حاضری
صغیر جعفری
مدینہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سعودی ایئر لائن کی پرواز ملتان (پاکستان) جانے کے لیے بالکل تیار تھی۔ تقریباً نوے فیصد مسافروں کی امیگریشن مکمل ہو چکی تھی۔ آخری لائن میں کھڑے ایک مسافر، غلام محمد، کے پاس کوئی سامان نہیں تھا؛ صرف ایک نیلے رنگ کا شاپر تھا، جسے امیگریشن کا عملہ بار بار اسکریننگ مشین میں ڈال رہا تھا اور انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس شاپر میں کیا ہے۔
بورڈنگ کارڈز جاری ہو چکے تھے۔ میری اور غلام محمد کی نشست ایک ساتھ ہی تھی۔ C8 میری نشست تھی اور غلام محمد کی C9۔ غلام محمد سے میرا تعارف ایئرپورٹ لاؤنج میں ہوا تھا۔ وہ سعودی عرب میں مدینہ منورہ کے جوار میں ایک مزرع (کھیت/فارم) پر کام کرتا تھا۔ ایئرپورٹ لاؤنج میں وہ بڑا پریشان بیٹھا تھا اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے اس سے پوچھا: ”خیریت تو ہے؟ رو کیوں رہے ہو؟“
وہ اردو بھی ٹھیک طرح بول نہیں پا رہا تھا؛ مجھے اس کے حلیے سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ سرائیکی ہے۔ میں نے اسے اپنا تعارف کرواتے ہوئے سرائیکی میں کہا: ”میں ملک رمضان ہاں تے مظفر گڑھ شہر دا وسنیک ہاں۔ ادا! اپنا حال سنا، کیا گال اے۔ مونجھا کیوں ودا ایں؟“ (میں ملک رمضان، مظفر گڑھ شہر کا رہنے والا ہوں۔ مجھے اپنا حال سناؤ، کیا بات ہے کہ تم اداس اور پریشان ہو؟)
غلام محمد کو کچھ حوصلہ ہوا تو اس نے مجھے سرائیکی میں کہا: ”میرا نام غلام محمد ہے۔ میں ڈیرہ غازی خان کے ساتھ تونسہ روڈ پر دڑی پیر عادل شاہ کا رہنے والا ہوں۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد میں ملتان، دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدرسہ انوار العلوم میں داخل ہو گیا کیونکہ میرے والدین فوت ہو چکے تھے، تو میں نے اپنے اکلوتے بھائی کی شادی کرنے کے بعد وراثتی زمین اور مکان میں جو اس کا حصہ بنتا تھا، اسے دے کر خود ملتان آ گیا۔ یہاں پڑھائی میں میرا دل نہیں لگتا تھا؛ میری آواز بہت اچھی ہے، تو میں نے نعتیں پڑھنا شروع کر دیں۔ مجھے بچپن سے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے حد محبت تھی اور ہر وقت مجھے مدینہ شریف حاضری کی شدید خواہش رہتی تھی۔ میں نے ملتان سے ایک ایجنٹ سے بات کی تو اس نے کہا کہ مدینہ شریف میں ایک مزرع پر ملازمت کا تین سال کا ویزا ہے اور چھ لاکھ روپے لگیں گے۔ میں فوری طور پر گھر گیا اور اپنے حصے کی زمین اور مکان سات لاکھ روپے میں فروخت کرنے کے بعد یہاں مدینہ شریف آ گیا۔ پاکستان میں اب میری کوئی جائداد نہیں تھی، مگر میں بے حد خوش تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا ہوں؛ یہی میری جائداد ہے۔ میں مہینے میں دس دن کام کرتا اور باقی بیس دن گنبدِ خضرا کے سایہ میں بسر کرتا۔ میرا کفیل مجھ سے ناراض رہتا کہ میں اس کے پاس پورا مہینہ کیوں کام نہیں کرتا۔ اب جب میرے تین سال مکمل ہو گئے تو اس نے مجھے کام سے نکال دیا اور میرا خروج لگوا دیا۔ ان تین سالوں میں کچھ نہیں کمایا اور نہ کچھ بچایا کیونکہ میں تو سارا وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیرِ سایہ رہتا تھا۔ مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے کہ میں آپ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور ہو جاؤں گا، یہ میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔“
غلام محمد سے یہ ساری باتیں ویٹنگ لاؤنج میں ہوئیں۔ میں نے اسے تسلی دی کہ میں یہاں مدینہ یونیورسٹی میں انگریزی پڑھاتا ہوں، تین ماہ کی چھٹی پر پاکستان جا رہا ہوں، واپس آ کر تمہارے لیے مدینہ شریف میں ملازمت کی کوشش کروں گا؛ مگر اسے تسلی نہیں ہوئی اور وہ مسلسل روتا رہا۔
اتنے میں امیگریشن کے لیے بلاوا آ گیا۔ ہم دونوں اٹھے۔ میں نے اپنے سامان کی ٹرالی سنبھالی، مگر میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ غلام محمد کے پاس ایک نیلے شاپر کے علاوہ کوئی اور سامان نہیں تھا اور وہ نیلا شاپر اب امیگریشن حکام کے لیے مسئلہ بنا ہوا تھا۔ وہ حیران تھے کہ سعودی عرب آتے ہوئے مسافروں سے اکثر ممنوعہ اشیاء (منشیات وغیرہ) پکڑی جاتی ہیں، مگر سعودی عرب سے واپس جاتے ہوئے کون سی ممنوعہ چیز اس شاپر میں ہے؟ انہوں نے غلام محمد کو لائن سے باہر نکال دیا اور اس سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔
اب مسئلہ یہ کھڑا ہو گیا کہ غلام محمد کو عربی نہیں آتی تھی۔ مجھے اس کی معصومیت پر ترس آ گیا اور میں اس کا ترجمان بن گیا۔ ان حکام نے میری ایک نہ سنی اور غلام محمد کے ساتھ مجھے بھی بڑے آفیسر کے پاس لے گئے۔
اس آفیسر نے وہ نیلا شاپر ڈرتے ڈرتے کھولا، جس کی کئی تہیں تھیں۔ آخر کار اس میں سے ہلکے بھورے رنگ کا پاؤڈر سا نکلا۔ چونکہ آفیسر نے ڈر کے مارے دستانے پہنے ہوئے تھے، ان دستانوں کی وجہ سے اس پاؤڈر کو چھونے پر بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہے۔
میں نے غلام محمد سے پوچھا: ”مجھے تو بتاؤ یہ کیا ہے؟“
غلام محمد نے زار و قطار روتے ہوئے کہا: ”یہ کوئی منشیات نہیں ہے، یہ تو مدینہ شریف کی پاک مٹی ہے جو میں پاکستان ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں، تاکہ پاکستان میں جب مجھے مدینہ شریف کی یاد آئے تو میں اس مقدس مٹی کو چوم کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا سکوں۔“
چونکہ ہم دونوں سرائیکی میں بات کر رہے تھے، تو اس آفیسر نے غصے سے کہا: ”عربی میں بات کرو!“
میں نے اسے عربی میں جواب دیا کہ غلام محمد عربی بول نہیں سکتا۔ پھر میں نے غلام محمد کی پوری کہانی سنائی کہ یہ کوئی منشیات نہیں ہے بلکہ یہ تو مدینہ شریف کی مٹی ہے جسے عقیدت کے طور پر غلام محمد اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہے۔ پھر میں نے غلام محمد کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی پوری حقیقت اور الوداعی کیفیت بتائی کہ اسے مدینہ شریف چھوڑنے کا دکھ درد ہے، جس میں اس کے کفیل کا ہاتھ ہے۔ اس دوران غلام محمد مسلسل گریہ زاری کرتے ہوئے روتا رہا۔
ہم پاکستانیوں میں عمومی طور پر یہ تاثر ہے کہ عربی لوگ سخت طبیعت کے مالک ہوتے ہیں، ان میں جذبہٴ ہمدردی نہیں ہوتا، وہ عجمیوں سے نفرت کرتے ہیں؛ یہ تاثر خاصا غلط ہے۔ سب عربی اچھے اخلاق کے مالک ہیں، الا ماشاء اللہ۔
وہ آفیسر غلام محمد سے کافی متاثر ہوا اور اپنے ماتحت ایک آفیسر کو غلام محمد کے کفیل سے فون پر بات کروانے کا حکم دیا۔ تو آفیسر نے اس کے کفیل سے خاصے سخت لہجے میں غلام محمد کو ملازمت سے نکالنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ امیگریشن آفیسر نے کفیل کو بتایا: ”میں مدیرِ تفتیش ہوں، تم غلام محمد کا تنازل مجھے دے دو۔“
کفیل ساری بات سمجھ گیا اور امیگریشن آفیسر سے کہا: ”غلام محمد کو واپس میرے پاس بھیج دیں؛ وہ کام کرے یا بالکل نہ کرے، اس کی ملازمت پکی ہے۔“
میں نے امیگریشن آفیسر سے غلام محمد کے کفیل کا فون نمبر لیا اور غلام محمد سے الوداع ہوتے ہوئے کہا: ”میں انشاء اللہ تین ماہ کے بعد پاکستان سے واپس آؤں گا تو پھر ملاقات ہو گی۔“
پاکستان آ کر بھی مجھے ہر روز غلام محمد کی یاد آتی رہی اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشق کی سچی لگن مجھے یاد آتی رہی۔
تین ماہ کے بعد میں واپس اپنی جاب مدینہ یونیورسٹی پر آ گیا۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے غلام محمد کے کفیل سے اپنا تعارف ایئرپورٹ پر ہونے والے واقعے کے حوالے سے کروایا اور غلام محمد سے ملاقات کرنے کا کہا، تو اس نے بڑی گرم جوشی سے جواب دیا کہ میں کسی بھی دن نمازِ عصر کے بعد اس کے پاس آ جاؤں غلام محمد سے ملاقات کے لیے۔
میں دو دن کے بعد کفیل کے پاس پہنچ گیا۔ خاطر تواضع کے بعد وہ مجھے لے کر چل پڑا۔ مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متصل جنت البقیع میں ہم دونوں داخل ہو گئے۔ میں سمجھا کہ یہاں کفیل کے کسی عزیز کی قبر ہے۔
وہ ایک قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر، رو کر کہنے لگا: ”یہ غلام محمد کی قبر ہے۔ وہ سچا عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا، وہ آج کا اویسِ قرنی تھا؛ میں ہی اسے پہچان نہیں سکا۔“
ہم دونوں یہ باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں وہی امیگریشن آفیسر وہاں آ گیا۔ مجھے دیکھتے ہی میرے گلے لگ گیا اور کہنے لگا: ”واللہ! ہوَ حَقیقی عاشِقُ رَسُولِ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔“ (اللہ کی قسم! وہ سچا عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا)۔
کفیل نے روتے ہوئے بتایا کہ اس دن ایئرپورٹ سے واپسی پر غلام محمد کہیں اور نہیں گیا، سیدھا مسجدِ نبوی میں روضہٴ اطہر میں مواجہہ شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں درود شریف پڑھتے پڑھتے روضہٴ اطہر کی جالیاں (شرطوں کی پروا کیے بغیر) پکڑ کر زور زور سے رو رو کر عرض کرتا رہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کا غلام حاضر ہے، غلام محمد حاضر ہے۔ میری عاجزانہ حاضری قبول فرمائیں، یا رسول اللہ!“
یہی عرض کرتے ہوئے، وہیں جالیوں کے سامنے اپنی حاضری اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کر دی۔
حاضری, صغیر جعفری, ہماری ڈائجسٹ, سچا واقعہ, عشق رسول, مدینہ منورہ, سبق آموز تحریر, اردو ڈائجسٹ
**************************************
ایک نہیں… دو نہیں… پورے 20 ایسے اردو افسانے، جو آپ کو ہر صفحے پر ایک نئی دنیا میں لے جائیں! ✨
💔 کہیں محبت ہے… کہیں جدائی…
😢 کہیں غربت کی تلخ حقیقت…
😲 کہیں سسپنس ایسا کہ آخری سطر تک تجسس برقرار رہے…
🌸 اور کہیں ایسے جذبات، جو دیر تک دل میں اتر جائیں۔
جولائی شمارہ ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کا پہلا خصوصی شمارہ ہے، جس میں 20 منتخب اور منفرد اردو افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ محبت، سماجی مسائل، سسپنس، جذبات اور زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں پر مبنی یہ افسانے آپ کو شروع سے آخر تک اپنے سحر میں باندھے رکھیں گے۔
اگر آپ معیاری اردو افسانے پڑھنے کے شوقین ہیں تو جولائی شمارہ ابھی پڑھیں۔👇👇
#ہماری_ڈائجسٹ_ڈیجیٹل #جولائی_شمارہ #اردو_افسانے #اردو_ادب #ماہانہ_ڈائجسٹ #ShortStories #UrduStories #UrduLiterature