جاپان میں جب مارچ کے آخری ایام کی سرد ہواؤں میں کچھ نرمی آتی ہے، تو ایک جادوئی منظر جنم لیتا ہے۔ میلوں تک پھیلے درختوں پر لدی سفید اور گلابی پنکھڑیاں جب ہوا کے دوش پر رقص کرتی ہوئی زمین کو ایک مخملی قالین میں بدل دیتی ہیں، تو دیکھنے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی خوابناک بستی میں آ گیا ہو۔ یہ ساکورا یا چیری بلاسم کا موسم ہے۔
وہ موسم جس کا انتظار جاپانی قوم سارا سال کرتی ہے۔ لیکن کیا یہ محض پھولوں کی خوبصورتی ہے جو انہیں دنیا سے ممتاز کرتی ہے؟ یا اس کے پیچھے کوئی گہرا فلسفہ چھپا ہے؟
تصور کیجیے، ٹوکیو کی مصروف سڑکوں کے درمیان بہتی سمیدا ندی کا کنارہ ہو، یا کیوٹو کے قدیم مندروں کے خاموش صحن ہر طرف ساکورا کی پنکھڑیاں برف باری کی طرح گر رہی ہوتی ہیں۔ جاپانیوں کے لیے یہ منظر محض تفریح نہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ ہے۔ وہ اپنے تمام تر مصروفیات چھوڑ کر ان درختوں کے نیچے ڈیرے ڈال لیتے ہیں، جسے جاپانی زبان میں ہانامی کہا جاتا ہے۔ خاندان، دوست اور دفتر کے ساتھی مل کر بیٹھتے ہیں، ہنستے بولتے ہیں اور اس لمحاتی خوبصورتی کو اپنی آنکھوں میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ساکورا کا پھول اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ صرف چند دن یا ایک ہفتہ ہی زندہ رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ مرجھاتا نہیں بلکہ اپنی بھرپور خوبصورتی میں ہی شاخ سے ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔
جاپانیوں کے نزدیک یہ انسانی زندگی کی بہترین مثال ہے۔ زندگی بھی ساکورا کی طرح حسین مگر مختصر ہے۔ یہ پھول ہمیں سکھاتے ہیں کہ جدائی اٹل ہے، اس لیے جو لمحات میسر ہیں انہیں بھرپور طریقے سے جینا چاہیے۔ یہ فلسفہ جاپانیوں کے صبر، استقامت اور ہر حال میں مسکرانے کی عادت کو جلا بخشتا ہے۔
جاپان میں اپریل کا مہینہ صرف بہار کا آغاز نہیں ہوتا، بلکہ یہ ان کے نئے تعلیمی سال اور نئے کاروباری سال کا آغاز بھی ہے۔ اس لیے ساکورا کا کھلنا ایک نئی شروعات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب پرانا موسم رخصت ہوتا ہے اور نئے پھول کھلتے ہیں، تو یہ جاپانیوں کے لیے امید، ترقی اور نئے عزم کا پیغام لاتا ہے۔ طلبہ اپنے نئے اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں اور ملازمین نئی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں، اور یہ سب کچھ ساکورا کے سایوں تلے ہوتا ہے۔
آج کی مادی دنیا میں، جہاں ہم ٹیکنالوجی اور دوڑ دھوپ میں گم ہو چکے ہیں، ساکورا ہمیں رکنے اور محسوس کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ پھول ہمیں بتاتے ہیں کہ طاقت اور غرور عارضی ہیں، اور اصل خوبصورتی عاجزی اور بچھڑ جانے میں ہے۔ جاپانی قوم نے ان پھولوں کو اپنی ثقافت کا حصہ بنا کر دراصل فطرت کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔
ساکورا کا یہ موسم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف کامیابیوں کے پیچھے بھاگنے کا نام نہیں، بلکہ ان چھوٹے چھوٹے لمحات کو جینے کا نام ہے جو ہوا کے جھونکے کی طرح آتے ہیں اور یادیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
تحریر: علینہ خان

