نماز کا منفرد پہلو
سید صغیر حسین جعفری
میری عادت ہے کہ جب میں قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہوں، تو اللہ سبحانہ و تعالٰی کے حکم کے مطابق اس زیرِ تلاوت سورہ کے مفاہیم و معانی پر غور و فکر ضرور کرتا ہوں۔ کل میں تلاوت کر رہا تھا تو سورہ المعارج کی ایک آیت پر آ کر رک گیا؛ بات انسان کی تخلیق کے بارے میں تھی کہ انسان پیدائشی طور پر کیسے اور کون سی کیفیت لیے ہوئے پیدا ہوا۔ ایسی کوئی بھی آیت آئے، تو میں رک کر تھوڑا سا سوچنے لگتا ہوں۔
آیت تھی:
“حقیقت یہ ہے کہ انسان میں بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔“
میں نے انگریزی ترجمہ دیکھا، تو ”ھلوعا“ کا مطلب اینگوئش (Anguish) لکھا تھا۔ اب اینگوئش کا مطلب اردو میں سمجھوں تو یہی لگتا ہے کہ ایسا انسان جس میں بے چینی، تشویش، یا بے صبری سی ہو۔ بہرحال، میں نے اسے بے صبری کے معنوں میں لے لیا۔ اگلی آیت کچھ اور بھی معنی خیز تھی:
“جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے۔“
”جزوعا“ کا لفظی معنی تو بے چین ہے، تو انگریزی میں ترجمہ بھی قریب قریب ہی تھا؛ امپیشنٹ (Impatient) مطلب بے چین۔ یعنی تکلیف پہنچے تو انسان چاہتا ہے بس یہ ابھی رفع ہو جائے، بس ختم ہو جائے کسی طرح۔
“اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہت بخیل و کنجوس بن جاتا ہے۔“
”منوعا“ یعنی کنجوس۔ جب اسے کوئی نعمت ملتی ہے، تو اس کا دل چاہتا ہے بس اس کے پاس ہی رہے وہ نعمت، کسی اور کو نہ مل جائے۔
جو رلا دینے والی آیت تھی، وہ بعد میں آئی:
“مگر وہ نمازی ایسے نہیں ہیں۔“
یعنی نماز پڑھنے اور قائم کرنے والے لوگوں کے علاوہ، بے نمازی انسان کی حالت اسی طرح کی ہے۔ انسان کی یہ پیدائشی حالت صرف اس صورت میں بدل سکتی ہے، جب وہ نماز قائم کر لیتا ہے۔
مجھے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوئی یہ سوچ کر! میں پہلی تین آیات پڑھ کر حیران ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہی بنائے انسان کی خامیاں گنوا رہا ہے، اس کے نقص بتا رہا ہے۔ لیکن جب ”الّا المصلّین“ پڑھا، تو دل مطمئن سا ہو گیا کہ ان خامیوں کو پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے راستہ رکھا ہوا ہے؛ کہ اگر کوئی نماز پڑھتا ہے، نماز قائم کرتا ہے، تو وہ ”ھلوعا“، ”جزوعا“ اور ”منوعا“ کی دلی اور جذباتی حالتوں سے نکل سکتا ہے۔
اور میں تصور کرنے لگا، کہ انسان سے تشویش، بے چینی اور کنجوسی نکل جائے تو کیسی حالت ہوتی ہے انسان کی؟ صابر و شاکر، مطمئن و پرسکون!
یعنی نماز کی برکت سے اگر انسان کے دل سے تشویش، بے چینی اور کنجوسی نکل جائے، اور اس کی پریشانی، گھٹن اور تنگدلی دور ہو جائے، تو انسان کتنا پرسکون ہو جاتا ہے؛ اس میں کیسی وسعت اور کیسی کشادگی آ جاتی ہے۔ انسان کی طبیعت کتنی ہلکی پھلکی ہو جاتی ہے، اور اس کے دل پر بوجھ ڈالنے والی چیزیں کس طرح غائب ہو جاتی ہیں۔
بے شک نماز ایک عظیم نعمت ہے، جو آج کے دور میں انسان کی پریشانیوں کو دور کر کے اسے سکون و اطمینان کی زندگی دیتی ہے۔
