0

جنسی ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 جنسی ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات

ازقلم : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد 

ہراسانی انگریزی لفظ ہراسمنٹ (Harassment) کا ترجمہ ہے؛ معنی کسی کو تنگ کرنا، پریشان کرنا، خوف زدہ کرنا یا بے چین کر دینا۔ یہ ایک غیر مہذب رویہ ہے، جس میں کسی دوسرے شخص کو ذہنی، جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر مفلوج کر کے ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ چند مشہور اقسام میں جنسی، جذباتی، جسمانی، سائبر اور جسمانی ہراسانی شامل ہے، جو بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر کسی بھی جگہ کی جا سکتی ہے۔

لیکن آج جس ہراسانی پر بات چیت کی جائے گی، اس کا عنوان “جنسی ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات“ ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جو ہراسانی کے مرض سے پاک ہو۔ آپ کسی بھی ملک چلے جائیں، وہاں ہراسانی جیسے واقعات سننے کو ضرور ملیں گے۔ یہ انسان کی زندگی میں ایک بڑھی ہوئی نفسانی خواہش ہے، جسے پورا کرنے کے لیے انسان کسی بھی عورت، مرد، بچے یا بچی کا سہارا لیتا ہے۔ پہلے اسے چپکے چپکے ٹارگٹ کرتا ہے، پھر راہ و رسم بڑھاتا ہے، دوستی، محبت اور ضروریاتِ زندگی کا لالچ دے کر بدفعلی کے لیے مجبور کرتا ہے۔ سارے انسان تو اس کیفیت میں مبتلا نہیں ہوتے، البتہ چند ایک ذہنی فتور رکھنے والے لوگ حیوانیت میں بدستور ضرور مبتلا ہو جاتے ہیں۔

چند سالوں سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چند ویڈیوز نے عوام الناس کی شہوت پرستی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ چھوٹی بچیوں کے ریپ، نو عمر بچوں کے ساتھ لونڈے بازی اور کام کی جگہ پر خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی کے واقعات معمول میں شامل ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلے ہوئے اس گند نے لڑکوں اور لڑکیوں کو قبل از وقت بالغ بنا دیا ہے۔ رہی سہی کسر ملاوٹ کے بیوپاریوں نے دودھ میں یوریا اور کئی ایسے خطرناک کیمیکلز شامل کر کے، جو دل، جگر، گردوں اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ جنسی بلوغت میں مبتلا کرنے کا باعث بنے ہیں، پوری کر دی ہے۔

پاکستان میں جنسی ہراسانی کی شرح کے بارے میں کوئی ایک سرکاری تعداد موجود نہیں ہے، کیونکہ زیادہ تر واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ تاہم دستیاب رپورٹس اور سروے کے اعداد و شمار صورت حال کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں:

  • خواتین پر تشدد (2021-2024 تک): 1,73,367 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 632 کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کے کیسز شامل ہیں۔

  • زیادتی اور اجتماعی زیادتی (2021-2024 تک): 17,771 مقدمات رپورٹ ہوئے۔

  • پنجاب میں تشدد (جنوری۔جون 2025 تک): روزانہ اوسطاً 9 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی۔

  • خواتین کا جسمانی تشدد کا سامنا: % 58 خواتین اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت۔

  • شادی شدہ خواتین کی جنسی زیادتی: % 47۔

  • کام کی جگہ پر ہراسانی (مختلف سروے): %93 نجی و سرکاری شعبہ، %50 سرکاری شعبہ، %58 ڈاکٹرز اور نرسیں۔

  • سندھ میں جنسی ہراسانی (2018-2024 تک): 6,780 کیسز رپورٹ ہوئے؛ متاثرین میں 4,280 مرد اور 2,500 خواتین۔

  • آن لائن ہراسانی (2023): ہیلپ لائن پر %58.5 شکایات خواتین کی طرف سے۔

کم رپورٹنگ کی وجوہات میں سماجی دباؤ، قانونی نظام میں مشکلات اور پولیس میں خواتین افسران کی کم تعداد (صرف %1.5) شامل ہے۔

دنیا بھر میں جنسی ہراسانی کے شکار ہونے والوں کی کوئی ایک حتمی تعداد نہیں ہے، کیونکہ اس کی تعریف، ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقے اور رپورٹنگ کی شرحیں مختلف ہوتی ہیں۔ تاہم عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کچھ اہم اعداد و شمار فراہم کرتی ہیں:

  • خواتین (عالمی سطح پر): اقوام متحدہ کے مطابق، دنیا بھر میں 840 ملین (یعنی 84 کروڑ) خواتین اپنی زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہوئی ہیں۔ یہ تعداد 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی ہر تین میں سے ایک عورت بنتی ہے۔

  • غیر شریکِ حیات کی طرف سے جنسی تشدد: 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی 263 ملین (یعنی 26 کروڑ 30 لاکھ) خواتین نے اپنی زندگی میں کسی غیر شریکِ حیات— جیسے رشتہ دار، جاننے والا یا اجنبی— کی طرف سے جنسی تشدد کا سامنا کرنے کی اطلاع دی ہے۔

  • کام کی جگہ پر: عالمی ادارہ محنت (ILO) کے مطابق، دنیا بھر میں ملازمت کرنے والے تقریباً 23 فیصد افراد (یعنی ہر پانچویں فرد) کو کام کی جگہ پر نفسیاتی یا جنسی ہراسانی کا سامنا رہتا ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق، 23 فیصد سے زیادہ خواتین اپنی کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔

  • غیر رپورٹ ہونے کا رجحان: یہ اعداد و شمار مسئلے کی حقیقی وسعت کا صرف ایک حصہ ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ متاثرین کی اکثریت اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی کی اطلاع نہیں دیتی۔

یہ اعداد و شمار مختلف ذرائع اور تعریفوں پر مبنی ہیں، اس لیے ان میں فرق ہو سکتا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے عالمی ادارہ صحت اور عالمی ادارہ محنت کی رپورٹس دیکھی جا سکتی ہیں۔

ہمیں پہلے اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ انسان ایسے مکروہ فعل میں کیوں مبتلا ہوتا ہے؟ کیا اس کی تربیت میں کمی ہے یا فحش مواد دیکھنے کی رغبت جیسے عناصر شامل ہیں؟ ہراسانی کی دیگر بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لیکن جب کسی بالغ انسان کو جنسی خواہش پوری کرنے کا موقع نہیں ملتا، تو پھر وہ بے زبان جانوروں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ اکثر ایسے لوگ تنہائی ڈھونڈ کر یا موقع کی تلاش کر کے مکروہ فعل سرانجام دیتے ہیں۔ ان کے گناہ کے یہ وار پوشیدگی کے عالم میں، رات کے گھپ اندھیرے میں یا کڑی دوپہر کے وقت وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

انسان کو اپنے مذہبی، سماجی اور معاشرتی قوانین کا علم ہونا چاہیے، تاکہ وہ کم سے کم برائی کے مرض میں مبتلا ہو۔ کسی بھی معاشرے سے برائی مکمل طور پر تو ختم نہیں ہو سکتی، لیکن اگر اسے کنٹرول کرنے کے لیے موثر حکمت عملی بنائی جائے تو کوئی مشکل بھی نہیں۔ اس ضمن میں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے بچوں کو جنسی ہراسانی کے بارے میں بتائیں؛ حرام کاروں، زنا کاروں، لونڈے بازوں اور شہوت پرستوں سے کس طرح بچا جائے۔

ایسے لوگوں کی نفسیات کس طرح پڑھی جائے؟ انہیں جانچنے کے لیے نیت اور نظر کا جائزہ فوری طور پر دل و دماغ کو پیغام پہنچا دیتا ہے۔ لہذا بغیر کسی تاخیر کے اپنا بچاؤ کرنا چاہیے۔ خاص طور پر اجنبی لوگوں کے ساتھ تو بالکل ہاتھ نہیں ملانا چاہیے؛ ان کے کسی لالچ یا جھانسے میں نہیں آنا چاہیے، کیونکہ وہ کوئی نہ کوئی ایسا نفسیاتی حربہ استعمال کر کے اپنے جنگل میں پھنسا لیتے ہیں۔ چونکہ ایسے لوگ بڑے ہوشیار، مکار، ڈھیٹ، گھمنڈی اور بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں، جو ننھے منے فرشتوں کو نوچ کر کھا جاتے ہیں۔

ہماری روزمرہ زندگی میں ایسے دل خراش اور بڑھتے ہوئے واقعات ہماری توجہ اس جانب مبذول کروا رہے ہیں کہ قیامت کا وقت بہت قریب ہے۔ جب ایک انسان بھی حیوان کا روپ اوڑھ لے، تو وہاں انسانیت کرچی کرچی ہو جاتی ہے۔ اعتماد اٹھ جاتا ہے، تذبذب بڑھ جاتا ہے، بے قدری بڑھ جاتی ہے، پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں، خوف و ہراس پھیل جاتا ہے، امن و امان کی صورت حال خراب ہو جاتی ہے، گلیاں محلے سنسان ہو جاتے ہیں، اور معاشرتی آب و ہوا آلودہ ہو جاتی ہے۔

میری آنکھوں کے سامنے جب بھی سانحہ سرگودھا، لاہور یا جن جن علاقوں یا شہروں میں ایسے خوف ناک واقعات رونما ہوتے ہیں، وہاں ایک عام انسان کا خون و جگر بھی سوگ کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایسے درندوں کو عبرت کا سبق ضرور دینا چاہیے، بلکہ انہیں کڑی سے کڑی سزا دینی چاہیے۔ چونکہ کسی بھی معاشرے کو سدھارنے کے لیے جب تک قوانین کا اطلاق نہ کیا جائے، اس وقت تک روک تھام ناممکن ہے۔ لہذا اگر ہم اپنے معاشرے کو امن کا گہوارہ اور جنسی ہراسانی سے پاک رکھنا چاہتے ہیں، تو ہم سب کو مل کر ایسے حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ درندوں کو ایسے مکروہ کاموں کا موقع ہی نہ ملے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں