محترمہ علینہ خان صا حبہ، السلام علیکم، آج مئی اور جون دونوں شمارے دیکھنے کا موقع ملا اور ایک خوشگوار حیرت کا احساس ہوا۔ دونوں شماروں کی انتہائی خوبصورت اور منظم پیشکش دیکھ کر یقین آتا ہے کہ ان کے پس منظر میں انتھک محنت کے ساتھ ساتھ نیک نیتی اور زبان و بیاں کی ترویج کا پرخلوص جذبہ کار فرما ہے۔ آپ اور آپ کی ساری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ سر دست میں نے دونوں شماروں کی ورق گردانی کی ہے اور ایک دو تحریریں پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ رضیہ ترین کا "عید کی ہانڈی" ہمارے معاشرے کا نہایت گھناونا چہرہ پیش کرتا ہے۔ اس چھوٹی سی تحریر نے دکھی کردیا۔ فریال فیروز کا "قربانی کی معراج" انسانیت کی معراج ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے عظیم لوگ اس دور میں بھی مل سکتے ہیں۔ مئی کے شمارے میں ایک غلطی نظروں سے گزری "منوں تلے مٹی میں جا سوئی" پروف ریڈنگ توجہ طلب ہے۔ جولائی میں ایک خاکہ ارسال کیا تھا۔ ایب کے ایک افسانہ ارسال کر دونگا، انشاءاللہ۔
داود کاکڑ (ڈینور)
0
