حور کی اصل حقیقت
سید صغیر حسین جعفری
بعض علماء کرام اور اردو و فارسی کے شعراء نے جو تصور حور کے بارے میں ہمارے اذہان میں بٹھا رکھا ہے وہ تصور اتنا خوبصورت ہے کہ ہم اس کے سحر میں بغیر کسی اعتراض کے گرفتار ہو گئے ہیں اور اس سحر سے نکلنا بھی نہیں چاہتے مگر اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے
ہم نے لفظ “حور“ کا جو روایتی خاکہ ذہنوں میں سجا رکھا ہے، عربی زبان اور قرآن کا اصل اسلوب اس سے کہیں مختلف ہے۔ عربی قواعد کے مطابق “حور“ کا لفظ نہ تو خالصتاً مذکر ہے اور نہ ہی مونث، بلکہ یہ حسن و جمال کی ایک صفت اور جمع کا صیغہ ہے جس کا لغوی مطلب ہے “بڑی اور خوبصورت آنکھوں والے ساتھی“۔ چونکہ یہ ایک صفت ہے، اس لیے یہ کسی ایک صنف تک محدود نہیں، بلکہ دونوں جنسوں کا احاطہ کرتی ہے، جسے بعد میں اردو اور فارسی شاعری نے صرف جنت کی دوشیزہ کے لیے مخصوص کر دیا۔
اس لغوی بحث سے آگے بڑھ کر جب میں نے قرآنی آیات کا مطالعہ کیا، تو تفہیم کے کئی نئے دریچے کھلے۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کلامِ پاک میں جنت کی نعمتوں کے تذکرے میں “حور“ کے لفظ سے زیادہ “أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ” (پاکیزہ ساتھی) اور “عُرُبًا أَتْرَابًا” (محبت کرنے والے، ہم عمر رفقاء) کے الفاظ پر زور دیا ہے۔ یہاں لفظ “زوج“ قابلِ غور ہے، جس کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہوتا ہے۔ یہ اس فکری اور قلبی ہم آہنگی کا اعلیٰ ترین معیار ہے جو دونوں جنسوں کو جنت میں میسر آئے گا۔
سب سے خوبصورت پہلو مفسرینِ کرام کے ہاں یہ ملتا ہے کہ قرآن نے جن مقامات پر ان جنتی ساتھیوں کے اوصاف بیان کیے ہیں، وہاں درحقیقت دنیا ہی کے مومن مردوں اور عورتوں کی طرف اشارہ ہے۔ سورہ واقعہ میں جب اللہ فرماتا ہے کہ “ہم نے ان کو ایک خاص انداز پر اٹھایا ہے اور انہیں ہم عمر اور محبت کرنے والے بنا دیا ہے“، تو شارحین کے مطابق اس سے مراد دنیا کے یہی صالح انسان ہیں جنہیں جنت میں تمام ظاہری و باطنی عیوب، بیماریوں اور بڑھاپے سے پاک کر کے ابدی حسن و جوانی کا شاہکار بنا دیا جائے گا۔
اس نظریے کی رو سے “حور“ کی کیٹیگری میں جہاں دنیا کی نیک بیویاں اپنے شوہروں کے لیے حسین ترین رفیق بنیں گی، وہاں دنیا کے نیک مرد بھی اپنی صالح بیویوں کے لیے اسی پاکیزہ اور جمیل “حور“ کے روپ میں جلوہ گر ہوں گے۔ قرآنِ مجید خاندانی نظام کے تسلسل اور محبتوں کے دوام کا علمبردار ہے، اسی لیے سورہ طور میں واضح اعلان ہے کہ جو لوگ ایمان لائے، ہم ان کی اولاد اور اہل خانہ کو بھی جنت میں ان کے ساتھ ملا دیں گے۔ جب پورے نیک خاندان کے اکٹھے ہونے کی خوشخبری موجود ہو، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جنت کی حقیقی رونق دنیا کے انھی پاکیزہ رشتوں کے برقرار رہنے میں ہے اور میاں بیوی وہاں ایک دوسرے کے لیے اس درجہ رعنائی کا باعث بن جائیں گے کہ کسی دوسرے سہارے کی حاجت ہی نہیں رہے گی۔
۔ قرآنِ کریم کا اصل مدعا کسی ایک صنف کی تسکین یا محض مردانہ نقطہ نظر نہیں، بلکہ صنف کی تفریق سے بالاتر ایک ایسے “ہم عمر، جمیل اور مثالی لائف پارٹنر کا مژدہ سنانا ہے جو روح کی ابدی تنہائی کو دور کر سکے۔ ابدیت کے اس سفر میں “حور“ کوئی اجنبی مخلوق نہیں، بلکہ دنیا کے وہی نیک مرد اور صالح بیویاں ہیں جنہیں ربِ کائنات ابدی حسن، لازوال جوانی اور تقدس کا وہ شاہکار بنا دے گا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے حورِ عین ثابت ہوں گے۔ چنانچہ، حور کا قرآنی تصور کسی جنسی امتیاز کا نام نہیں، بلکہ مرد اور عورت دونوں کے لیے ایک ابدی، متوازن اور ہم آہنگ رفاقتِ حیات کی دوسری شناخت کا نام ہے۔
الداعی الی الخیر واتحاد بین المسلمین صغیرجعفری