سفر صرف مقامات کو دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ روح کے نئے دریچے کھولنے اور اجنبی راستوں پر خود کو دریافت کرنے کا عمل ہے۔ جاپان—جسے دنیا ‘طلوعِ آفتاب کی سرزمین‘ کے نام سے جانتی ہے۔محض ایک ملک نہیں، بلکہ قدیم روایات اور حیرت انگیز جدت کا ایک ایسا تانا بانا ہے جو دیکھنے والے کو سحر زدہ کر دیتا ہے۔
میری نئی کتاب “طلوعِ آفتاب کی سرزمین: اکیس شہر، اکیس کہانیاں“ ایک ایسا ہی سفرنامہ ہے جو آپ کو میرے ساتھ جاپان کے ۲۱ مختلف شہروں کی گلیوں، صدیوں پرانے مندروں، جدید ترین شاہراہوں اور وہاں کے پُرخلوص لوگوں کے سچے قصوں کے سفر پر لے جائے گا۔
ٹوکیو کی تیز رفتار زندگی اور چکا چوند سے لے کر، کیوٹو کے پُرسکون اور تاریخی معابد تک؛ نارا کے خوبصورت ہرنوں سے لے کر، ہیروشیما اور ناگاساکی کے خاموش مگر بولتے ہوئے مزارات تک؛ ہر شہر کی اپنی ایک الگ خوشبو، ایک الگ مزاج اور ایک انوکھی کہانی ہے۔ اس سفرنامے میں آپ کو صرف جاپان کے خوبصورت مناظر ہی نظر نہیں آئیں گے، بلکہ وہاں کی تہذیب، لوگوں کی ڈسپلن پسندی، اور فطرت سے ان کی محبت کے وہ پہلو بھی ملیں گے جو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے اور محسوس کیے۔
یہ کتاب صرف ایک سیاح کی ڈائری نہیں، بلکہ اکیس مختلف شہروں کے پس منظر میں دھڑکتی اکیس جذباتی اور سچی کہانیاں ہیں، جو آپ کو جاپانی ثقافت کے سحر میں جکڑ لیں گی۔
اگر آپ بھی میرے ساتھ اس سحر انگیز سفر پر نکلنا چاہتے ہیں اور جاپان کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا چاہتے ہیں، تو ویب سائٹ پر موجود ان کہانیوں کو ضرور پڑھیے اور اپنے تاثرات سے نوازنا نہ بھولیں۔
سفر شروع ہو چکا ہے… کیا آپ تیار ہیں؟
“طلوعِ آفتاب کی سرزمین: اکیس شہر، اکیس کہانیاں“
قسط اول: جب دیسی مکھن نے جاپانی ڈسپلن کا حصار توڑا!
علینہ خان
کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جن کا ارادہ آپ خود کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کا انتخاب قسمت آپ کے لیے کرتی ہے۔ انسان سوچتا کچھ ہے اور زندگی اسے کسی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں پہنچ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ میرٹ، محنت اور دعاؤں کے تانے بانے جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو پھر چارسدہ کی مٹی سے اڑنے والی چنگاری سڈنی کی ماڈرن یونیورسٹیز سے ہوتی ہوئی جاپان کے افق پر جا چمکتی ہے۔ یہ کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے؛ جہاں زندگی نے ایک دم سے ایسا انوکھا اور غیر متوقع رخ اختیار کیا کہ خود میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میں کبھی طلوعِ آفتاب کی سرزمین کا رخ کروں گی۔
چارسدہ کے روایتی ماحول سے نکل کر سڈنی کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (University of New South Wales – UNSW) تک پہنچنا ہی کیا کم تھا کہ زندگی نے ایک اور انوکھا اور غیر متوقع رخ اختیار کر لیا۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میں کبھی طلوعِ آفتاب کی سرزمین کا رخ کروں گی؛ کیونکہ میرا سارا دھیان آسٹریلیا کی جدید درسگاہ میں سائبر سیکیورٹی کی باریکیاں سیکھنے پر تھا۔ مگر ایک شام جب یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں سہیلیوں کا پورا ٹولہ اکٹھا ہوا، تو وہاں جاپان جانے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپ اپلائی کرنے کا تذکرہ چھڑ گیا۔ ہر کوئی وہاں جانے کے لیے بے تاب نظر آ رہا تھا۔ سہیلیوں کے اسی جوش و خروش کو دیکھ کر میرے دل میں بھی ایک انوکھا خیال چمکا کہ کیوں نہ میں بھی قسمت آزمائی کروں؟ بس، وہیں سے مجھے یہ آئیڈیا ملا۔
میں نے یونیورسٹی ریکمنڈیشن کے تحت سائبر سیکیورٹی کے ایک جدید موضوع پر ریسرچ پروپوزل تیار کیا، جاپانی پروفیسر کو ڈھونڈنا بھی کسی مہم جوئی سے کم نہیں تھا کیونکہ جاپان کی یونیورسٹیز کی ویب سائٹس بھول بھلیاں جیسی ہوتی ہیں جہاں انگریزی کا سراغ مشکل سے ملتا ہے ۔ سہیلیوں کے ٹولے سے آئیڈیا ملتے ہی میں نے انٹرنیٹ کا رخ کیا اور کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن سیکیورٹی کے شعبوں کو کھنگالنا شروع کیا۔ گھنٹوں کی سرگردانی کے بعد بالآخر مجھے کیو یونیورسٹی
(Keio University) کے ایک نامور پروفیسر کی پروفائل ملی جو بالکل اسی موضوع پر کام کر رہے تھے جس پر میں ریسرچ کرنا چاہتی تھی۔
اب مرحلہ تھا انہیں راضی کرنے کا یعنی دیسی زبان میں کہا جائے تو “مکھن پانی“ لگانے کا!
میں نے ایک انتہائی شائستہ اور باوقار ای میل تیار کی جس میں ان کی تعریفوں کے ایسے پل باندھے کہ اگر وہ خود بھی پڑھتے تو شرما جاتے میں نے لکھا:
”جنابِ عالی! دنیا بھر کے ہیکرز اور سائبر مجرم راتوں کو سکون کی نیند سوتے ہوں گے، لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ کی کمپیوٹر اسکرین کی لائٹ اور آپ کا تیز دماغ ان کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ میں آسٹریلیا کی اس جدید یونیورسٹی میں بیٹھ کر جب بھی سائبر سیکیورٹی کے نئے افق دیکھتی ہوں، تو مجھے ہر ریسرچ پیپر کے پیچھے آپ کا نام چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ جیسے ہمارے ہاں چارسدہ کے چپلی کباب اپنی مثال آپ ہیں، بالکل ویسے ہی اجدادِ ٹیکنالوجی کی اس دنیا میں آپ کی لیب میرے علمی وجود کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر آپ نے اپنے علم کے وسیع دسترخوان سے مجھے ریسرچ اسٹوڈنٹ کے طور پر چند نوالے چکھنے کی اجازت نہ دی، تو یہ سائبر دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا نقصان ہوگا!”
اگرچہ میں نے ای میل میں دیسی مکھن کی ایسی زبردست پرتیں جمائی تھیں کہ کسی بھی انسان کا دل پگھل جائے، مگر دن گزرتے گئے اور جاپان کی طرف سے مکمل خاموشی رہی۔ کوئی جواب موصول نہ ہوا تو دل پر ایک اداسی سی چھا گئی اور میں نے سوچ لیا کہ شاید جاپانی پروفیسر کو دیسی مکھن ہضم نہیں ہوا!
اسی مایوسی کے دوران گھر سے بھائی کی شادی کا بلاوا آنے لگا۔ بابا نے فون پر صاف فرما دیا:
“علینہ! اب پڑھائی اور آسٹریلیا کو گولی مارو اور فوراً گھر پہنچو، شادی کی تیاریاں تمہارے بغیر ادھوری ہیں۔“
بس پھر کیا تھا، جیسے ہی فائنل ایگزامز ختم ہوئے، میں نے اور بھائی نے کتابیں بند کیں اور سب کچھ بھول بھال کر پاکستان کے لیے اڑان بھر لی۔
پاکستان پہنچ کر میں مہندی، ابٹن اور شادی کے ہنگاموں کے گھمسان کے رن میں پوری طرح مصروف تھی مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک شام جب گھر میں مہمانوں کا رش تھا اور ہر طرف ہلا گلا ہو رہا تھا میں نے یونہی لاپرواہی سے اپنا موبائل اٹھایا، اسکرین پر نظر پڑتے ہی میرے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ جاپان سے پروفیسر صاحب کی آفیشل ای میل چمک رہی تھی!
انہوں نے لکھا تھا کہ وہ کچھ دن مصروف تھے لیکن میری اس انوکھی اور جاندار ای میل نے ان کے جاپانی ڈسپلن کا سخت حصار توڑ دیا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ انہیں برسوں بعد کسی ایسے طالب علم کی ای میل ملی ہے جس کا ریسرچ پروپوزل جاندار اور حسِ مزاح لاجواب ہے۔ انہوں نے اسی وقت مجھے اپنی لیب کے لیے قبول کرتے ہوئے وہ ‘قبولیتی خط‘ (Acceptance Letter) بھی نتھی کر دیا تھا جس نے میرے لیے جاپان کے دروازے کھول دیے اور میری قسمت کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا!
مگر کہانی میں اصل ٹوئسٹ تو ابھی باقی تھا کیونکہ اسی ای میل کے نیچے لکھا تھا کہ اگلے آخری مرحلے یعنی “اسکریننگ انٹرویو“ اور “دستاویزات کی حتمی جانچ پڑتال“ کے لیے مجھے فوری طور پر یعنی چند ہی دنوں کے اندر دوبارہ آسٹریلیا پہنچنا ہوگا جہاں جاپانی سفارتی نمائندوں کے سامنے فائنل انٹرویو ہونا تھا!
پروفیسر صاحب کا وہ قبولیتی خط کیا آیا یوں سمجھیے جیسے شادی کے گھر میں خوشیوں کا ایک ایسا سیلاب آ گیا جس نے سب کو اپنے بہاؤ میں لے لیا۔ جب کزنوں کے غل غپاڑے اور ڈھولک کی تھاپ کے بیچ اس بریکنگ نیوز کا چرچا ہوا تو ایک پل کو تو پورے گھر میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے وقت تھم گیا ہو۔
بابا جو گھر کے ایک کونے میں صوفے پر بیٹھے مہمان کو چائے پیش کر رہے تھے جیسے ہی یہ خبر ان کے کانوں تک پہنچی انہوں نے آہستہ سے چائے کا کپ میز پر رکھا۔ میں نے ان کے ہاتھوں کو کپکپاتے دیکھا، وہ پروقار قدموں سے چلتے ہوئے میرے پاس آئے۔ ان کی آنکھوں میں فخر اور محبت کے آنسو تیر رہے تھے۔ جسے انہوں نے دنیا سے تو چھپانا چاہا مگر اس کوشش میں ایک بیٹی کے سامنے ناکام رہے۔ انہوں نے اپنا مضبوط اور شفقتی ہاتھ میرے سر پر رکھا اور مجھے گلے سے لگا لیا۔ بابا کا وہ لمس، ان کا وہ حصار، ایسا تھا کہ میرے ضبط کے تمام بندھن ایک ہی پل میں ٹوٹ گئے۔ میں نے اپنا چہرہ بابا کے چوڑے شانے پر چھپا دیا اور پھر آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گھر میں بکھرا شور ایک دم جیسے پسِ منظر میں چلا گیا اور وہاں صرف باپ بیٹی کے جذبات کی بے آواز گفتگو رہ گئی۔
بابا نے اپنے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے میرے گالوں پر بہتے آنسوؤں کو پونچھا اور پھر وہ بولے:
“علینہ لورے! زما د سترگو تور۔۔۔
(علینہ بیٹی! میری آنکھوں کا تارا۔۔۔) تم نے تو اپنے اس بوڑھے باپ کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ جب تم اور تمہارا بھائی پڑھنے کے لیے آسٹریلیا جا رہے تھے تو میرا دل بہت ڈرا تھا لیکن آج۔۔۔ آج تم نے ثابت کر دیا کہ میری بیٹی جہاں بھی جائے اپنے بابا کا مان کبھی گرنے نہیں دے گی۔“
میں نے بابا کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہا:
”بابا! یہ سب آپ کی دعاؤں کا صدقہ ہے ورنہ مجھ میں اتنی ہمت کہاں تھی“
بابا نے ایک گہرا سانس لیا ان کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپک کر میرے ہاتھ پر گرا جو کسی انمول موتی سے زیادہ وزنی تھا پھر کہنے لگے:
”جاؤ زما د زڑہ سرے (میرے دل کے ٹکڑے)! جاپان جاؤ اور علم کے اس سفر پر، تہمارا بابا اور اسکے دل سی نکلی دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔“
وہ منظر اتنا رقت آمیز تھا کہ میری سہیلیاں اور سب بھابھیاں بھی اپنے آنسو نہ روک سکیں اور پورے گھر پر ایک گہری جذباتی خاموشی طاری ہو گئی۔
ابھی محفل اس حد درجہ جذباتی ماحول کے سحر میں ہی گرفتار تھی کہ اچانک زوردار گل غپاڑہ مچاتا میرے چھ بھائیوں کا پورا کا پورا ٹولا حاضر ہو گیا!
ان کے چہروں پر عید جیسی خوشی اور آنکھوں میں شرارت چمک رہی تھی۔ ان کی اس اچانک اور پرجوش انٹری نے اس رونے دھونے والے ماحول کو ایک ہی سیکنڈ میں بدل کر رکھ دیا!
سب سے بڑے لالہ نے آگے بڑھ کر بلند آواز میں کہا:
“ارے بھئی! یہاں کیا رونے دھونے کا مقابلہ چل رہا ہے؟ ہماری بہن جاپان جا رہی ہے کوئی سسرال تھوڑی جا رہی ہے جو سب نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے!”
دوسرے لالہ نے فوراً بات لپکتے ہوئے دولہا بنے بھائی کو کہنی ماری اور بولا :
“ایسے او زومہ مڑہ! لژ غاڑے تہ شہ، اوس دا ٹول پروٹوکول د دے جاپانی اسکالرشپ ہولڈر دے۔“
(ابے او دولہا میاں! ذرا سائیڈ پر ہو جاؤ، اب یہ سارا پروٹوکول اس جاپانی اسکالرشپ ہولڈر کا ہے۔)
تیسرے لالہ نے آگے بڑھ کر اپنی جیب سے نوٹوں کی گڈی نکالی اور میرے سر پر سے وار کر صدقہ دیتے ہوئے والہانہ انداز میں کہا:
“زما خوارہ! دا صدقہ لژ کڑہ چے د حاسدانو نظر نہ اولگی۔ خدا بائہ مکے چے تہ د خانانو سر د نیا پہ مخ کز کے!”
(میری بہن! یہ صدقہ اتارو تاکہ حاسدوں کی نظر نہ لگے۔ خدا نہ کرے کہ تو خانوں کا سر دنیا کے سامنے جھکنے دے!)
باقی سب بھائیوں نے جو اب تک خاموشی سے یہ سب دیکھ رہے تھے آگے بڑھ کر باری باری مجھے بہت محبت اور احترام سے گلے لگا لیا۔ ان کی آنکھوں میں میری جدائی کا ملال بھی تھا اور فخر بھی۔ سب نے مبارکباد دی۔
“مبارک شہ خورے! زما پہ زڑہ ڈیر فخر دے پہ تا
(مبارک ہو بہن! میرے دل کو تم پر بہت فخر ہے۔)
اور بابا بھی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کھلکھلا کر ہنس دیے۔
بھائیوں کی اس محبت، عزت اور فخر سے بھری گفتگو نے گھر کا پورا نقشہ ہی بدل دیا۔
لیکن جناب! جہاں اتنی بڑی کامیابی کا چرچا ہو وہاں کچھ روایتی حاسدین اور دور کے رشتہ داروں کے چہروں کا رنگ نہ بدلے یہ تو ممکن ہی نہیں!
کچھ لوگوں کے چہرے تو ایسے اترے جیسے چائے میں نمک ڈل گیا ہو۔ وہ جو اب تک میری شادی کے فہم و فراست پر مبنی مشورے دے رہی تھیں ایک دم پینترا بدل کر سرگوشیاں کرنے لگیں “لڑکی کو اکیلے جاپان بھیجنے کی کیا ضرورت ہے؟ سڈنی کم تھا جو اب کارٹونوں کے دیس جا رہی ہے؟“
ایک نے کہا، “ارے بی بی! ذرا اس کی عمر تو دیکھو، پٹھانوں میں اس عمر تک لڑکیوں کے دو دو بچے اسکول جا رہے ہوتے ہیں اور یہ محترمہ ابھی تک کتابیں بغل میں دبائے پھر رہی ہیں۔ لڑکی کی ایک بار شادی کی عمر نکل جائے نا، تو پھر اچھے رشتے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے!”
اور پھر کسی نے کہا: “کل کو جب کوئی رشتہ نہیں آئے گا اور عمر پینتیس سال کو پہنچ جائے گی، تب ان سارے بھائیوں کو سمجھ آئے گی کہ لڑکیوں کے اصل سیکیورٹی ان کا اپنا گھر ہوتا ہے، یہ سائبر شائبر سیکیورٹی نہیں!”
جہالت، بے حسی اور غلط فیصلوں کی نذر ہوتی ایک بے قصور زندگی… کیا ساس کی ضدو جہالت اور شوہر کی غفلت رضیہ کی جان لے لے گی؟ پڑھیے علینہ خان کا تحریر کردہ دل کو چھو لینے والا افسانہ “بے مول”۔
ان کے چہروں پر پھیلی وہ باریک سی جلن اور زبردستی کی مسکراہٹ دیکھ کر مجھے اندر ہی اندر وہ دیسی سکون ملا جو چارسدہ کے کباب کھا کر بھی نہیں ملتا۔
سچ کہتے ہیں کہ آپ کی کامیابی جہاں اپنوں کا سر فخر سے بلند کرتی ہے وہاں جلنے والوں کے دلوں پر وہ مرچیں لگاتی ہے کہ ان کا دھواں ٹوکیو تک صاف دیکھا جا سکتا تھا!
خیر ان کی اس آہ و بکا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے میں نے جلنے والوں کو مزید جلنے کے لیے وہیں چھوڑا۔ بابا اور بھائیوں کی دعاؤں اور سہیلیوں کی محبتوں کو سمیٹ کر دوبارہ سڈنی کے لیے رختِ سفر باندھا۔
سڈنی پہنچتے ہی قونصلیٹ جنرل آف جاپان کے ایک پروقار ہال میں میرا سامنا تین سے پانچ ماہرین کے ایک کڑے پینل سے ہوا، جس میں جاپانی سفارتی حکام اور سائبر سیکیورٹی کے سینئر پروفیسرز شامل تھے۔ انٹرویو مکمل طور پر انگریزی میں تھا، جہاں انہوں نے میرے پروپوزل پر اتنے گہرے اور تکنیکی سوالات کیے کہ ایک بار تو میرے پسینے چھوٹ گئے۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ پینل کو میرا آئیڈیا پسند آ گیا اور بالآخر کامیابی کا پروانہ میرے ہاتھ میں تھا۔
جب اس اسکالرشپ کے مالی فوائد سامنے آئے، تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ یہ جاپانی حکومت کی سب سے بڑی “میکس اسکالرشپ“ تھی، جو نہ صرف میری کیو یونیورسٹی (Keio University) کی سو فیصد ٹیوشن فیس معاف کر رہی تھی، بلکہ مجھے ہر مہینے ایک لاکھ پینتالیس ہزار جاپانی ین کا خطیر وظیفہ اور آسٹریلیا سے جاپان کا مفت ہوائی ٹکٹ بھی دے رہی تھی۔ یوں سمجھیے کہ پڑھائی کی پڑھائی، گھومنے کا گھومنا اور وہ بھی شاہی مہمان کی طرح!
جہاز میں بیٹھتے ہی اس دس گھنٹے کے فضائی سفر کا آغاز ہوا جسے اگر میں ‘خلائی سفر‘ کہوں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ نیچے صرف نیلگوں سمندر تھا اور اوپر میرا اڑتا ہوا طیارہ!
جہاز کے اڑتے ہی میرے برابر والی سیٹ پر بیٹھے ایک گورے رنگ کے بھلے چنگے آسٹریلوی ادھیڑ عمر صاحب نے مجھے دیکھ کر ایسے شائستہ مسکراہٹ اچھالی جیسے ہم برسوں پرانے شناسا ہوں۔ بس پھر کیا تھا ایک مسافر کی رگِ ظرافت اور دیسی گپ شپ کا جادو ایسا چلا کہ ہماری گفتگو کا جو سلسلہ شروع ہوا تو اس دس گھنٹے کے طویل سفر کا پتا ہی نہیں چلا۔ ان صاحب کا نام جان تھا اور وہ جاپان صرف وہاں کے روایتی کھانے ‘رامین‘ کے عشق میں جا رہے تھے۔ میں نے بھی موقع غنیمت جانا اور انہیں بتایا کہ جناب اگر آپ نے چارسدہ کے چپلی کباب نہیں کھائے تو آپ نے زندگی میں کچھ نہیں کھایا!
ہماری یہ پرواز آسٹریلیا کی قومی ایئر لائن ‘قنطاس‘ (Qantas) کی تھی جو سڈنی کے کنگس فورڈ سمتھ ایئرپورٹ سے رات کے ٹھیک آٹھ بجے رن وے پر دوڑتے ہوئے فضا میں بلند ہوئی تھی۔ یہ ایک ڈائریکٹ فلائٹ تھی جس نے سڈنی سے ٹوکیو کے ہانیڈا ایئرپورٹ (Haneda Airport) تک تقریباً 7 ہزار 830 کلومیٹر کا فاصلہ نو گھنٹے اور پچاس منٹ میں طے کرنا تھا۔ سڈنی کی روشنیاں جیسے ہی پیچھے چھٹیں جہاز نے ساڑھے سینتیس ہزار فٹ کی بلندی پر اپنے پر جما لیے۔ اور کھڑکی سے باہر گھپ اندھیرے کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
جان صاحب جاپانی کلچر کی باریکیوں سے تو واقف تھے مگر چارسدہ کے چپلی کباب کا سن کر ان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ میں نے سڈنی کے اس دس گھنٹے کے سفر کو مزید پرلطف بنانے کے لیے اپنی لفاظی کے وہ جوہر دکھائے کہ جان صاحب رامین کا غم بھول کر پٹھانوں کے روایتی کھانوں کے سحر میں مبتلا ہو گئے۔ سفر کے دوران جب ایئر ہوسٹس نے رات کے ساڑھے گیارہ بجے ڈنر سرو کیا تو جان صاحب نے مینو کارڈ دیکھتے ہوئے ہنس کر کہا “علینہ! کاش اس مینو میں تمہارے چارسدہ کے کباب بھی شامل ہوتے۔“
سفر اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جاری تھا کہ رات کے پچھلے پہر ساڑھے تین بجے جہاز میں ایک ایسا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جس نے چند لمحوں کے لیے پورے کیبن کے مسافروں کو چونکا کر رکھ دیا۔ جب جہاز خطِ استوا (Equator) کو پار کر کے جاپانی سمندر کی حدود کی طرف بڑھ رہا تھا تو اچانک پورے جہاز میں گھپ اندھیرے کے بیچ ایک تیز سائرن نما آواز گونجی اور پائلٹ نے ہنگامی اعلان کیا کہ تمام مسافر فوراً اپنی سیٹ بیلٹ مضبوطی سے باندھ لیں کیونکہ ہم ایک شدید موسمیاتی ٹربولنس (ہوائی دباؤ کے جھٹکوں) کے زون میں داخل ہو رہے ہیں۔ ابھی پائلٹ کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ قنطاس کے اس بھاری بھرکم طیارے نے فضا میں ایسی خوفناک قلابازیاں کھانا شروع کیں جیسے وہ آسمان پر نہیں بلکہ کسی دشوار گزار پہاڑی راستے پر چل رہا ہو!
چائے کے کپ الٹ گئے اور اوپر کے کیبن سے مسافروں کا چھوٹا موٹا سامان نیچے گرنے لگا۔ میرے برابر بیٹھے جان صاحب کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں اور انہوں نے خوف کے مارے کھڑکی کا شیشہ بند کرتے ہوئے ہینڈ ریسٹ کو اتنی زور سے جکڑا کہ ان کے ہاتھ کے پور سفید پڑ گئے۔ انہوں نے کانپتی آواز میں مجھ سے پوچھا:
“علینہ! ہمارا جہاز کریش تو نہیں ہو جائے گا نا؟“
سڈنی کی پروازوں کا تجربہ رکھنے کی وجہ سے میرے اعصاب تو قابو میں تھے مگر ماحول واقعی تھوڑا گھمبیر تھا۔ میں نے جان صاحب کا دھیان بٹانے کے لیے اسی لرزتے ہوئے جہاز میں ہنس کر کہا :
“جان صاحب! ابھی تو آپ نے جاپان کے رامین اور چارسدہ کے کباب کھانے ہیں، اتنی جلدی ہمت ہار گئے؟
مگر سچ تو یہ ہے کہ اس وقت خود میرا دل بھی سینے میں دھک دھک کر رہا تھا۔ مگر میں نے اپنے چہرے پر خوف کا ایک سایہ بھی آنے نہ دیا اور دل ہی دل میں جو بھی دعائیں یاد تھیں وہ سب پڑھ ڈالی۔ آیت الکرسی سے لے کر سفر کی دعاؤں تک ہر آیت اور ہر کلمہ میری زبان پر جاری تھا اور میں دل کی گہرائی سے خدا سے خیر کی التجا کر رہی تھی۔
میں نے جان صاحب کا دھیان بٹانے کے لیے اسی لرزتے ہوئے جہاز میں اپنے خوف کو چھپاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا اور مضبوط آواز میں کہا:
“جان صاحب! پائلٹ پر بھروسہ رکھیے وہ ایک طویل تجربہ کار عملہ ہے اور اس سے کہیں زیادہ اس خدا پر یقین رکھیے۔ جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے۔ زندگی کا ہر سفر اپنے ساتھ آزمائش لے کر آتا ہے مگر یقین رکھیے کہ طوفان چاہے فضاؤں کا ہو یا زندگی کا اس کا کام صرف راستہ بدلنا ہوتا ہے ہمیں منزل تک پہنچنے سے روکنا نہیں۔ حوصلہ رکھیے یہ سب جلدی ختم ہو جائے گا۔“
میری اس ظاہری پرسکون گفتگو اور اندرونی دعاؤں کا یہ اثر ہوا کہ جان صاحب کی آدھی گھبراہٹ غائب ہو گئی اور وہ اس خوف کے ماحول میں بھی تھوڑا پرسکون ہو گئے۔ تقریباً پندرہ منٹ کے اس خوفناک مگر یادگار مہم جوئی کے بعد جہاز دوبارہ اپنے اصل توازن پر واپس آ گیا۔ دل نے اللہ کا کروڑوں بار شکر ادا کیا اور کیبن میں ایک بار پھر سکون چھا گیا۔
اس واقعے کے بعد جب نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہو چکی تھی۔ کھڑکی سے باہر کا منظر آہستہ آہستہ بدلنے لگا۔ نیچے بادلوں کی سفید روئی کے گالے تیر رہے تھے اور افق پر نارنجی اور سنہری شعاعیں بکھر رہی تھیں۔ صبح کا وہ منظر اس قدر سحر انگیز تھا کہ الفاظ اس کی خوبصورتی کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ دور افق سے ابھرتے ہوئے سورج کی پہلی کرن نے بادلوں کے اس سفید سمندر کو ایک جادوئی چادر میں بدل دیا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے قدرت نے کائنات کے کینوس پر سرخ اور سنہری رنگ بکھیر دیے ہوں۔ صبح کے ٹھیک ساڑھے پانچ بجے جب جاپانی وقت کے مطابق سورج پوری طرح طلوع ہو چکا تھا تو ایئر ہوسٹس نے ہمیں گرم کافی اور ناشتہ پیش کیا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد پائلٹ کے مائیک پر جاپانی لہجے کی انگریزی گونجی کہ: “ہم ٹوکیو کے فضائی حدود میں داخل ہو چکے ہیں اور باہر کا درجہ حرارت پندرہ ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔“
میں نے اشتیاق سے کھڑکی کے شیشے سے پیشانی ٹکائی تو آسمان سے ٹوکیو کا نظارہ کسی طلسماتی بستی جیسا دکھائی دے رہا تھا۔ بادلوں کی باریک دھند کے پار دنیا کا یہ سب سے بڑا شہر زمین پر پھیلا ہوا ایک عظیم الشان جدید ترین نیٹ ورک معلوم ہو رہا تھا۔ جہاں فلک بوس عمارتیں دھوپ کی پہلی کرن پڑتے ہی شیشے کی طرح چمک رہی تھیں۔ دور تک پھیلی ہوئی سڑکیں اور اوور پاسز کسی کمپیوٹر کی چلی ہوئی سمارٹ چِپ کے راستوں کی مانند ایک دوسرے میں گنتھے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ سمندر کے نیلے پانی کے کنارے بنے ہوئے بڑے بڑے ماڈرن پورٹس اور ٹوکیو بے کا وہ نظارہ اتنا سحر انگیز تھا کہ انسان دنگ رہ جائے۔
جہاز جیسے ہی ہانیڈا ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے لیے نیچے آیا تو ٹوکیو بے کا وہ وسیع نیلگوں پانی اور اس کے کناروں پر لنگر انداز دیو قامت بحری جہاز بالکل صاف اور واضح نظر آنے لگے۔ رن وے بالکل پانی کے ساتھ ہی ختم ہو رہا تھا اور ایک لمحے کو ایسا لگا جیسے طیارہ سیدھا سمندر کے سینے پر اترنے والا ہے مگر بالکل آخری سیکنڈ میں نیچے ہانیڈا کا رن وے نمودار ہوا۔ دور مطلع پر دھندلی سی نظر آتی ماؤنٹ فیوجی کی چوٹی اس پورے منظر کو ایک شاہکار بنا رہی تھی۔ آسمان سے ٹوکیو کی یہ ترتیب، یہ توازن اور یہ جاہ و جلال دیکھ کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور کائنات کے اس دلفریب حسن اور صبحِ نو کی اس سحر انگیزی پر مجھے حکیم الامت علامہ اقبال کا وہ خوبصورت شعر یاد آ گیا جو انہوں نے بیداریِ سحر اور قدرت کے مناظر پر کہے تھے:
کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!
طیارے کے لینڈنگ گیئر کھلنے کی بھاری آواز آئی تو میرے دل سے بے اختیار اللہ رب العزت کا شکر ادا ہوا جس نے فضا کے اس طویل اور سنسنی خیز سفر کے بعد اتنی خوبصورت اور محفوظ منزل دکھائی تھی اور چارسدہ کی مٹی سے اٹھی ایک پشتون لڑکی کو آج دنیا کے اس سب سے ترقی یافتہ اور جدید ترین ملک کی دہلیز پر لا کھڑا کیا تھا۔ یہ سب اسی پاک ذات کا کرم اور میرے بابا کی دعاؤں کا ہی صدقہ تھا۔
دس گھنٹے کا یہ طویل فضائی فاصلہ جس میں ہم آسٹریلیا کے ساحلوں سے اڑ کر بحرِ اوقیانوس (Pacific Ocean) کے کھلے پانیوں، پاپوا نیو گنی (Papua New Guinea) اور (Micronesia) مائیکرونیشیا کے جزائر کے اوپر سے گزرتے ہوئے جاپان پہنچے تھے، رات کے اس خوفناک واقعے اور ہماری دیسی گپ شپ کی بدولت چند منٹوں کا کھیل لگا اور صبح کے ٹھیک پونے سات بجے قنطاس کے اس عظیم الجثہ طیارے نے ہانیڈا ایئرپورٹ کے رن وے پر نہایت نرمی سے اپنے قدم جما دیے۔
جہاز کے لینڈ ہوتے ہی جان صاحب نے ایک گہرا اور پرسکون سانس لیا مسکرا کر مجھے دیکھا اور کہا: “علینہ! ٹوکیو کے رامین تو سحر انگیز ہوں گے ہی، مگر تمہارے ساتھ یہ نشست اور چارسدہ کے کباب مجھے ہمیشہ یاد رہیں گے اور زندگی رہی تو میں ایک بار چارسدہ آ کر ضرور کھاوں گا۔“
میں نے مسکرا کر اپنا ہینڈ بیگ کندھے پر ٹکایا اور جاپانی امیگریشن کے چمکتے ہوئے کاؤنٹرز کی طرف قدم بڑھا دیے۔
جہاز سے باہر نکلتے ہی جو پہلا جھٹکا لگا وہ وہاں کا موسم اور اس سے بھی بڑھ کر وہاں کا سحر انگیز ڈسپلن تھا۔ ہانیڈا ایئرپورٹ کیا شاہکار ہے جناب!
ایک ایسی مائیکروسکوپک دنیا ہے جہاں صفائی ستھرائی کا یہ عالم ہے کہ اگر آپ اپنا چہرہ فرش پر دیکھنا چاہیں تو آئینے کی ضرورت نہ پڑے۔ وہاں کا ماحول اس قدر خاموش اور پرسکون تھا کہ مجھے لگا شاید میں کسی ایئرپورٹ پر نہیں بلکہ کسی بہت بڑی لائبریری یا سائنسی لیبارٹری میں آ گئی ہوں۔ ہر چیز اپنی جگہ پر اس طرح ترتیب سے رکھی تھی جیسے جاپانیوں نے سلیقے کا کوئی عالمی ریکارڈ قائم کرنا ہو۔
مگر حیرت کا اصل پہاڑ تو تب ٹوٹا جب میں نے جاپانی عملے کو دیکھا! خدا کی پناہ!
اتنی عاجزی اور اتنا احترام کہ بندہ خود کو دنیا کا سب سے معتبر انسان سمجھنے لگے۔
میں ابھی اسی حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہی تھی کہ امیگریشن لائن میں میرے ساتھ ایک نہایت مضحکہ خیز واقعہ پیش آیا۔
ہوا یوں کہ جاپانی اپنی حد سے بڑھی ہوئی تہذیب اور مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں۔ لائن میں کھڑے مسافروں کی رہنمائی کے لیے ایک جاپانی امیگریشن آفیسر تعینات تھے۔ جو ہر مسافر کے سامنے نوے ڈگری کے زاویے پر جھک کر “ارینگا تو گوئزائمس” (آپ کا بہت شکریہ) کہہ رہے تھے۔ پٹھانوں کی روایتی مہمان نوازی اور سڈنی کی تہذیب کی ماری میں نے بھی سوچا کہ اچھے اخلاق کا جواب اس سے بڑھ کر دینا چاہیے بس پھر کیا تھا!
جیسے ہی میری باری آئی اور وہ صاحب میرے سامنے جھکے، میں نے بھی پورے احترام کے ساتھ سر جھکا دیا اب تماشہ یہ ہوا کہ میں جتنا جھکتی وہ صاحب جاپانی روایت کے مطابق مجھ سے زیادہ جھک جاتے!
دو تین بار کی اس “جھکنے کی اسپیڈ بریفنگ“ کے بعد صورتحال یہ ہو گئی کہ ہم دونوں امیگریشن کاؤنٹر کے سامنے رکوع کی حالت میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے اور پیچھے کھڑے جان صاحب اپنی ہنسی روکنے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھے کھانسنے کی زبردست اداکاری کر رہے تھے۔ مجھے لگا کہ اگر میں نے اب سر نہ اٹھایا تو جاپانی آفیسر صاحب احترام کے مارے فرش پر ہی لیٹ جائیں گے!
بڑی مشکل سے اس مضحکہ خیز سچویشن سے نکل کر میں امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچی۔ اور اپنا پاسپورٹ، یونیورسٹی کا آفیشل داخلہ خط (Admission Letter)، جاپان امیگریشن کا جاری کردہ اہلیت کا سرٹیفکیٹ یعنی سی او ای (COE – Certificate of Eligibility) اور اپنی ریسرچ اسکالرشپ کی دستاویزات بھی ایک ایک کر کے شیشے کی ونڈو کے نیچے بنے چھوٹے سے ڈیسک پر سجا دیں۔
وہاں بیٹھے امیگریشن آفیسر کا حلیہ بڑا ہی دیدنی اور جاپانی نفاست کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ سرمئی رنگ کی کرسپ استری شدہ آفیشل وردی، چمکتا ہوا پیتل کا بیج ان کے بائیں کندھے پر سجا تھا اور بال اتنے سلیقے سے سائیڈ پر بٹھائے گئے تھے جیسے ابھی ابھی کنگھی کی گئی ہو۔ ان کے چہرے پر باریک فریم کا چشمہ ٹکا تھا اور ناک کے نیچے بنی ان کی چھوٹی سی کٹی ہوئی مونچھیں ان کی سنجیدگی کو مزید گہرا کر رہی تھیں۔ ان کا چہرہ بالکل سپاٹ اور تاثرات سے عاری تھا جیسے جاپانیوں نے جذبات کو قابو میں رکھنے کا کوئی خاص سافٹ ویئر خود کے اندر انسٹال کر رکھا ہو۔ جیسے ہی انہوں نے اپنے دستانے پہنے ہوئے ہاتھوں سے میری دستاویزات کو اٹھایا تو ان کا ردعمل دیکھنے لائق تھا۔ انہوں نے پہلے نہایت باریک بینی سے میرے ویزے کو ایک خاص میگنیفائینگ ہینڈ لینس (خوردبین نما شیشے) سے دیکھا پھر جب ان کی نظر کیو یونیورسٹی (Keio University) کے داخلہ خط اور سائبر سیکیورٹی کی ریسرچ دستاویز پر پڑی تو ان کے سپاٹ چہرے پر ایک ہلکی سی تبدیلی آئی۔ انہوں نے اپنے چشمے کو ناک پر تھوڑا اوپر سرکایا اور میری جانب دیکھا پھر اپنی پشت سیدھی کی۔ ان کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں حیرت اور احترام کے ایک ملے جلے تاثر کے ساتھ پھیل گئیں۔ جاپانی معاشرے میں تعلیم اور ریسرچرز کی کتنی عزت ہے اس کا اندازہ مجھے اسی وقت ہو گیا جب انہوں نے میری طرف دوبارہ دیکھا۔ ان کے لبوں پر ایک بہت ہی ہلکی سی مگر انتہائی محترمانہ مسکراہٹ ابھری اور انہوں نے دھیمی جاپانی انگریزی میں کہا:
“اوہ! کیو دائیگاکو (کیو یونیورسٹی)۔۔۔ ریسرچ اسٹوڈنٹ! ویری سمارٹ!”
وہ ردعمل اتنا پروقار اور حیرت سے بھرپور تھا کہ مجھے جاپانیوں کے اس روکھے پن کے پیچھے چھپی تہذیب کا ایک اور خوبصورت رخ دیکھنے کو ملا انہوں نے نہایت تیزی اور مہارت سے اپنے کمپیوٹر پر انگلیوں کو دوڑایا جیسے کوئی پیانو بجا رہا ہو اور چند سیکنڈز میں میری بائیومیٹرک انگلیوں کے نشانات اور آنکھوں کا اسکین مکمل کر کے میرے پاسپورٹ پر جاپان کا خوبصورت ویزا اسٹیکر چسپاں کر کے مجھ سے کہا:
“ویلکم ٹو جاپان۔“
امیگریشن کے اس طویل مرحلے سے کامیابی سے گزرنے کے بعد جب میں اپنا بڑا سا سامان (بیگیج) لینے بیلٹ کی طرف بڑھی تو وہاں بھی جاپانیوں کی نفاست کا ایک نیا شاہکار میرا منتظر تھا۔
عام طور پر دنیا کے ایئرپورٹس پر سامان کنویئر بیلٹ پر اتنی بے دردی اور افراتفری سے پھینکا جاتا ہے کہ سوٹ کیسز ایک دوسرے کے اوپر ڈھیر ہو جاتے ہیں مگر ہانیڈا پر تمام سوٹ کیسز بالکل ایک سیدھی لائن میں، ان کے ہینڈلز اوپر کی طرف کر کے اس طرح نفاست سے گھوم رہے تھے جیسے کسی شو روم میں قیمتی اشیاء نمائش کے لیے رکھی ہوں!
حد تو یہ تھی کہ سفید دستانے پہنے ایئرپورٹ ملازم نہایت مستعدی سے ہر بیگ کو ایک ترتیب سے لگا رہے تھے اور جہاں ضرورت ہوتی وہاں کپڑے سے مٹی بھی صاف کر رہا تھا تاکہ مسافر کو اپنا بیگ اٹھانے میں ذرا سی بھی زحمت نہ ہو۔ جاپانیوں کی یہ غیر معمولی باریک بینی اور اپنے کام سے مخلص ہونا دیکھ کر میں نے حیرت سے دانتوں تلے انگلی دبا لی کہ کوئی قوم اتنی باذوق اور انسان دوست کیسے ہو سکتی ہے!
سماجی اقدار اور کلچر کا پہلا سبق مجھے سامان لینے والے بیلٹ پر ملا جہاں لوگ اتنی خاموشی سے قطار میں کھڑے تھے جیسے کسی درگاہ پر حاضری دے رہے ہوں۔ جاپان میں اونچی آواز میں بولنا ایسا ہی گناہ ہے جیسے کسی لائیو شو میں فون بج جانا!
سب لوگ اپنے اپنے کام میں مگن دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے جیسے کوئی گہرا راز شیئر کرنا ہو۔ میں نے جب اپنا سوٹ کیس بیلٹ سے اٹھایا تو وہاں موجود ایک جاپانی اہلکار نے لپک کر میری مدد کی اور ایسے جھک کر شکریہ ادا کیا جیسے میرا سامان اٹھانا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہو!
کسٹمز کاؤنٹر کی طرف بڑھتے ہوئے ہال کی بلند و بالا شیشے کی دیواروں سے باہر کا نظارہ اب پوری طرح نمایاں ہو چکا تھا۔ ٹوکیو کی صبح کی اجلی دھوپ ایئرپورٹ کے اسٹیل اور شیشے کے جدید ڈھانچے پر پڑ کر ایک عجب چمک پیدا کر رہی تھی۔ کسٹمز کے افسران نے بھی روایتی جاپانی مسکراہٹ اور ماتھے پر ہلکا سا خم دے کر میرے سامان کی کلیئرنس کی اور الوداعی کلمات کہے۔
میں نے اپنے بیگ کا ہینڈل مضبوطی سے تھاما اور جیسے ہی گرین چینل کا خودکار شیشے کا دروازہ پار کر کے ایئرپورٹ کے مین ارائیول ہال میں قدم رکھا تو یوں لگا جیسے میں کسی دوسری ہی کائنات میں آ گئی ہوں۔
سامنے جاپانیوں کا ایک ہجوم تھا مگر وہاں کوئی شور شرابا یا افراتفری نہیں تھی۔ ہر شخص دھیمی آواز میں بات کر رہا تھا۔ ہال کے کونے میں بنے ہوئے کیفے سے جاپانی گرین ٹی (ماچا) اور تازہ کافی کی بھینی بھینی خوشبو پورے ماحول میں رچی بسی تھی جو دس گھنٹے کے طویل سفر کی تھکن کو پل بھر میں دور کر رہی تھی۔
ہانیڈا کے اس ایئرپورٹ نے مجھے پہلے ہی گھنٹے میں یہ بتا دیا کہ یہ اکیس شہروں کی داستان کتنی حیران کن اور معلومات سے بھرپور ہونے والی ہے کیونکہ جہاں کی شروعات ہی اتنی سحر انگیز ہو وہاں آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!