0

اے وقت کے منصف! (نظم) علینہ خان ( ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل)

اے وقت کے منصف! (نظم)

"اے وقت کے منصف! (نظم) علینہ خان - ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل"

علینہ خان


اے وقت کے منصف! دیکھ، میں اندر سے اجڑ گئی ہوں
میرا سکوت میری گواہی ہے، کہ اب مجھ میں بولنے کی سکت نہیں
میں دن کے اجالوں میں مسکراہٹوں کا لبادہ اوڑھتی ہوں
تاکہ زمانے کی بے حس نظریں میرے زخموں کا تماشہ نہ بنا سکیں!
لیکن جب رات اپنے سیاہ پر پھیلا دیتی ہے
تو میرا تکیہ میرے گمنام آنسوؤں کا امین بن جاتا ہے
اور میری تنہائی میری سسکیوں سے ہمکلام ہوتی ہے۔
میں نے جذبوں کی لاج رکھی، رشتوں کا مان پالا
ہر جفا کو خاموشی سے سہا، ہر طنز کو ہنس کر ٹالا
مگر صلے میں مجھے صرف تنہائی کی دھول ملی
اور دنیا نے مجھے “مضبوط” کہہ کر میرے سسکنے کا حق بھی چھین لیا
میں مضبوط نہیں ہوں، بس اب بکھرنے کی عادت ہو گئی ہے
درد اب اجنبی نہیں لگتا، یہ تو میرا ہمسفر بن چکا ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ وقت ہر گھاؤ کو بھر دیتا ہے
مگر یہ کتنا بڑا سراب ہے!
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو روح میں اتنے گہرے اتر جاتے ہیں
کہ وقت بھی ان پر مرہم نہیں رکھ پاتا
ہم بس ان زخموں کی کسک کے ساتھ سانس لینا سیکھ جاتے ہیں۔
بارِ الٰہا! اگر یہ میرے صبر کا امتحان ہے تو میری ہمت جواب دے رہی ہے
اور اگر یہ میری کسی لغزش کی سزا ہے تو مجھے میرا قصور بتا دے!
میں تھک چکی ہوں اس منافقت کے کھیل سے، اس “سب ٹھیک ہے” کے جھوٹے دلاسے سے۔
سنو! تم جو میری اس داستاں کے عینی شاہد ہو
کبھی کسی شکستہ دل سے اس کی اداسی کا سبب مت پوچھنا!
کیونکہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے!
بس چپکے سے اس کا ہاتھ تھام لینا
کہ بعض اوقات طویل گفتگو سے زیادہ، ایک خاموش ہمدردی شفا بن جاتی ہے!
HamariDigest #AleenaKhan #UrduPoetry #UrduShayari #SadUrduPoetry# #ادب 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں