سفر صرف مقامات کو دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ روح کے نئے دریچے کھولنے اور اجنبی راستوں پر خود کو دریافت کرنے کا عمل ہے۔ جاپان—جسے دنیا ‘طلوعِ آفتاب کی سرزمین‘ کے نام سے جانتی ہے۔محض ایک ملک نہیں، بلکہ قدیم روایات اور حیرت انگیز جدت کا ایک ایسا تانا بانا ہے جو دیکھنے والے کو سحر زدہ کر دیتا ہے۔
میری نئی کتاب “طلوعِ آفتاب کی سرزمین: اکیس شہر، اکیس کہانیاں“ ایک ایسا ہی سفرنامہ ہے جو آپ کو میرے ساتھ جاپان کے ۲۱ مختلف شہروں کی گلیوں، صدیوں پرانے مندروں، جدید ترین شاہراہوں اور وہاں کے پُرخلوص لوگوں کے سچے قصوں کے سفر پر لے جائے گا۔
ٹوکیو کی تیز رفتار زندگی اور چکا چوند سے لے کر، کیوٹو کے پُرسکون اور تاریخی معابد تک؛ نارا کے خوبصورت ہرنوں سے لے کر، ہیروشیما اور ناگاساکی کے خاموش مگر بولتے ہوئے مزارات تک؛ ہر شہر کی اپنی ایک الگ خوشبو، ایک الگ مزاج اور ایک انوکھی کہانی ہے۔ اس سفرنامے میں آ
پ کو صرف جاپان کے خوبصورت مناظر ہی نظر نہیں آئیں گے، بلکہ وہاں کی تہذیب، لوگوں کی ڈسپلن پسندی، اور فطرت سے ان کی محبت کے وہ پہلو بھی ملیں گے جو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے اور محسوس کیے۔
یہ کتاب صرف ایک سیاح کی ڈائری نہیں، بلکہ اکیس مختلف شہروں کے پس منظر میں دھڑکتی اکیس جذباتی اور سچی کہانیاں ہیں، جو آپ کو جاپانی ثقافت کے سحر میں جکڑ لیں گی۔
اگر آپ بھی میرے ساتھ اس سحر انگیز سفر پر نکلنا چاہتے ہیں اور جاپان کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا چاہتے ہیں، تو ویب سائٹ پر موجود ان کہانیوں کو ضرور پڑھیے اور اپنے تاثرات سے نوازنا نہ بھولیں۔
سفر شروع ہو چکا ہے… کیا آپ تیار ہیں؟
“طلوعِ آفتاب کی سرزمین: اکیس شہر، اکیس کہانیاں“
قسط دوم:علینہ خان
سماجی اقدار اور کلچر کا پہلا سبق مجھے سامان لینے والے بیلٹ پر ملا جہاں لوگ اتنی خاموشی سے قطار میں کھڑے تھے جیسے کسی درگاہ پر حاضری دے رہے ہوں۔ جاپان میں اونچی آواز میں بولنا ایسا ہی گناہ ہے جیسے کسی لائیو شو میں فون بج جانا! سب لوگ اپنے اپنے کام میں مگن دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے جیسے کوئی گہرا راز شیئر کرنا ہو۔ میں نے جب اپنا سوٹ کیس بیلٹ سے اٹھایا تو وہاں موجود ایک جاپانی اہلکار نے لپک کر میری مدد کی اور ایسے جھک کر شکریہ ادا کیا جیسے میرا سامان اٹھانا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہو!
کسٹمز کاؤنٹر کی طرف بڑھتے ہوئے ہال کی بلند و بالا شیشے کی دیواروں سے باہر کا نظارہ اب پوری طرح نمایاں ہو چکا تھا۔ ٹوکیو کی صبح کی اجلی دھوپ ایئرپورٹ کے اسٹیل اور شیشے کے جدید ڈھانچے پر پڑ کر ایک عجب چمک پیدا کر رہی تھی۔ کسٹمز کے افسران نے بھی روایتی جاپانی مسکراہٹ اور ماتھے پر ہلکا سا خم دے کر میرے سامان کی کلیئرنس کی اور الوداعی کلمات کہے۔
ابھی مجھے ایئرپورٹ کے اندر ہی کچھ اہم ترین کام نمٹانے تھے کیونکہ جاپان جیسے ٹیکنالوجی کے گڑھ میں داخل ہونے کے لیے آپ کے پاس مقامی نیٹ ورک اور کرنسی کا ہونا لازمی ہے۔ میں سب سے پہلے ایئرپورٹ پر موجود ‘سیون الیون‘ (7-Eleven) کے اے ٹی ایم (ATM) کی طرف بڑھی۔ جاپان میں ہر بینک غیر ملکی کارڈز کو قبول نہیں کرتا مگر یہ ‘سیون بینک‘ کا اے ٹی ایم پوری دنیا کے مسافروں کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ میں نے وہاں اپنا آسٹریلین بینک کا کارڈ مشین میں ڈالا تو جاپانی ٹیکنالوجی کی خوبصورتی دیکھیے کہ مشین نے کارڈ ریڈ کرتے ہی سکرین پر انگریزی زبان کا آپشن دے دیا۔ میں نے ‘انٹرنیشنل کارڈز‘ کا بٹن دبا کر آسٹریلین ڈالرز کو جاپانی ین (Yen) میں تبدیل کیا اور نقد رقم حاصل کر لی۔ نقد رقم ہاتھ میں آتے ہی میں نے برابر میں بنے ڈیجیٹل کاؤنٹر کا رخ کیا جہاں سے میں نے جاپان کی مقامی ڈیٹا سم (SIM Card) خریدی۔ سم کو فون میں ڈالتے ہی انٹرنیٹ کی دنیا بحال ہو گئی اور میں نے فوراً جاپان کی سب سے مقبول ٹرین نیویگیشن ایپ ‘Navitime’ ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کر لی۔ جاپان کے اس انتہائی پیچیدہ ٹرین نیٹ ورک میں یہ ایپ کسی الہامی رہنمائی سے کم نہیں ہے جو آپ کو ٹرین کا پلیٹ فارم نمبر، کرایہ اور سیکنڈز کے حساب سے وقت بتا دیتی ہے۔
میں نے ایئرپورٹ کے بڑے الیکٹرانک ایگزٹ گیٹ سے جیسے ہی باہر قدم نکالا تو ٹوکیو کی پندرہ ڈگری سینٹی گریڈ کی خنک کراری اور تازہ ہوا نے میرے چہرے کو چھو کر میرا استقبال کیا۔ ہوا کا وہ جھونکا اتنا فرحت بخش تھا کہ میری آنکھیں بالکل کھل گئیں۔ اس ہوا میں جاپان کے ان اکیس شہروں کا سحر ثقافت کی خوشبو اور میرے مستقبل کے خوابوں کی چمک شامل تھی۔ میں نے جاپانی مٹی پر اپنی زندگی کا یہ پہلا اور تاریخی قدم رکھتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا۔ دل ہی دل میں اپنے بابا کی محبتوں کو یاد کر کے رب العزت کا کروڑوں بار شکر ادا کیا اور مسکرا کر سوچا کہ علینہ خان! اب جاپان کی یہ خوبصورت سرزمین اور پروفیسر صاحب کی وہ ریسرچ لیب تمہاری منتظر ہیں!
باہر نکلتے ہی میں نے ٹوکیو مونو ریل (Tokyo Monorail) کے اسٹیشن کی طرف قدم بڑھائے۔ ہمارے ہاں عام طور پر ٹرینیں زمین پر بچھی دو پٹریوں پر چلتی ہیں مگر جاپان کی یہ مونو ریل ایک بالکل ہی انوکھا اور سحر انگیز تجربہ تھا۔ یہ ٹرین روایتی پٹریوں کے بجائے زمین سے دسیوں فٹ اونچے بنے ہوئے کنکریٹ کے ایک اکیلے ستون یعنی ایک ہی پٹری (Single Rail) کے اوپر توازن برقرار رکھ کر دوڑتی ہے۔ جب یہ اونچے پلوں پر چلتی ہے تو کھڑکی سے باہر دیکھنے پر پٹری نظر ہی نہیں آتی اور یوں گماں ہوتا ہے جیسے آپ کسی تیز رفتار جھولے میں بیٹھے فضا میں تیر رہے ہوں!
جیسے ہی مونو ریل نے حرکت شروع کی تو ٹوکیو بے (Tokyo Bay) کا نظارہ میرے سامنے کھل گیا۔ نیچے گہرا نیلگوں پانی تھا جس پر بڑے بڑے بحری جہاز کھلونوں کی طرح تیر رہے تھے اور دور تک پھیلے ہوئے کنٹینر ٹرمینلز جاپانیوں کی صنعتی طاقت کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ مونو ریل جب اونچے پلوں سے گزرتی تو ایسا لگتا جیسے میں شہر کے سینے پر تیرتی ہوئی جا رہی ہوں۔ باہر کی آب و ہوا میں خنکی تھی مگر ریل کے اندر کا ماحول اتنا گرم اور آرام دہ تھا کہ باہر کی ٹھنڈ کا احساس تک نہ ہوا۔
ایئرپورٹ سے ہاسٹل تک کا یہ پہلا سفر ہر ایک کو اپنی جیب سے ہی ادا کرنا پڑتا ہے کیونکہ جاپانی قانون سب کے لیے برابر ہے۔ بغیر کسی رکاوٹ کے صرف پندرہ منٹ کے اس سحر انگیز سفر کے بعد مونو ریل نے مجھے ٹوکیو کے مرکزی اور مصروف ترین ٹرانزٹ ہب ہاماماتسوچو (Hamamatsucho Station) اسٹیشن پر لا اتارا۔ یہاں مونو ریل کا سفر ختم ہو گیا تھا۔ میں نے اپنے فون میں نیوی ٹائم ‘Navitime’ ایپ پر ڈائریکشنز دیکھیں جس
نے مجھے ٹوکیو کی سب سے مشہور لوپ لائن یعنی یامانوتے لائن(Yamanote Line) پر سوار ہونے کا اشارہ کیا۔ میں سوار ہو کر اپنے ہاسٹل کے قریبی اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گئی۔ جہاں پہنچ کر میری اگلی منزل یعنی کیو یونیورسٹی کا انٹرنیشنل ہاسٹل، جو کہ اب صرف چند منٹوں کی دوری پر تھا۔
جب میں اس مقامی ایپ کی دقیق رہنمائی میں بل کھاتی پرسکون گلیوں کو پار کرتی ہوئی ہاسٹل کے خوبصورت گیٹ کے سامنے پہنچی تو وہاں کا منظر میرے لیے کسی بڑے اور خوبصورت سرپرائز سے کم نہیں تھا!
یہ کیو یونیورسٹی کا بالکل نیا بننے والا شاندار ہاسٹل تھا جسے تاکانوا انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ ڈورمیٹری
(Takanawa International Student Dormitory) کہتے ہیں۔ یہ ہاسٹل ہمارے میتا کیمپس (Mita Campus) کے سب سے زیادہ قریب واقع تھا اور ٹوکیو کے دیگر کیمپسز تک رسائی کے لیے بھی اس کی لوکیشن بہت ہی آئیڈیل تھی۔ باہر سے ہی یہ عمارت سیکورٹی اور کرائم پریوینشن کے جدید ترین اور فول پروف انتظامات کی وجہ سے ایک محفوظ قلعے کی طرح نظر آ رہی تھی۔
سفر کی شدید تھکن اور بھاری سوٹ کیس کے ساتھ جیسے ہی میں نے ہاسٹل کے بڑے سیکیورٹی گیٹ کے پاس قدم رکھا تو سامنے کا منظر دیکھ کر میری پوری تھکن پل بھر میں غائب ہو گئی۔ گیٹ کے پاس کھڑی سفید اوور کوٹ اور اونی مفلر میں لپٹی سارہ بے تابی سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ سڈنی یونیورسٹی کے بعد ٹوکیو کی اس بالکل اجنبی سرزمین پر اپنی اس پیاری آسٹریلین دوست سارہ کو یوں سامنے کھڑا دیکھ کر میرے دل کو ایک عجیب سا شناسا سکون ملا۔
مجھے دیکھتے ہی سارہ کے چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ دوڑتی ہوئی میری طرف آئی۔ اس نے گرمجوشی سے مجھے گلے لگایا اور چہک کر بولی “علینہ خان! ویلکم ٹو ٹوکیو! مجھے معلوم تھا کہ تم اسی وقت پہنچو گی اس لیے میں کب سے یہاں گیٹ پر تمہارا انتظار کر رہی تھی!”
آسٹریلیا میں یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (UNSW) سے گریجویشن کے دوران ہم دونوں کا ریسرچ کا شعبہ اور دلچسپی ایک ہی تھی یعنی سائبر سیکیورٹی اور تعلیمی پس منظر سیم ہونے کی وجہ سے ہم دونوں کا انتخاب ایک ہی پروجیکٹ کے لیے ہو گیا۔ ہم دونوں نے ہاسٹل کے اس انتہائی پرسکون اور باادب ماحول کی پروا کیے بغیر ایک دوسرے کو گلے لگایا اور دیسی زبان میں خوشی کا وہ نعرہ بلند کیا کہ وہاں موجود جاپانی عملے نے مسکرا کر روایتی انداز میں سر جھکا کر مجھ سے میرا پاسپورٹ آئی ڈی اور یونیورسٹی کی آفیشل دستاویزات طلب کیں۔
ہاسٹل کا اندرونی نقشہ اور ڈسپلن دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ تاکانوا ڈورمیٹری کی راہداریوں میں اس قدر خاموشی اور پختہ ڈسپلن تھا کہ ہمارے سوٹ کیس کے پہیوں کی سرسراہٹ بھی واضح سنائی دے رہی تھی۔ یہاں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور زلزلے سے بچاؤ کے اتنے جدید انتظامات تھے کہ عمارت کا ہر گوشہ انسانی حفاظت کی گواہی دے رہا تھا۔ اس بین الاقوامی ہاسٹل میں دنیا بھر سے آئے ہوئے تقریباً دو سو سے زائد طلبہ مقیم تھے جو فرانس، ملائیشیا، جنوبی کوریا اور جرمنی جیسے ممالک سے یہاں اعلیٰ ریسرچ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ جاپانی اصولوں کے مطابق رات دس بجے کے بعد لاؤنج میں اونچی آواز میں بات کرنا یا کچرا الگ الگ کرنے کے ضابطے کی خلاف ورزی کرنا سخت منع تھا اور یہاں کا ہر باسی اس قانون کا دل سے احترام کر رہا تھا۔ راہداری سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ وہاں ایک بہت بڑا اور جدید کمیونٹی کچن اور ڈائننگ ہال بنا ہوا تھا جہاں دنیا بھر کے طلبہ بیٹھے کافی پی رہے تھے اور پڑھ رہے تھے جو ہر طرح کے جدید چولہے، مائیکرو ویو اوون اور بڑے بڑے ریفریجریٹرز سے لیس تھا۔ جہاں مختلف ممالک کے ذہین دماغ ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہو کر ثقافتوں کا ایک خوبصورت سنگم بنا رہے تھے۔
وارڈن سے بائیو میٹرک کارڈ اور ہمارے اپارٹمنٹ کی چابیاں ہاتھ میں آئیں تو ہم لفٹ کے ذریعے سیدھا تیسری منزل پر پہنچ گئے۔ جب ہماری چابی نے کلک کی آواز کے ساتھ اپارٹمنٹ کا ڈیجیٹل لاک کھولا تو سامنے ایک چھوٹا سا مشترکہ واش بیسن ایریا تھا۔ جہاں سے بائیں اور دائیں طرف دو الگ الگ نجی کمروں کے دروازے نکل رہے تھے۔ ایک کمرہ میری روم میٹ کا تھا اور دوسرا میرا۔ اپنے کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی میں نے سب سے پہلے جاپانی ساخت کا ہیٹر آن کیا کیونکہ جنوری کی خنک ہوا اب ہڈیوں میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔ ہیٹر کی گرمائش نے چند ہی منٹوں میں کمرے کو ایک مانوس سا سکون بخش دیا۔ میں نے اپنا بھاری سوٹ کیس ایک طرف رکھا اپنے جوتے اتار کر وہاں رکھی نرم جاپانی سلیپرز پہنیں اور بستر پر بیٹھ کر ایک طویل اور پرسکون سانس لیا۔ سفر کی تھکن ابھی حاوی ہو رہی تھی مگر سب سے پہلے اپنے بابا کو فون کر کے جاپان بحفاظت پہنچنے کی اطلاع دی اور ان کی دعاؤں کا شکر ادا کیا۔
اس کے بعد میں نے اپنا سوٹ کیس کھولا اپنے کپڑے قرینے سے الماری میں سجائے اور اپنی کچھ ضروری کتابیں اور لیپ ٹاپ اسٹڈی ٹیبل پر سیٹ کیا۔
دوپہر کے ٹھیک چار بجے جب میری آنکھ کھلی تو شدید بھوک سے میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ سڈنی سے ٹوکیو تک کی تھکن تو غائب ہو چکی تھی مگر اب کچھ فوری کھانا لازمی تھا۔ ہاتھ منہ دھو کر میں نے جلدی سے اپنے کمرے سے باہر قدم رکھا۔ میری آسٹریلین دوست سارہ ہمارے شیئرنگ اپارٹمنٹ میں تو نہیں تھی مگر وہ اسی تیسری منزل کے مرکزی کوریڈور کے پار بنے بڑے کمیونٹی لاؤنج میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی سارہ نے مسکرا کر کتاب بند کی اور بولی “علینہ! چلو اب باہر نکلیں کیونکہ مجھے پتا ہے تمہیں شدید بھوک لگی ہوگی اور باہر شام کا منظر بھی کمال کا ہو رہا ہے!”
ہم جلدی سے تاکانوا ڈورمیٹری کے محفوظ قلعے جیسے گیٹ سے باہر نکل آئے جہاں جنوری کی اس یخ بستہ رنگین شام میں ٹوکیو کی ہواؤں میں ایک عجیب سا جادو تھا۔ میں نے فوراً اپنے فون پر ‘گوگل میپس‘ (Navitime) کھولا اور قریب ہی موجود کھانے پینے کے مقامات تلاش کرنے لگی۔ اسکرین پر ایک چھوٹی سی گلی میں واقع ایک مقامی جاپانی فوڈ اسٹال کوشیکاٹسو‘ (Kushikatsu) یعنی ‘فش فرائی‘ کے نام سے نمودار ہوا۔ جہاں مچھلی کے ٹکڑوں پر بریڈ کرمبز (Breadcrumbs) لگا کر انہیں بالکل سامنے کھولتے ہوئے تیل میں سنہرا اور کرکرا فرائی کیا جاتا ہے۔
پڑھیے علینہ خان کا تحریر کردہ دل کو چھو لینے والا افسانہ “بے مول”۔
![]() |
| بے مول، افسانہ، اردو افسانہ، علینہ خان، سماجی کہانی، گھریلو ظلم، عورت، ماں، خاندان، ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل |
🔗 مکمل افسانہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔👉
اسٹال کاؤنٹر پر ایک بوڑھے جاپانی شیف نے مسکرا کر ہمیں خوش آمدید کہا۔ سارہ نے جلدی سے جاپانی زبان میں استفسار کیا کہ کیا یہ مچھلی حلال طریقے سے تیار ہوئی ہے؟ تو شیف نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس نے لوہے کی جالی سے بالکل گرما گرم خستہ اور دھواں اڑاتی ہوئی مچھلی کے ٹکڑے نکال کر ہمارے حوالے کیے۔ ہم نے اس پر ہلکی سی کٹی لال مرچ اور لیموں کا رس چھڑکا اور اسے کاغذ کے لفافے میں لپیٹ کر فوراً ہاسٹل کے ساتھ والے پارک کی طرف دوڑ لگا دی تاکہ غروبِ آفتاب کے منظر کو ضائع نہ ہونے دیں۔
پارک کے لکڑی کے بینچ پر بیٹھ کر جیسے ہی میں نے اس خستہ فرائیڈ فش کا پہلا نوالہ لیا تو اندر تک ایک حرارت دوڑ گئی۔ گھڑی پر پونے پانچ بج رہے تھے اور سامنے کا منظر دیکھ کر ہماری سانسیں تھم گئیں۔
ٹوکیو کے افق پر ڈھلتا ہوا سورج یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے پگھلا ہوا سونا انڈیل دیا ہو۔ آسمان پر نارنجی جامنی اور زعفرانی رنگوں کا ایک ایسا مسحور کن امتزاج تھا جس کی عکس بندی کسی کیمرے کے بس کی بات نہیں۔ ڈوبتے سورج کی آخری سنہری شعائیں جب جھیل کے ساکن نیلگوں پانی پر پڑیں تو یوں گماں ہوا جیسے کسی مصور نے کینوس پر تانبے کا رنگ بکھیر دیا ہو۔ افق پر پھیلی ہوئی وہ سرخی کسی دلہن کے زعفرانی دوپٹے کی مانند تھی جس نے شہر کی مصروف ترین عمارتوں کو بھی ایک دھیمی سی تقدس بھری خاموشی میں لپیٹ رکھا تھا۔ اس جدید شہر کے قلب میں قدرت کا یہ پرسکون رنگ روح کی گہرائیوں میں اتر رہا تھا جبکہ فضا میں اڑتے ہوئے زرد پتے اس شام کے سحر میں ایک اداس مگر دلفریب نغمگی گھول رہے تھے۔
جاپانی شام کی اس افسانوی عکس بندی کو دیکھتے دیکھتے جیسے ہی گھڑی نے پونے پانچ کا ہندسہ چھوا، سورج ایک آخری چمک کے ساتھ عمارتوں کی اوٹ میں روپوش ہو گیا اور سرد ٹوکیو پر نیلگوں اندھیرا چھانے لگا۔ فرائیڈ فش ختم کر کے میں نے سارہ کی طرف دیکھا جس نے مسکرا کر میرا ہاتھ تھاما اور بولی “علینہ! سرد ٹوکیو کی یہ پہلی شام مبارک ہو۔“ ہم دونوں نے مل کر طے کیا کہ آج رات کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا اور کس طرح اگلے دو دن میں ہمیں اس شہر کو ایکسپلور کرنا ہے۔
ہم پارک کے خاموش راستوں سے نکل کر کیو یونیورسٹی کے تاریخی میتا کیمپس کے بالکل سامنے والی مرکزی سڑک پر آ گئے۔ پانچ بجتے ہی ٹوکیو کی سڑکیں رنگ برنگی روشنیوں کے سیلاب میں نہا چکی تھیں۔ سڑک کے دونوں طرف لگی خوبصورت خودکار وینڈنگ مشینز اندھیرے میں جگمگا رہی تھیں۔ کیو یونیورسٹی کے بالکل قریب ہی شیبا پارک کا وہ مشہور راستہ شروع ہوتا ہے جہاں سے ٹوکیو کی سب سے معتبر پہچان یعنی ٹوکیو ٹاور بالکل سامنے نظر آتا ہے۔ جب ہم وہاں سے گزرے تو رات کے اندھیرے میں ٹوکیو ٹاور نارنجی اور سرخ روشنیوں میں دہمک رہا تھا جسے دیکھ کر ہم دونوں سہیلیوں کی زبان سے بیک وقت واہ نکل گیا۔
ہم پارک کے کچے راستے پر آگے بڑھے جہاں رات کی سرد ہوا کے جھونکے چہرے کو چھو رہے تھے اور زمین پر گرے خشک پتے ہمارے قدموں تلے چرچرا رہے تھے جبکہ سامنے وہ عظیم الجثہ لوہے کا سرخ اور سفید ڈھانچہ کسی روشن مینارۂ نور کی طرح آسمان کو چھو رہا تھا۔ جس کی تیز نارنجی روشنی پارک کے قدیم درختوں کے پتوں سے چھن کر زمین پر روشنی اور سایوں کا ایک عجیب سحر انگیز تماشا برپا کر رہی تھی۔ ٹاور کے بالکل دامن میں پہنچ کر جب سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو یوں لگا جیسے روشنیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو سیدھا ستاروں تک جا رہا ہے اور اس کے عین نیچے پانچ منزلہ عمارت FootTown روشنیوں سے جگمگا رہی تھی جس کے مرکزی شیشے کے دروازوں سے رنگ برنگے سیاح اندر باہر آ جا رہے تھے۔
”علینہ! ذرا دیکھو تو سہی، ایسا لگ رہا ہے جیسے پورے ٹوکیو کا حسن اس ایک ٹاور میں سمٹ آیا ہو! چلو نا یار، آج اسے اندر سے چل کر دیکھتے ہیں!” سارہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے اشتیاق سے کہا۔
میں نے ٹاور کی حیرت انگیز بلندی کو دیکھا اور ذرا ہچکچاتے ہوئے جواب دیا، “سارہ، رات کافی ہو چکی ہے اور یہاں سے اندر جانے کا مطلب ہے اچھا خاصا وقت لگ جانا، کیوں نہ ہم باہر سے ہی اس کا نظارہ کریں اور پھر کبھی آئیں؟“
سارہ نے فوراً میرا ہاتھ جھٹکا اور اصرار کرتے ہوئے بولی، “مجھے نہیں پتہ، اب آ ہی گئے ہیں تو اندر کا حال بھی دیکھ کر جائیں گے۔“
میں نے ہار مانتے ہوئے کہا، “اچھا پھر ایک کام کرو، تم ذرا آگے جا کر ٹکٹ کاؤنٹر سے ساری معلومات لے آؤ کہ رات کے اس پہر اندر جانے کا کیا طریقہ ہے اور ٹکٹ کتنے کا ہے؟“
سارہ خوشی سے چہکتی ہوئی تیز قدموں سے ٹاور کے نیچے بنی عمارت کے داخلی راستے کی طرف بڑھ گئی۔ جب وہ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں دو ٹکٹ چمک رہے تھے، جن پر فی ٹکٹ پندرہ سو ین درج تھا۔ اس نے مسکرا کر ٹکٹ میری طرف بڑھائے اور ہم نے اندر کی جانب پیش قدمی کی۔
اس عمارت کو FootTown کہا جاتا ہے۔ یہ عمارت دراصل ٹوکیو ٹاور کا دل ہے، جہاں سے اوپر جانے کا راستہ نکلتا ہے۔ فٹ ٹاؤن کے چمکتے ہوئے شیشے کے دروازوں کو پار کر کے جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے، جدید ٹیکنالوجی اور رنگوں کی ایک نئی دنیا نے ہمارا استقبال کیا۔ باہر کی سردی کے برعکس اندر کا ماحول کافی گرم اور توانائی سے بھرپور تھا، جہاں جاپانی نفاست ہر کونے سے چھلک رہی تھی۔ چاروں طرف دلفریب روشنیوں میں نہائی ہوئی دکانیں تھیں، جہاں جاپان کی روایتی گڑیاں، ٹوکیو ٹاور کے خوبصورت چھوٹے ماڈلز اور چمکدار سووینئرز اتنے سلیقے سے سجائے گئے تھے کہ دیکھنے والے کی نظریں وہیں تھم جائیں۔ ہوا میں تازہ کافی اور جاپانی بیکری کی اشتہا انگیز خوشبو بسی ہوئی تھی، جو وہاں بنے جدید کیفے اور ریستورانوں سے آ رہی تھی۔ سیاحوں کا ایک بین الاقوامی ہجوم وہاں موجود تھا؛ کوئی ہنستے ہوئے تصاویر کھنچوا رہا تھا تو کوئی خریداری میں مصروف تھا، جس سے پوری عمارت میں ایک خوبصورت گہما گہمی کا احساس تھا۔
اسی سحر انگیز چہل پہل کے بیچ سے گزرتے ہوئے ہمارا اگلا پڑاؤ وہ مخصوص راہداری تھی جو لفٹ کی طرف لے جاتی تھی۔ اس راستے پر دھیمی نیلی اور سفید روشنیاں نصب تھیں، جو مسافروں کو یہ احساس دلاتی تھیں کہ وہ زمین سے کٹ کر کسی خلائی سفر پر روانہ ہونے والے ہیں۔ اسی پرسرار اور پرجوش ماحول میں قدم بڑھاتے ہوئے ہم اس تیز رفتار لفٹ کے سامنے پہنچ گئے، جہاں سے بلندی کا اصل سفر شروع ہونا تھا۔
ایک سو پچاس میٹر کی بلندی پر واقع Main Deck تھا، جو ٹوکیو ٹاور کا وہ دلکش حصہ ہے جہاں سے پورے شہر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی لفٹ کے چمکدار شیشے کے دروازے کھلے، ایک خوش اخلاق جاپانی گائیڈ نے روایتی نفاست سے سر جھکا کر ہمارا استقبال کیا۔ ہم جیسے ہی اندر داخل ہوئے اور دروازے بند ہوئے، تو ایک دھیمی سی موسیقی کے ساتھ لفٹ نے زمین کو چھوڑ دیا۔ وہ کوئی عام لفٹ نہیں تھی بلکہ ایک تیز رفتار خلائی گاڑی کی مانند تھی، جو سیکنڈوں میں بلندی کی طرف پرواز کر رہی تھی۔
لفٹ کے شیشے دار حصے سے جب ہم نے باہر دیکھا، تو فٹ ٹاؤن کی عمارت اور نیچے کھڑے لوگ پلک جھپکتے ہی اتنے چھوٹے ہو گئے جیسے کوئی کھلونوں کی دنیا ہو۔ دل کی دھڑکنیں اس تیز رفتار لفٹ کے ساتھ بڑھنے لگیں اور کانوں میں ہوا کے دباؤ کا ہلکا سا احساس ہوا، لیکن اس سے پہلے کہ خوف کا خیال بھی آتا، محض چند سیکنڈوں میں ایک ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ لفٹ رک گئی اور اس کے دروازے کھل گئے۔
سامنے Main Deck کا وہ جادوئی منظر تھا جہاں روشنیوں کا ایک لامتناہی سمندر ہمارا منتظر تھا اور ایسا لگتا تھا جیسے ہم زمین کی حدود کو پار کر کے آسمان کے کسی چمکتے ہوئے حصے میں پہنچ گئے ہیں۔ وہاں قدم رکھتے ہی ایسا لگا جیسے وقت تھم گیا ہو اور ہم کسی مادی دنیا سے نکل کر روشنیوں کے ایک عظیم الشان محل میں آ گئی ہیں۔ شیشے کی بڑی بڑی، منزل سے لے کر چھت تک پھیلی شفاف دیواریں ہمارے سامنے تھیں، جن کے پار رات کے اندھیرے میں لپٹا ٹوکیو کسی چمکتی ہوئی کہکشاں کی طرح دور افق تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ منظر اتنا وسیع اور سحر انگیز تھا کہ کچھ دیر کے لیے ہم دونوں ہی بالکل ساکت کھڑی رہ گئیں، جیسے زبان سے کوئی لفظ نکالنا اس خوبصورت خاموشی کی توہین ہو۔
سڑکوں پر دوڑتی ہوئی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس اور ٹیل لائٹس مل کر سرخ اور سفید روشنیوں کی طویل لکیریں بنا رہی تھیں، جو یوں محسوس ہوتی تھیں جیسے شہر کی رگوں میں کوئی چمکدار مائع دوڑ رہا ہو۔ فلک بوس عمارتوں کے دفاتر اور گھروں کی کھڑکیوں سے چھنتی رنگ برنگی روشنیاں اس اندھیری رات میں ہیروں کی طرح جڑی دکھائی دیتی تھیں۔ یہاں کی بڑی بڑی کھڑکیوں سے دور افق پر دیکھنے پر پتا چلا کہ رات کے اس پہر ٹوکیو کا حسن کس قدر وسیع ہے۔ یہاں سے Tokyo Bay کا پُرسکون پانی اندھیرے میں چمک رہا تھا اور اس پر سے گزرتا ہوا Rainbow Bridge روشنیوں کا ایک جادوئی ہار پہنے دکھائی دے رہا تھا اور پورا شہر ایک زندہ اور سانس لیتی ہوئی کہکشاں بن چکا تھا۔
جاری ہے۔۔۔


.jpg)