفناک اردو کہانی | ہماری ڈائجسٹ


آخری بس

 (خوفناک اردو کہانی)


آخری بس خوفناک اردو کہانی - ہماری ڈائجسٹ
آخری بس | خوفناک کہانی | ہماری ڈائجسٹ

جویریہ ارشد عظیمی

رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ کراچی کی سڑکوں پر اب ٹریفک بہت کم رہ گیا تھا، اور ہر طرف بس خاموشی طاری تھی۔ بارش نے ابھی ابھی دم توڑا ہی تھا، سڑکیں ابھی تک گیلیں تھیں، اور ہوا میں کچی مٹی اور گیلے پتوں کی خوشبو کے ساتھ ایک عجیب سی خنکی بھی شامل تھی۔

میں نے آفس سے نکلتے ہی سوچا تھا کہ ٹیکسی مل جائے گی، لیکن آج شاید قسمت ہی خراب تھی۔ گھنٹہ گزر گیا، کوئی گاڑی نہ گزری، اور اب میں اسی ویران بس اسٹاپ پر کھڑا تھا اور بس کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ جس پر بورڈ پر دھندلے حروف میں لکھا ہوا تھا: آخری بس اسٹاپ۔۔۔۔

پہلے تو میں نے اسے عام سا بورڈ سمجھا، لیکن جب دوبارہ دیکھا تو دل دھڑک اٹھا ۔۔ یہ روٹ تو میرے گھر جانے والا نہیں تھا، میں تو کبھی اس راستے آیا ہی نہیں تھا۔ موبائل کی بیٹری بھی ختم ہو چکی تھی، رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اور آگے پیچھے سنسنی پھیلائی ہوئی تھی۔ اچانک دور سے روشنی دکھائی دی، اور بس کی آہٹ سنائی دی۔ میں نے سکون کا سانس لیا ۔۔ شاید یہی آخری بس ہو، سوچ کر میں نے ہاتھ اٹھا لیا۔

بس آہستہ آہستہ قریب آئی۔ نمبر 666 تھا اس کا، اور پرانی دہائیوں کی بوسیدہ بس لگ رہی تھی۔ کھڑکیوں کا شیشہ دھندلا ہوا تھا، اندر کچھ صاف نظر نہیں آرہا تھا۔ جب وہ رکی تو دروازہ خود بخود کھل گیا۔ ڈرائیور کی سیٹ پر کوئی نظر نہیں آرہا تھا، اور اندر سے بھی کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔

میں نے ہچکچاتے ہوئے قدم اندر رکھا۔ سیٹیں پرانے کپڑے سے بنی ہوئی تھیں، اور پوری بس میں پرانی سڑی ہوئی چیزوں کی بو آرہی تھی۔

“بیٹھ جائیے، جگہ خالی ہے…”

ایک آواز گونجی۔ میں جیسے ہی پیچھے مڑا تو دیکھا کہ پہلی قطار میں ایک عورت سیاہ لباس میں بیٹھی ہوئی تھی، چہرے پر گھونگھٹ تھا، آواز میں بھی ایک عجیب سی بے حسی تھی۔ میں آگے والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ دروازہ بند ہوا، اور بس چل پڑی۔ سڑک اب بدل چکی تھی ۔۔۔ پہلے جیسی روشن، آباد سڑکیں نہیں تھیں، بلکہ درختوں سے گھری، تنگ اور اندھیری سڑک تھی، جس پر کسی گھر کی روشنی نہیں تھی۔

“یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟” میں نے پوچھا۔

عورت نے سر اٹھایا، اور میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں خالی تھیں، روشنی نہیں تھی۔ “یہ وہ راستہ ہے جہاں سے کوئی گھر واپس نہیں جاتا۔ تمہیں تو پتہ ہی ہوگا، یہ بس صرف انہیں اٹھاتی ہے جو دنیا سے جانے کو تیار ہوتے ہیں…”

میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں فوراً دروازے کی طرف بھاگا، “روکو! مجھے اتار دو! میں یہاں جانا نہیں چاہتا!” لیکن دروازہ بند تھا، کھولنے کی کوشش بے سود تھی۔ تب میں نے اندر دیکھا ۔۔ ساری سیٹوں پر ایسے ہی لوگ بیٹھے تھے، جن کے چہروں پر کوئی جذبہ نہیں تھا، آنکھیں کھلی تھیں مگر کچھ نہیں دیکھ رہے تھے۔ وہ سب مردے لگ رہے تھے۔

“تم بھی ان میں سے ایک ہو گے…” عورت پھر بولی، “کئی سال پہلے اس بس کا حادثہ ہوا تھا۔ ڈرائیور نے کنٹرول کھو دیا، اور پوری بس کھائی میں گر گئی۔ آج تک ہم یہاں پھنسے ہوئے ہیں، ہر رات یہی بس اس راستہ پر چلتی ہے، ہر رات نئے مسافروں کو ڈھونڈتی ہے…”

میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ اچانک بس کی رفتار تیز ہوئی، اور میں نے دیکھا کہ سامنے وہی کھائی ہے جس کا ذکر اس نے کیا تھا۔ دل منہ کو آ گیا، میں نے آنکھیں بند کر لیں، اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے اللہ کی پناہ مانگی۔

“بھائی! اٹھو! یہاں کیا سو رہے ہو؟” کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ میں چونک کر اٹھا ۔۔۔ میں اسی بس اسٹاپ کی بینچ پر سو رہا تھا، صبح کی روشنی پھیل چکی تھی، اور ایک چوکیدار مجھے دیکھ رہا تھا۔ “رات بھر یہاں کیا کر رہے ہو؟ یہ اسٹاپ تو برسوں سے بند ہے، کوئی بس نہیں آتی یہاں!”

میں نے سر اٹھا کر بورڈ کی طرف دیکھا۔ وہاں پر دھندلے حروف میں لکھا تھا: 1998 میں آخری حادثہ — اب یہ روٹ بند ہے۔

پسینے سے تر بتر میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ آج تک میں سوچتا ہوں — کیا وہ سب خواب تھا؟ یا واقعی کچھ ایسا ہوتا ہے رات کے اندھیرے میں، جب دنیا سو جاتی ہے، اور کچھ راستے صرف اندھیرے کے بعد ہی کھلتے ہیں؟

اور کبھی کبھی رات کو گھر واپس آتے ہوئے، میں دور سے نمبر 666 کی بس دیکھتا ہوں۔ اور سوچتا ہوں ۔۔ کیا تم بھی اس بس میں سوار ہو گے؟

#AakhriBus #UrduAfsana #KhaufnakKahani #HorrorUrduStory #JaveriaArshadAzeemi #HamariDigest #UrduDigest #SpookyUrduStory

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں