0

والدین کا کردار اور نئی نسل | سید ساجد علی شاہ بخاری- ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

والدین کا کردار اور نئی نسل

تحریر: سید ساجد علی شاہ بخاری – رحیم یار خان

کبھی ہمارے گھروں میں اذان کی آواز کے ساتھ دن کا آغاز ہوتا تھا بزرگوں کی دعاؤں سے زندگی میں برکت محسوس ہوتی تھا والدین کی نصیحتیں اولاد کے لیے مشعلِ راہ ہوا کرتی تھیں اور خاندان محبت احترام اور تربیت کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا- آج ترقی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بظاہر زندگی آسان ضرور ہوئی ہے مگر دلوں کا سکون گھروں کی رونق اور رشتوں کی مٹھاس کہیں کھو گئی ہے- روزانہ اخبارات کے صفحات ٹی وی چینلز کی سرخیاں اور سوشل میڈیا کی خبریں دل دہلا دینے والے واقعات سے بھری پڑی ہیں- کہیں بیٹا والدین پر ہاتھ اٹھا رہا ہے کہیں والدین اپنی ہی اولاد کے مستقبل سے غافل ہیں کہیں نوجوان منشیات تشدد اور بے راہ روی کا شکار ہیں تو کہیں معصوم بچے اخلاقی زوال کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں- سوال یہ ہے کہ آخر ہماری نئی نسل کو یہ راستہ کس نے دکھایا؟

بچے مٹی کی مانند ہوتے ہیں انہیں جس سانچے میں ڈھالا جائے وہ ویسے ہی بن جاتے ہیں- اگر گھر میں محبت دیانت احترام صبر اور خوفِ خدا کی تعلیم دی جائے تو یہی بچے معاشرے کے بہترین انسان بنتے ہیں لیکن اگر والدین اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں بچوں کو صرف مہنگے کپڑے موبائل فون انٹرنیٹ اور آسائشیں دے کر مطمئن ہو جائیں اور ان کی اخلاقی تربیت کو نظر انداز کر دیں تو پھر معاشرہ ایسے ہی تلخ نتائج بھگتتا ہے جنہیں دیکھ کر انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے-

آج المیہ یہ ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے انہیں اسکرینوں کے حوالے کر رہے ہیں- کھانے کی میز پر بھی گفتگو ختم ہو چکی ہے- ہر فرد اپنے موبائل کی دنیا میں گم ہے- والدین روزگار کی دوڑ میں مصروف ہیں اور بچے سوشل میڈیا کے ایسے سمندر میں اتر رہے ہیں جہاں اچھائی سے زیادہ برائی ان کا استقبال کرتی ہے- جب تربیت کی جگہ انٹرنیٹ لے لے استاد کی جگہ غیر ذمہ دار مواد اور والدین کی جگہ موبائل فون بچوں کی رہنمائی کرنے لگیں تو پھر کردار کی مضبوطی کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟

ہم آئے روز ایسے افسوسناک واقعات سنتے ہیں جن میں نوجوان معمولی بات پر قتل کر دیتے ہیں والدین کو اولڈ ہوم چھوڑ آتے ہیں منشیات میں اپنی زندگیاں برباد کر لیتے ہیں یا سوشل میڈیا کی جھوٹی چمک دمک کے پیچھے اپنی شناخت کھو دیتے ہیں- یہ صرف ان نوجوانوں کی ناکامی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی تربیت کی کمزوری کا نتیجہ ہے- معاشرے کا ہر بگاڑ کسی نہ کسی گھر سے جنم لیتا ہے اور ہر اصلاح بھی ایک گھر ہی سے شروع ہوتی ہے-

والدین کا اصل فرض صرف بچوں کو کھانا لباس اور تعلیم فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کے دلوں میں انسانیت دیانت برداشت حیا احترام اور خدا خوفی پیدا کرنا بھی ہے- بچے وہ نہیں سیکھتے جو والدین کہتے ہیں بلکہ وہ سیکھتے ہیں جو والدین کرتے ہیں- اگر گھر میں جھوٹ بولا جائے دوسروں کے حقوق پامال کیے جائیں بزرگوں کی بے ادبی ہو غیبت اور نفرت کا ماحول ہو تو بچے بھی یہی کچھ اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتے ہیں- لیکن اگر والدین خود نماز سچائی اخلاق محبت اور خدمتِ خلق کا عملی نمونہ بن جائیں تو بچوں کو الگ سے نصیحتوں کی ضرورت نہیں رہتی-

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی مصروفیات میں سے اپنے بچوں کے لیے وقت نکالیں- ان کے دوست بنیں ان کے مسائل سنیں ان کی غلطیوں پر صرف سزا نہ دیں بلکہ محبت سے اصلاح کریں- انہیں بتائیں کہ کامیابی صرف دولت کمانے کا نام نہیں بلکہ اچھا انسان بننے کا نام ہے- ان کے دلوں میں وطن دین انسانیت اور خاندان کی محبت پیدا کریں کیونکہ یہی وہ سرمایہ ہے جو انہیں زندگی بھر گمراہی سے بچا سکتا ہے-

جب بھی کسی معصوم بچے کے ساتھ ظلم کی خبر آتی ہے جب کسی نوجوان کے ہاتھوں اپنے ہی عزیز کا خون بہتا ہے جب کسی ماں باپ کی لاش بے یار و مددگار ملتی ہے یا کسی خاندان کی خوشیاں لمحوں میں اجڑ جاتی ہیں تو دل یہی سوال کرتا ہے کہ اگر ابتدائی تربیت مضبوط ہوتی اگر والدین نے صرف سہولتیں نہیں بلکہ اقدار بھی دی ہوتیں اگر گھروں میں محبت خوفِ خدا اور اخلاقیات کا چراغ روشن ہوتا تو کیا آج یہ اندھیرا اتنا گہرا ہوتا؟

آج ہمیں دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے گھروں کا جائزہ لینا ہوگا- نئی نسل کو کوسنے سے پہلے ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہم نے انہیں کیا دیا؟ کیا ہم نے انہیں وقت دیا؟ کیا ہم نے انہیں محبت دی؟ کیا ہم نے انہیں دین اخلاق اور انسانیت کی تعلیم دی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر معاشرے کے زخموں پر صرف آنسو بہانے سے کچھ نہیں بدلے گا-

آئیے عہد کریں کہ آج سے اپنے گھروں کو تربیت گاہ بنائیں گے بچوں کو کردار کی دولت دیں گے ان کی روحانی اخلاقی اور معاشرتی نشوونما پر توجہ دیں گے- کیونکہ ایک صالح والدین ایک صالح نسل کو جنم دیتے ہیں اور ایک صالح نسل ہی ایک مہذب محفوظ اور باوقار معاشرے کی بنیاد بنتی ہے-

خدا کرے ہمارے گھروں میں پھر سے دعاؤں کی خوشبو لوٹ آئے والدین اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اولاد احترام اور محبت کا راستہ اختیار کرے اور ہمارا معاشرہ نفرت تشدد اور بے راہ روی کے اندھیروں سے نکل کر امن اخوت اور انسانیت کی روشنی میں داخل ہو جائے- یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے یہی قوم کی بقا کا راستہ ہے اور یہی ہر درد مند دل کی پکار ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں