اندر کے موسم: حکمت ادیب کی شاعری اور جھنگ کی ادبی یادیں
ڈاکٹر مجاہد عباس
مرے اندر کے موسم اتنی تیزی سے بدلتے ہیں
کہ ان کے ذائقوں کا کچھ پتا چلتا نہیں ہے
آج کی کتاب: اندر کے موسم
شاعر کا نام: حکمت ادیب
بہ سلسلہ جھنگ کی ادبی روایت (4)
“اندر کے موسم” حکمت ادیب کا شعری مجموعہ ہے جو 2001ء میں جھنگ ادبی اکیڈمی سے شائع ہوا ہے اور اس مجموعے میں حمد و نعت کے علاوہ چالیس غزلیں اور دس مختصر نظمیں شامل ہیں۔
حکمت ادیب کی اس کتاب کا دیباچہ” ناصر عباس نیر’ نے لکھا ہے اور فلیپ پر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا اور پروفیسر سمیع اللہ قریشی کی آرا بھی شامل کی گئی ہیں۔
حکمت ادیب نے پیش لفظ میں 56-1955ء کے ان ایام کو یاد کیا ہے جب جھنگ میں ادبی محافل سجائی جاتی تھیں ۔ تواتر سے منعقد ہونے والے مشاعروں اور تنقیدی نشستوں سے شہر میں ایک ادبی و علمی فضا قائم ہو گئی تھی۔
انھوں نے شہید روڈ پر جمال کے چائے خانے کا بھی خصوصی ذکر کیا ہے کیوں کہ وہاں سجنے والی محفل میں طاہرسردھنوی ، خلیل خان، آغا نو بہار علی خان، سید مظفر علی ظفر، بیدل پانی پتی، احمد تنویر، قدیر قیس، معین تابش ، حنیف باوا،خیر الدین انصاری، اصغر شاہیا اور بہت سے احباب رونق افروز ہوتے۔ جب کبھی کیپٹن جعفر طاہر جھنگ آتے تو اس محفل میں شریک ہوتے۔
جب مجید امجد جھنگ آتے تو یہ سب احباب ان کے ہاں جمع ہو جاتے اور ایک محفل سج جاتی۔ کبھی کبھی شیر محمد شعری اور بلال زبیری بھی ان محفلوں کی میزبانی کرتے۔ شیر افضل جعفری، پروفیسر سمیع اللہ قریشی اور پروفیسر تقی الدین انجم کی شمولیت سے ان محفلوں میں ایک سماں بندھ جاتا۔
حکمت ادیب کو ان محفلوں کے مہتمم اور منتظم کی حیثیت حاصل ہو جاتی۔ وہ مرتب و مدیر تو تھے ہی رفتہ رفتہ شعر و سخن کی طرف بھی طبیعت مائل ہو گئی۔ اگرچہ وہ مشاعروں میں کلام نہیں سناتے تھے لیکن اپنی بیاض میں شاعری ضرور لکھ لیتے۔
حادثہ تو تب ہوا جب لاہور جاتے ہوئے ان کا بیگ گم ہو گیا اور اس بیگ میں موجود بیاض بھی گم ہو گئی۔ یوں وہ اپنے بیشتر کلام سے محروم ہو گئے۔ حافظے میں موجود کلام کو کاغذ پر اتار کر محفوظ کیا اور جو بعد میں لکھا وہ دوستوں کے اسرار پر ” اندر کے موسم” کے نام سے شائع کرا دیا۔
ناصر عباس نیر نے اس کتاب کے دیباچے میں لکھا ہے کہ”ان کی غزلیات کا لسانی ذخیرہ چراغ، شب، شام، مقتل، رہزن، شاخِ آرزو، بندِ قبا، شبستان، گلشن، تقریر، طوفان، لنگر، آئینہ، شجر، کھیت، سمندر، بھنور، دھوپ، ہوا، بارش، بادل، رنگ، چیلیں، کشکول، پرندے اور ان کے متعلقات پر مشتمل ہے۔”
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے حکمت ادیب کے بارے میں لکھا ہے کہ ” موضوعات میں عصرِ حاضر کے مسائل بلاشبہ موجود ہیں لیکن ان کا اصل رنگ محبت کے نرم و نازک جذبات کے اظہار میں کھلتا ہے۔”
پروفیسر سمیع اللہ قریشی نے اپنی رائے ہوں دی ہے:”حکمت ادیب کی شاعری زرد موسم کی سلگتی دھوپ، ایک گہرے اور کسی قدر مسلسل خواب کی گرفت میں نظر آتی ہے۔”
مجموعی طور دیکھیں تو حکمت ادیب کی شاعری سادہ اسلوب کی حامل عام فہم شاعری ہے۔ ان کی غزل میں مشکل تراکیب ہیں اور نہ فارسیت کا غلبہ ہے۔ نظموں میں نہ تجرید ہے اور نہ علامات۔ سیدھے سبھاؤ اظہارِ جذب و کیف ہے۔
آپ بھی حکمت ادیب کے چند اشعار سے محظوظ ہوں۔
نہ چھین گردِ سفر مجھ سے اپنے رستے کی
مرا وجود اسی کہکشاں میں رہنے دے
۔۔۔۔۔
جب بھی دکھوں کی دھوپ میں جلنے لگا بدن
اس کا خیال دشت میں پُروائی دے گیا
اک عمر سے رہا تھا میں شوقِ وصال میں
پھر کوئی آکے لذتِ تنہائی دے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
کس نے پھینکا ہے یہ پتھر سوچ کے تالاب میں
دائروں میں پھیلتی جاتی ہے بینائی بہت
۔۔۔۔۔۔
پرواز تو ممکن نہیں پر تول رہے ہیں
ٹوٹے ہوئے بازو ہیں مگر کھول رہے ہیں
ہم لوگ عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہیں
پلڑے ترے انصاف کے کیوں ڈول رہے ہیں
جس قوم نے محنت کی حقیقت کو نہ جانا
اس قوم کے ہاتھوں میں تو کشکول رہے ہیں
#hamaridigest #hamaridigestdigital #UrduPoetry #JhangLiterature #BookReview