احتیاط ضروری ہے
صغیر جعفری
انسان عقل و شعور، تعلیم و تمدن اور تہذیب و تربیت کے ساتھ معاشی و معاشرتی سرگرمیوں میں جیسے جیسے فعال رہتا ہے، توں توں عمر کے ساتھ اس کے جسم کی توانائیاں بتدریج کم ہونے لگتی ہیں۔
بڑھاپے کی طرف قدم رکھتے ہوئے ہمیں اپنی خوراک کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاط کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ صحت کے معاملے میں تھوڑی سی لاپروائی اور بے احتیاطی ہمیں ڈاکٹروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔
بڑی عمر میں انسان کی قوتِ مدافعت بتدریج کم ہو جاتی ہے۔ اگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو کئی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل میں میرا مضمون ”چند پندِ سود مند“ پڑھنے کے بعد احباب نے روزمرہ زندگی اعتدال کے ساتھ گزارنے کے لیے تجاویز طلب کی تھیں؛ چنانچہ چند احتیاطی تدابیر پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم بہتر زندگی گزار سکتے ہیں:
1. کھانے پینے میں احتیاط
-
زود ہضم غذا: بڑی عمر میں معدہ کمزور ہو جاتا ہے، لہٰذا جو کا دلیہ، یخنی، سبزیوں اور گوشت کا سوپ مناسب مقدار میں استعمال کریں۔ فاسٹ فوڈز سے مکمل پرہیز کریں۔
-
اعتدال اور سنت: کبھی بھی پیٹ بھر کر کھانا نہ کھائیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کے مطابق بھوک رکھ کر کھائیں تاکہ معدے پر بوجھ کم پڑے۔
-
اوقاتِ طعام:
-
صبح کا ناشتہ: ضرور اور پیٹ بھر کر کریں تاکہ دن بھر توانائی ملتی رہے۔
-
دوپہر کا کھانا: نہ کھائیں تو بہتر ہے؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمام عمر دوپہر کا کھانا تناول نہیں فرمایا۔
-
رات کا کھانا: نمازِ مغرب کے فوراً بعد ہلکا پھلکا اور زود ہضم کھانا کھا لیں۔
-
2. پینے کا پانی
-
مقدار: دن میں کم از کم چار سے پانچ لیٹر صاف پانی ضرور pئیں۔
-
قدرتی طریقہ: بوتلوں میں بند پانی کے بجائے گھر کا پانی مٹی کے گھڑے اور مٹی کے پیالے میں استعمال کریں۔
-
صاف پانی کا حصول: گھر میں نلکے کا بور گہرا (تقریباً 300 فٹ) کروائیں تاکہ صاف پانی ملے۔ گھڑے کے پانی میں ایک دو بار پھٹکڑی کا چھوٹا ٹکڑا پھیر کر صاف کر لیں، یہ پانی منرل واٹر سے بھی بہتر ہو جائے گا۔
3. ورزش
-
وقت: ہر کھانا کھانے کے ایک گھنٹے بعد کم از کم 40 منٹ کی واک (Walk) ضرور کریں۔
-
احتیاطی تدبیر: واک کے دوران پانی اور کوئی میٹھی چیز (مثلاً ٹافی) ساتھ رکھیں۔ اگر واک کے دوران کمزوری محسوس ہو تو فوراً استعمال کریں، کیونکہ یہ شوگر لیول کم ہونے کی صورت میں فوری علاج کا کام دیتی ہے۔
چند ضروری احتیاطی تدابیر
-
نیم گرم پانی: سردی ہو یا گرمی، ہمیشہ نیم گرم پانی سے غسل فرمائیں۔
-
باتھ روم کا فرش: واش روم کا فرش چکنا (Slippery) نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس پر پھسل کر چوٹ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر فرش چکنا ہو تو ربڑ کے میٹ (Rubber Mats) استعمال کریں۔
-
سِنک (Sink) پر پاؤں دھونا: نہانے کے بعد یا وضو کے لیے پاؤں کبھی بھی باتھ روم کے سِنک پر نہ دھوئیں؛ توازن بگڑنے سے سر یا جسم پر شدید چوٹ لگ سکتی ہے جس سے انسان کوما میں بھی جا سکتا ہے۔
-
لباس کی تبدیلی: نہانے کے بعد شلوار، پینٹ یا پاجامہ واش روم میں کھڑے ہو کر نہ بدلیں۔ اگر واش روم میں کرسی موجود ہے تو بیٹھ کر بدلیں، ورنہ کمرے میں بیڈ یا کرسی پر بیٹھ کر لباس تبدیل کریں۔
یہ تمام احتیاطی تدابیر ایسی ہیں جن پر کوئی اضافی خرچ نہیں آتا، مگر ان پر عمل کر کے آپ متعدد جسمانی معذوریوں اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
