اسلام آباد کا سانحہ: 14 معصوم جانوں کی راکھ اور بے حس انتظامیہ
![]() |
PIMS Islamabad Tragedy, Aleena Khan Column, پمز اسلام آباد سانحہ, علینہ خان کالم, ہسپتال فائر سیفٹی, پاکستان نیوز |
علینہ خان
پمز اسلام آباد کا یہ دلخراش سانحہ محض ایک ناگہانی حادثہ نہیں بلکہ ہمارے حکومتی نظام، انتظامی بے حسی اور سیفٹی کے ناقص ڈھانچے کی وہ بھیانک تصویر ہے جس نے پورے ملک کی روح کو زخمی کر دیا ہے۔ چودہ معصوم جانوں کی راکھ پر کھڑے ہو کر جب اس المئے کا تجزیہ کیا جائے تو یہ سچائی روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہ تباہی آگ کی شدت سے زیادہ انتظامی لاپرواہی کا نتیجہ تھی۔
سالانہ اربوں روپے کا بجٹ حاصل کرنے والے وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال میں بنیادی حفاظتی تدابیر کا سرے سے موجود نہ ہونا ایک سنگین جرم ہے۔ اس سانحے سے پہلے ہسپتال انتظامیہ کی سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ این آئی سی یو جیسے حساس ترین وارڈ میں خودکار فائر سنسرز، پانی کے اسپرنکلرز اور ہر وقت کھلے رہنے والے ایمرجنسی راستے یقینی بنائے جاتے۔ عینی شاہدین کا یہ بیان کہ نرسری کا دروازہ لاک تھا اور عملہ غائب تھا، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں موجود عملے کو ناگہانی آفات سے نمٹنے یا معصوم بچوں کو نکالنے کی کوئی تربیت ہی نہیں دی گئی تھی۔ اگر وقت پر سیفٹی آڈٹ کیا جاتا اور کاغذات پیٹ پوجا کے بجائے واقعی ہسپتال کی حالت بہتر بنانے پر توجہ دی جاتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
اب جبکہ یہ المیہ رونما ہو چکا ہے، حکومت اور متعلقہ وزرا کو روایتی لولی پاپ، یعنی انکوائری کمیٹیوں اور زبانی جمع خرچ سے باہر نکلنا ہوگا۔ مہذب دنیا کا اصول یہی ہے کہ ایسے سانحات پر صرف نچلے عملے کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے ادارے کے سربراہان اور متعلقہ وزرا فوراً اپنے عہدوں سے مستعفی ہوں اور خود کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے پیش کریں۔ اس واقعے کو محض ایک حادثہ قرار دے کر فائل بند کرنے کے بجائے ذمہ داران پر مجرمانہ لاپرواہی کے تحت فوجداری مقدمات چلائے جائیں تاکہ آئندہ کسی کو انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی جرات نہ ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو فوراً ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کا تھرڈ پارٹی سے سیفٹی آڈٹ کروانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سا ہسپتال اپنے مریضوں کے لیے محفوظ ہے اور کون سا آتش فشاں پر قائم ہے۔ جن ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، ان کا نعم البدل تو کوئی نہیں ہو سکتا، لیکن ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان والدین کو فوری اور شفاف انصاف فراہم کرے اور ان کی نفسیاتی و طبی دیکھ بھال کی تمام تر ذمہ داری اٹھائے۔ اگر اب بھی ہم نے محض تعزیتی بیانات اور کمیٹیوں کی آڑ میں اس سانحے کو دبانے کی کوشش کی، تو یہ ان چودہ معصوم بچوں کے خون کے ساتھ بدترین زیادتی ہوگی۔